
رنگ نو کے تحت مقابلہ "مضمون نویسی 2023ٗٗٗ"میں ضلع بہاولپور سے اس تحریر کو حوصلہ افزائی کے انعام کے لیے منتخب کیا گیا
تہمینہ جبیں /بہاولپور
ابھی چند دنوں میں یوم آزادی اپنے پورےجوش وخروش کے ساتھ منایا جائےگا،آخر دوسری قوموں کو بھی علم ہوکہ ہم زندہ قوم ہیں۔ بڑے پیمانے پر مختلف اداروں میں وطن سے محبت کا اظہار کیا جائے گا۔
تعلیمی اداروں میں بھی، بچوں میں حب الوطنی کا جذبہ پروان چڑھانےکےلئےپروگرامز منعقد کئےجائیں گے۔ بچےبڑھ چڑھ کرحصہ لیں گے۔ پروگرام تلاوتِ قرآن پاک اور نعت شریف سے شروع کیا جائے گا۔ تمام بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈے ہونا ضروری ہو گا۔ تقاریر بھی ہوں گی لیکن وہی چند مخصوص باتیں دہرائی جائیں گی۔ تقاریر کے دوران خاموشی کا فقدان ہو گا لیکن ملی نغمہ شروع ہوتے ہی بچوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑے گی اور وہ بھی نغمےکے ساتھ ساتھ لہرائیں گے اور اگر ملی نغمے کی پرفارمینس سٹیپ ڈانس کے ساتھ ہو تو بچوں کی خوشی اور خاموشی دیدنی ہو گی۔ یہ ڈانس پرفارمینس آپ کو تقریباً ہر پروگرام میں نظر آئے گی۔ نغمے میں موسیقی کے آلات کا استعمال جس ہائی لیول (چیخ و پکار) پر ہو گا، بچوں کا بلڈ پریشر (جوش و خروش) اسی عروج پر آ جائے گا۔ بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہو گا کہ وطن سے محبت کا اظہار بھی بڑھے گا۔
سوال یہ ہے کہ ہم بچوں کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں؟
کیا یہ وہی عروج ھے جس کا ذکر اقبال نے کچھ اس انداز میں کیا ہے۔
عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتےہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
مغربی تہذیب کے نقصانات کو اقبال نے تقریباً ایک صدی پہلے بھانپ لیا تھا اوراپنے اشعار میں ان سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ ہمیں وہ راستہ بھی دکھا دیا جس پر چل کر ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔
بقول اقبال
نہ ڈھونڈ اس چیزکو تہذیب حاضر کی تجلی میں
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی
کیا بحثیت مجموعی ہم ان نوجوانوں میں وہ عقابی روح بیدار کر سکے کہ جس کے بیدار ہونے پر نوجوانوں کو اپنی منزل آسمانوں پر نظر آئے۔
ہم آج کے نوجوان کو اقبال کا شاہین بنانے میں کیوں ناکام ہیں؟ رہنمائی کی ذمہ داری جوخصوصاً والدین اوراساتذہ کے کاندھوں پر ہے ہم نے کس حد تک نبھائی؟ہم اس نوجوان کو اقبال کے تصور خودی سے کیوں آشنانہ کروا سکیں کہ آج وہ یوں بے خود ہوا جا رہا ہے ۔
یوز چینلز پر یہی خبریں ہوں گی کہ پوری قوم نے یوم آزادی پورے ملی جوش و جذبے سے منایا اور اپنے دشمنوں کو یہ سبق دیا کہ ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کریں۔ مینار پاکستان اور دوسرے اہم تاریخی مقامات کی سیر کو لوگ جوق در جوق تشریف لائیں گے۔ رات کو پورے ملک میں چراغاں کا اہتمام بھی ہو گا جسے دیکھنے کے لئے عوام ٹریفک سے زیادہ موجود ہو گی۔ آخر کیوں نہ ہو ہم زندہ قوم ہیں لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا انہی تاریخی مقامات اور سڑکوں پر جو واقعات ہوئے ہیں اس پر دل چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے۔
"ہم مردہ قوم ہیں، ہم مردہ قوم ہیں"
ہمارے دل مردہ ہو گئے ہیں۔ جدت پسندی میں ہم نےبرائی کو مختلف نام دےدیئے ہیں۔
ہم نے دلوں کو زندہ کرنا ہےاور کھویا ہوا مقام واپس لانا ہے۔
یہاں بھی اقبال یاد آتے ہیں۔
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ھے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
صرف سالانہ سطح پر وطن سے محبت کےاظہار کی بجائے روزانہ کی بنیادوں پریہ کام شروع کریں۔ ان جوانوں کی جوانی کی عبادت تو انہیں ان سات لوگوں میں دوسرے نمبر پر لا کھڑا کرتی ھے جنہیں روز قیامت اللّٰہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے جگہ ملے گی۔ خود میں اور اس نسل میں خودی کی صفت پیدا کریں کہ جس کے بارے میں علامہ اقبال فرما گئے۔
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں کبریائی
زمین و آسمان و کرسی و عرش
خودی کی زد میں ھے ساری خدائی
اللّٰہ تعالیٰ کو یاد رکھیں گے تو اللّٰہ تعالیٰ بھی ہمیں یاد رکھے گا ورنہ اپنے رب کو بھولنے کی صورت میں اللّٰہ ہمیں اپنے آپ سے بھی غافل کر دے گا۔
اپنی تحریر کا اختتام علامہ اقبال کے اس پیغام پر کروں گی۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد




































