
عالیہ عثمان
رات کےدو بجے انوار صاحب گھبرائے ہوئے گھرمیں داخل ہوئے اور گھر میں موجود اپنےبوڑھے ماں باپ اور گھر کی خواتین جن میں ان کی بیگم فریدہ
خاتون اور دو بہنیں شامل تھیں،انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ہمیں ابھی یہاں سےنکلنا ہوگا ادھر دلی کے اطراف میں ہندو بلوائیوں نےدھاوا بول رکھا ہے کسی بھی وقت یہاں پہنچ کرتباہی مچاسکتے ہیں۔
فریدہ بیگم نےاتنے ارمانوں سے سجائے ہوئے اپنے پیارے گھر کو دیکھا اس پیارے پر سکون گھرکو چھوڑ کرجانا سوہان روح تھا۔ انہوں نے صندوقچی میں سب کی ضرورت کی کچھ چیزیں رکھیں اورسب خواتین اور مرد پاکستان ہجرت کے لیے تیارکھڑے تھے۔
رات کےتین بجےسب ایک نیاعزم لےکراللہ پر بھروسہ کر کےغم اور خوشی کے ملے جلے جذبات لیےاسٹیشن پہنچے وہاں کارش اورافراتفری دیکھ کر ہمت جواب دینے لگی لیکن انوار صاحب صبر اور حوصلے کی تلقین کر تے رہےاور نئے وطن پاکستان کے گن گاتے رہے ٹرین دہلی سے روانہ ہوئی ابھی کچھ ہی دور چلی تھی بلوائیوں نے حملہ کر دیا۔ مردوں نے ٹرین میں موجود خواتین بزرگوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگا دی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے سارے دم سادے بیٹھے رہے۔انوار صاحب اور دیگرمرد سب کی حفاظت کر رہے تھے۔ایک سکھ کی کرپان انوارصاحب کے سینے میں اتر گئی انہوں نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئےسب کوسیٹوں کے نیچے بیٹھنے کا کہا اور وہیں گر گئے۔ ایک لاش کااور اضافہ ہو گیا۔ کافی لوگ لاشوں کے نیچے دبے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے ۔ کسی کی ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں ۔ کسی کے بازو ۔ قیامت صغراں کا منظر تھا فریدہ بیگم نے ہمت سے کام لیتے ہوئے ٹرین کے ڈبے میں موجود زندہ بچنےوالے افراد کو بہت حوصلے اور ہمت سے سنبھالایہ لٹے پٹے اورزخموں سے چور مہاجرین پیارے وطن کی سرحد پر پہنچتے ہی سارے غم ،دکھ درد بھول کر اپنی پاک سرزمین پر گرکر چومنے لگے اور مٹھیوں میں اس کی مٹی بھر کر انکھوں سے لگاتے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے…
سب اپنے پیاروں کو لاشوں کے بیچ سے نکال کرگلے ملتے ہوئے انکھوں میں امیدوں کے دیۓ جلائے نئے پاکستان کی مبارکباددے رہے تھے اور سب کے دل اس بات کا اقرار کر رہے تھے۔
مٹی سے سچا پیار ہمیں ،اب پیار کے رنگ ابھاریں گے
اب خون رگ جاں بھی دے کر، موسم کا قرض اتاریں گے




































