
نائلہ تبسم /سیالکوٹ
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرامے،فلم اورتھیٹر کسی بھی ملک کی ثقافت، لباس اورتہذیب و روایات کی عکاسی کرتےہیں ۔ ایک دور میں پی ٹی وی کا عروج
کا تھا جب شام ہوتے ہی ایک کمرے میں اکٹھےسب شام کی چائے کے ساتھ ڈراموں پر بھی سیر حاصل گفتگو کرتے کرداروں کا لب ولہجہ خالص اور پراثرتھا مگروقت گزرنےکے ساتھ ساتھ چینلزبھی بڑھتے گئےاورہمارے ڈراموں کا معیاربھی پست سے پست ہوتا گیا ۔
آج ڈراموں میں کہیں حلالہ کاغلط تصورہے تو کہیں سالی اور بہنوئی کےعشق کی داستان ہے۔ کہیں ساس نند کا ظالم توکہیں بہو سب کو انگلیوں پر نچانے والی ہے۔کوئی اورموضوع تو گویا ہے ہی نہیں الفاظ ایسےبے باک کہ بڑوں کی موجودگی میں دیکھنے کے قابل ہی نہیں۔
آج کل جیو پرایک ڈرامہ "صرف تم" دکھایا جا رہا ہے جس نے بےحیائی کےگویا تمام ریکارڈ توڑ دیےہیں ۔ ڈرامے میں بیوی صرف خاوند کے سامنے شراب نوشی ہی نہیں کر رہی بلکہ پورے ڈرامے میں لباس، زبان اور بڑوں کے ادب کی پامالی نظر آرہی ہے۔ ہم نوجوان نسل کو کیا سیکھا رہے ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر سچ بتائیں۔ کیا اس طرح کے فحش اور لچر ڈرامے ہماری بہنوں، بیٹیوں اوربہوؤں کو دکھانےکے قابل ہیں؟ ہم اپنی نسلوں اور معصوم بچوں کےذہنوں پر کیا نقش کر رہے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطےسوچیے اور اس طرح کے فحش ڈراموں اور فلموں کا بائیکاٹ کریں ۔اپنے گھر والوں کوان کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ پیمرا کوخطوط لکھیں قرآن کریم سے مثال دیں کہ شیطان نے سب سے پہلے آدم کی حیا پرحملہ کیا تھا جس قوم کے اندرسےحیا ہی اٹھ جائے وہاں کوئی خیر باقی نہیں رہتی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمانوں کی حفاظت فرمائے (آمین)




































