
عیشۃ را ضیہ شہزاد
مجھے ہےجان سے پیاری یہ صبح جس کے لیے
بہا ہے میرے ستاروں کی انجمن کا لہو
گرمی اپنے اختتام کو پہنچی تھی کہ سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ تیز ہواؤں کا پھیراتھا ۔ہرسال کی طرح آج 14 اگست کا دن بھی خوش گواراورپر
سکون تھا۔ چاروں طرف بچوں کےمجمے کاشور،باجوں کی بےجا آوازیں ،مزے دارپکوانوں کی خوشبو،ہری رنگ کی جگ مگ کرتی ہوئی بتیاں اورچھتوں پر لہراتےپرچم لوگوں کی محبت کااظہار کررہا تھا۔
یقیناًآج کےدن تو ہرپاکستانی خوش ہوگامگردادا، میری نظر میں وہ واحد شخص تھےجو حسب معمول آج اداس تھے۔ ہم سب بہن بھائیوں کویہ ٹورہتی کہ آخرکیا بات داداکوآج کے دن اداس کرتی ہے؟
اس بات کا علم بابا کو بھی نہ تھا مگربابا نے کبھی دادا سے پوچھنے کی ہمت بھی نہ کری۔میں موسیٰ اور اسما سے بڑا تھا۔ اس لیے دادا کا چہیتا پوتاتھا مگر جرات ہی نہیں کرپایا کہ دادا کی خاموشی کاراز معلوم ہو۔بالآخر ہم سب ہی اس مقصد میں ناکام رہے۔میری شادی سےچند سال پہلےدادا کا انتقال ہوگیا جس کےبعد مجھے یہ موقع ملا کہ دادا کا کمرہ میں خالی کردوں۔
دادا کے سامان میں موجود جہانگیرچاچا کا رومال، ان کی پھٹی پرانی تصاویراورچند ایک کتابیں تھیں۔ دادا کا سامان بہت ہی مختصراوردلچسپ تھا کیونکہ میں زیادہ ترچیزیں چاچا کی ہی تھیں۔ ساتھ ہی دادا کےخط بھی تھےجو وہ اکثر چاچا کو لکھا کرتے تھےمگر اپنے پاس ہی رکھ لیا کرتےتھے۔ دادا کےخط پڑھنے کےبعد گھرمیں وہ واحد شخص میں تھا جس کو دادا کی خاموشی اوراداسی کاسبب معلوم تھامگر ڈھیروں سوالوں نےمجھے تو جیسے الجھا دیا ہو۔
دادا نے یہ خط چاچا کو کیوں نہیں بجھوائے ؟چاچا کے انگلینڈ جانے پر دادا نےان سے ملنا جلنا کیوں چھوڑدیا ؟اخر کوئی باپ ایک اولاد کو خود سے دور اور ایک کو ساتھ کیسےکرسکتا ہے؟اگر دادا کو چاچا سے اتنی ہی محبت تھی تو ان کوجانے سے کیوں نہیں روکا؟
مگر ہاں۔۔۔۔۔۔جب تک انسان خود اس وقت سے نہیں گزرتا تب تک وہ اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتا ۔"بابا میں اپنے کیرئیر کے معاملہ میں بلکل کمپرومائز نہیں کر سکتا ۔"مجھے اماز کی وہ تیز بھڑکتی آواز یاد آئیں۔ "یہ کس طرح بات کررہے ہو اماز؟کرئیر بنانے کے چکر میں کیا تم اخلاقیات ہی بھول گئے ؟"
بابا میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میری محنت اورمیرے خوابوں کو ضائع نہ کریں۔اب میں صرف اپ اورمم کے لیے تو اپنے خوابوں کو نہیں جلاسکتا نا؟ اور پھر امان اللہ بھی تو آپ کی ہی اولاد ہیں ۔وہ بھی تو آپ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے ۔آپ کا تمام خرچہ اٹھانےکوبھی میں راضی ہوں ۔بس ایک بار پاکستان سے نکلنے دیں ."خدا کے لیے ابو "اماز کی آواز پہلے سے دھیمی تھی مگر الفاظ ابھی بھی سخت تھے۔
تمہاری ماں ابھی لاوارث نہیں ہے۔ میں زندہ ہوں ۔تم اگر یو ایس اے جانا ہی چاہتے ہو تو دوبارہ کبھی پاکستان لوٹنے کی کوشش نہ کرنا۔"میں نے نرم انداز میں اماز کو پڑھنے کے لیے یو ایس اے جانے کی اجازت دے دی ۔بابا آپ کویہ کب کہا کہ میں واپس نہیں آؤں گامیں مرنا بھی وہی چاہتا ہوں ،جہاں پیدا ہوا ہوںمگر ابھی باہرمیرے لیےبہت اسکوپ ہے۔کیسے ضائع کردوں ؟
" پاکستان کوقبرستان بنانے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔" شاید اماز میرے غصے اورجذبات کو وقتی سمجھ رہا تھا ۔اس لیےوہ بغیر کوئی شکوہ کریں اگلےمہینے کی فلائٹ سے یو ایس اے روانہ ہوگیا ۔25سال بعد آج مجھےاس بات کا احساس ہوا کہ ایک باپ اپنی اولاد کےسامنےکتنا بےبس اور کمزورہوتا ہے۔
دادا کیوں آخری وقت تک چاچا کےواپس لوٹنے کےمنتظر تھے؟دادا کیوں یوم آزادی کے دن خود کو کمرے میں بند کرلیتے تھے ۔کیوں وہ بھی میری طرح شرمندہ تھے اپنے وطن سے، اس کی قوم سے، اس دن سے اور ان لوگو سے جن کو کھو کروہ پاکستان آئے تھے۔ وہ کبھی اس دن کا سامنا ہی نہیں کر پاتے جس کی خاطرانہوں نے اپنے ماں باپ خاندان اوربیوی کو چھوڑ چھاڑ کر دونوں بیٹوں کے ساتھ ہجرت کی تھی۔اس دن اسی بیٹے نے دادا سمت پاکستان سے بھی منہ پھیر لیا تھا فقط چند دنوں کے مستقبل کی خاطر ہماری نسل انگریزوں کے غلام بننے کو راضی ہوگئے ۔
ہائے وہ قوم جو آزاد وطن لے کر بھی
اپنی آزادی افکار لٹا بیٹھی ہے




































