زین صدیقی
ملک کی صورتحال عجیب وغریب ہے اور اسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔کہا جارہا ہے وزیر اعظم عمران خان
ان چیلنجز سے نمٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں ،سب سے پہلے معیشت کی بہتری کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔اس کیلئے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی جدوجہد کی گئی ہے ٹیکس نیٹ میں بھی کچھ اضافہ ہوامگر خاطر خواہ نہیں ہوا ،چند ماہ قبل سنا گیا گیا تھا کہ 25لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں آچکے ،حکومت یہ بھی کہہ چکی ہے لوٹ ٹیکس ادا نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے مسائل درپیش ہیں ۔
موجودہ حکومت کو 16ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا ہے ،اس میں معاشی مسائل کے ساتھ ساتھ بڑے سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے ،کہیں کرپٹ عناصر کو سزائیں دلوانا اس حکومت کیلئے چیلنج ہے،کہیں آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کا چیلنج درپیش ہے ۔
کہیں اسے دھرنے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کہیں احتجاجی تحریکوں کا۔15ماہ میں حکومت کو آرام سے کام کرنے کا موقع نہیں ملا ۔حکومت اس عرصے میں ابھی یہ طے نہیں کرسکی کہ ملک کو ان بحرانوں سے کس طرح نکالنا ہے ۔حکومت میں وزرا کے معاملات کو دیکھیں تو بےربط چیزیں نظر آئی ہیں ۔وزیر ریلوےہی کو لےلیجئےان کے دور اقتدار کے 16ماہ میں 19حادثات رونما ہو چکے ہیں ،جبکہ ٹرینوں کےبال بال بچنے کے کئی واقعات علیحدہ ہیں ۔درجنوں قیمتی جانیں بھی جا چکی ہیں ۔موصوف شیخ رشید صاحب ہرحادثے کو انسانی غلطی قرار دیتے رہے ہیں اورپھر بلا ٓجر فرماتے ہیں ریلوے میں سب سے کم حادثات میرے دور میں ہوئے ۔ریلوے عملہ میری ساری محنت پر پانی پھیر دیتا ہے ۔
ایک وزیر صاحب نے فرمایا روزگار فراہم کرنا حکومت کا کام نہیں ۔ایک وزیر صاحب نے چاند کا مسئلہ چھیڑا ،پھر علمائے کرام پر تنقید کے نشتر بھی برسائے ۔ان سے وزارت لیکر دوسری وزارت دی گئی تو اس میں بھی انہیں سکون نہیں ملا۔آج کل موصوف عجیب راگنی گا رہے ہیں کہتے ہیں جمہوریت میں مکمل رعایت نہیں دی جاسکتی ،مگر تھوڑی رعایت دی جاسکتی ہے۔پھر بولے ہم سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں ،یہ بات موصوف وزیر اپنے کئی بیانات میں کہہ چکے ہیں، یعنی ان کے دل میں اچانک اپوزیشن کیلئے نرمی آگئی ہےجو پہلے لٹکانےاور جیل کی ہوا کھلانے کی باتیں کرتے تھے ۔
عمران خا ن صاحب کو یہ قوم آرزؤں اور امنگوں کے ساتھ اقتدار میں لائی تھی ،لیکن حکومت ابھی تک عوامی امنگو ں پر پورانہیں اتر سکی ۔پاکستان کے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگا ئی پھربے روزگاری ہے ،تیسر بڑا مسئلہ رہائش ،چوتھا بڑا مسئلہ صحت وصفائی ہے،جبکہ انہیں عدل وانصاف ،رشوت ستانی ،ملاوٹ ،جعلی ادویہ ،اداروں کا استحکام اور غربت جسے مسائل کا بھی منہ دیکھنا پڑرہا ہے ،جن کا حل بھی ریاست کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔
حکومت احتساب کر رہی ہے ،یہ اچھااقدام ہے،لیکن اس میں بھی احتساب بلا تفریق ہوتا نظر نہیں آرہا،صرف پی پی اورن لیگ ،باقی کا کیوں نہیں ۔
سابق چیف جسٹس سپریم کو رٹ آف پاکستان کی جانب اپنے ریمارکس میں صادق وامین قراردیئے گئے جے آئی کے امیرسراج الحق بھی چیخ چیخ کر بلآخر تھک گئے کہ نواز شریف کے علاوہ بھی پاناما کیس میں شامل کرداروں کو سامنے لایا جائے ،مگر حکومت سے اس کیلئے کچھ نہیں بن پڑا۔
کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتار نوازشریف،آصف زرداری ،منشیات کیس کے ملزم رانا ثنا ،پی پی رہنما خورشید شاہ سمیت دیگر ملزمان ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں ۔حکومت کا احتساب جاری ہے ۔صدارتی آرڈننس کے ذریعے نیب کے اختیارات کم کردیئے گئے۔
ان سب باتوں سے قطع نظر عام کے تمام مسائل نظرانداز کردیئے گئے،مہنگا ئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ہر چیز مہنگی کردی گئی ہے،جس سے غریب کا جینا دوبھر ہوگیا ہے ،جب بھی ٹیکس نافذ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ٹیکس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا ،حالانکہ عام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ،کیو نکہ تاجر اور مل مالکان ٹیکس کے بدلے میں اپنی پراڈکٹ مہنگی کردیتے ہیں ۔کوئی چیز ایسی نہیں جس پر ٹیکس نہ ہو۔
حکومت کا 50لاکھ گھر کا وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔حکومت کو چاہیے تھا کہ اس کیلئے کوئی موثر پلاننگ کرتی اور پھر کو ئی چیز لانچ کرتی ،تاکہ وہ لوگوں کا اس کام کے تناظر میں حکو مت پر اعتماد بحال ہوتا ۔
عدلیہ کے متعدد فیصلے سامنے آئے ہیں ،عوام دیکھ رہے ہیں ملک میں کیا ہورہا ہے ،کچھ لوگ اسے سراہ رہے ہیں کچھ ان کی مخالفت میں بات کررہے ہیں ،بعض لوگ سے اداروں کے درمیان تناؤ کی کیفیت ظاہر کررہے ہیں ۔حالانکہ ایسا قطعی نہیں ہونا چاہیے ،اگر اداروں کے درمیان ٹکرآؤ ہو گا تو اس میں ملک کا اپنا نقصان ہے ۔اگر ایسا ہے تو وزیر اعظم کو ان معاملات کو دیکھنا چاہیے ۔
وزیر اعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں ،عوام کی توقعات کمزور پڑتی جارہی ہیں ،قرضوں کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کر نے کا عمل بھی دیرپا نہیں ہوتا ،تاہم اس کیلئے کوششیں جاری ہیں اچھی بات ہے ،عمران خان کی نیت
اچھی ہے لیکن پاکستان کی بگڑی کل کو سیدھا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ،کیونکہ ساڑھے 3سال میں بڑے چیلنجز پر قابو پانا ممکن نہیں ہے ۔
وزیر اعظم نے چندروز قبل اسلام آباد میں سول سرونٹس سے خطاب میں کہا کہ ملک قرضوں کی دلدل میں جکڑا ہواہے۔10سال میں 24ہزار ارب کا قرضہ ملک پر چڑھایا گیا۔انہوں یہ بھی کیا کہ ان کی حکومت کا پہلا سال قرضوں پر سود اتار نے میں گزرا۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پرانے قرضہ اتار نے کیلئے نئے قرضے لیے جاتے ہیں ،آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کا کام ہی ملکوں کو سود پر قرضے دے کروہاں اپنی اصلاحات کامتعارف کرانا اورمہنگائی کرواکے سودکمانا ہے ۔یہ ادارے ہمیں اور ہمارے بچوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں ۔قرضوں سے گھر کی معیشت نہیں چل سکتی یہ تو پھر پورے ملک کی بات ہے۔
لوگ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ موجود ہ حکومت کے بقول سابقہ حکمران چور تھے توان کی چوری کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر کنٹرول میں کیسے تھے،زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 24ارب ڈالر کیوں تھا ؟ ڈالر اور پٹرول کیوں قابو میں تھے ۔بجلی سب کے نرخ قابو میں تھے۔آج کاروباری طبقہ رو رہا ہے ،گیس اورسی این جی بحران کی وجہ سے صنعتوں اور گھروں اور گاڑیوں کو گیس دستیاب نہیں ہے ۔مسائل کے انبار ہیں ،سبزی ،پھل ،پیٹرول ،اشیائے خورونوش ،علاج ا ور ادویہ سب مہنگے ہو چکے ہیں اورمہنگائی کی وجہ سے سفید پوش آدمی اپنی سفیدپوشی کا بھرم رکھنے میں ناکام ہو گیا ہے ۔
یکم جنوری کو حکومت نے اپل پی جی ،بجلی اور گیس مہنگی کردی ہے۔ابھی بجٹ دورہے ،بجٹ آئے گا ،پھر منی بجٹ آئے گا ،عوام مزید بدحال ہوں گے ۔غریب اور محنت کش کی تنخواہ وہی 17,20اور25ہزار ہے،غریب کے گھر کا نظام کیسے چلے گا۔؟کیسے زندگی گزرے گی یہ کوئی بتانے کیلئے تیار نہیں ۔
پی ٹی آئی حکومت نے اپنی باقی مدت میں عوام کی خدمت نہ کی اورانہیں ریلیف نہ دیاتو جناب وزیراعظم صاحب آئندہ پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنامشکل ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے کہ وہ عوام کی خدمت کی جانب سفر شروع کردیجئے۔




































