
یاسمین شوکت
ہمارے معاشرے میں ابھی احساس زندہ ہے ۔مرا نہیں ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ احساس مرگیا ہے اور
احساس مرجانے کی وجہ سے لوگ بے حس ہوگئے ہیں۔
ذرا اس تصویر ہی کو لے لیجئے یہ کراچی کے علاقے جٹ لائن کی ہے ۔اس تصویر میں مو ت کا منہ کھلا ہے ،جس میں جانے سے بچانے کیلئے کسی زندہ ضمیر اور احساس سے آراستہ شخص نے اپنے ہی کسی ہم شہری بھائی ،بچے اور بیٹے کو بچانے کیلئے ڈنڈا لگا دیا ہے، ساتھ ہی پیلے رنگ کی پلاسٹک کی پنیاں بھی لٹکا دی ہیں ،تاکہ یہ پنیاں رات کے اندھیرے میں چمکیں اور لوگوں کو علم ہوجائے کہ یہاں موت کا منہ کھلا ہے اور وہ شخص اس میں جانے سے بچ جائے ،جبکہ اس تصویر میں ایک ٹائر بھی لٹکا دیا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ دن کی روشنی میں یہاں سے گزرنے والے اس کالے ٹائرکے ذریعے دورسےرہنما ئی حاصل کرسکتے ہیں اورجان سکتے ہیں کہ آگے موت کا منہ کھلا ہے۔
جس نے بھی یہ کام کیا بلاشبہ اس سے انسانیت کی بھلائی کا کام کیا ہے ۔اس نے لوگوں کی بھلائی کا کام کیا ،وہ سلام کا مستحق ہے،انعام کا بھی۔
حیرت اس امیر شہرپر ہے جس نے بے حسی کی چادر اوڑھ لی ہے۔ شہرکی جس سڑک سے گزرو اس پر یا تو گڑھے پڑے ہیں یا موت کے منہ کھلے ہیں ،جو ہمہ وقت انسانی جانوں کو ہضم کرنے کیلئے کراچی شہر کے گلی محلوں میں نظرآتے ہیں اور کہیں کو اتنی بے حسی چھائی رہتی ہے کہ ان پر کوئی ڈنڈا یا ٹائر رکھنے کی زحمت نہیں کرتا اورعموماً بچے اس میں گرجاتے ہیں یا موٹرسائیکل سوار نشانہ بنتے ہیں ۔
احساس اوربے حسی کے عالم میں جیتی جاگتی انسانیت بھی اب شاہد غنودگی کی کیفیت میں ہے۔ امیر شہرکوکیا کہیے ان میں حس ہی نہیں ،بے حسی کیا ہو گی ۔
شہر بھر میں کھلے موت کے منہ ( مین ہول) ہر وقت ان کی بے حسی کا منہ چڑاتے رہتے ہیں اور ان بے حسی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔شاید امیرشہر کی آنکھیں اندھی اورکان بند ہیں ۔ان کی سماعتوں پر موٹے موٹے تالے لگے
ہوئے ہیں جو انہیں موت کے یہ منہ نظر نہیں آتے ۔ہم امیر شہر سے ضرور مایوس ہیں ،لیکن اللہ کی ذات سے مایوس نہیںہیں
اللہ تبارک وتعالی ٰ کی حکمت ہی امیر شہر کوان کی کھوئی ہوئی چیزیں لوٹا سکتی ہے ۔




































