
زین صدیقی
یہ بلاگ بزرگ سماجی رہنما رحمت بھائی کی ہدایت پر ان کی وفات سے چند روز قبل تحریر کیا تھا جو آپ کی نظر ہے
آغاز بلاگ
دو شخصیات اوردوانمول موتی اب ہم میں نہیں ۔کراچی شہر کی معروف شخصیات تھیں۔ایک کو سید خالد شاہ کہتے تھے ،دوسرے کو اعجاز رحمانی ۔سید خالد شاہ ماہر تعلیم تھے ،جب تک وہ زندہ رہے ان کی تعلیم کے میدان میں طوطی بولتی رہی۔سید خالد شاہ 2018میں عید الفطر پر اچانک کراچی سے اپنے سسرال اسلام آباد بذریعہ روڈ جا رہے تھے کہ حادثے کا شکارر ہوگئے ۔ان کے قریبی ذرائع نے بتا یا کہ وہ انتہائی اجلت میں چاند رات کو اسلام آباد جارہے تھے کہ عید کے پہلے دن اطلاع ملی کہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ان کے ڈرائیور نے بھی ان ہی کے ساتھ سفر آخرت باندھا لیکن ان کے 2بیٹے ،بیٹی ،اہلیہ اور نواسہ زخمی ہوئے ،جنہیں فوری طور پر طبی امداد دی گئی ۔
حادثہ انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ،جب خالد شاہ صاحب کا ڈرائیور کار چلاتے ہوئے تھک گیا تو ان کے ایک صاحبزادے نے ڈرائیور سے کہا کہ میں گاڑی چلاتاہوں آپ دوسری نشست پر چلے جائیں ،بس پھر کیا تھا ۔کاتب تقدیر خالد صاحب اور ان کے ڈرائیورکے لیے موت لکھ چکا تھا ۔ایک مقام آیا جہاں جمپ تھا ۔تاریکی میں ان کے حاحبزادے کو سڑک پر اچانک وارد ہونے والا جمپ نظر نہیں آیا اور یوں گاڑی تیزی رفتاری کے باعث الٹ گئی اور خالد صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ،جبکہ ان کے ڈرائیور نے بھی زندگی کی بازی ہاردی ۔سید خالد شاہ انتہا ئی شریف ،ملنسار انسان تھے ۔میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں ،کبھی چائے اور بسکٹ کے بغیر انہوں نے واپس آنے نہیں دیا ۔بہت بااخلاق تھے ۔وہ اکثر اپنے کاموں اور میڈیا کمپین کے بارے میں بتا یا کر تے تھے ۔
میں نے سماجی رہنما رحمت بھائی کے رحمت ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے مجلہ ” اچھے دوست “ کیلئے ان کا تفصلی انٹرویو کیا تھا ،جو ان کی موت سے ٹھیک 10روز قبل میں نے ان کے حوالے کرکے آیاتھا،وہ یہ انٹرویو دیکھ کر بہت خوش ہو ئے۔2017میں ہم 12اگست کو یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے سید خالد شاہ صاحب کے اعزاز میں کراچی پریس کلب میں تقریب رکھی اور انہیں رائٹرزفورم پاکستان کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازاگیا۔سابق ٹاو¿ن ناظم نیوکراچی ٹاو¿ن اوررحمت بھائی کے انتہا ئی قریبی ساتھی شفیق الرحمن عثمانی بھی اس تقریب کے مہمان اعزازی تھے۔
سیدخالدشاہ صاحب نے رائٹرز فورم کی تقریب میں رحمت ویلفیئر ٹرسٹ کیلئے ڈونیشن کا اعلان کیا تو وہ میرے رابطے میں تھے ۔ انہوں نے کئی بارڈونیشن رحمت بھائی کے حوالے کرنے کیلئے مجھے فون کیے مگر میں نجی مصروفیات کے باعث ان کے ساتھ نہ جا سکا ۔پھر میں نے انہیں رحمت بھائی کے دفتر کا پتا سمجھایا اور وہ ہاں پہنچے اور ڈونیشن رحمت بھائی کے حوالے
کردی ۔
سید خالد شاہ اپنے دور کے مقبول ماہر تعلیم تھے ۔آپ آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ کے چیئر مین تھے اور نجی اسکولز کی مقبول شخصیت تھے ۔وہ میڈیا کے بہت قریب تھے اورہروقت مصروف رہتے تھے ۔ایم کیوایم کے دور میں ہڑتالوں کے زمانے میں آپ کے نام سے تعلیمی اداروں کے بند رہنے کے ٹکرز بھی چلا کرتے تھے ۔
خالد شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات میرے دوست ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے صدر انتخاب عالم سوری نے ایک دہائی قبل کروائی تھی ۔پھر ملاقاتوں کا سلسلہ خالد صاحب کی شہادت سے چند روز قبل تک جاری رہا ۔
سید خالد شاہ آج ہم میں نہیں لیکن ان کی یادیں اور باتیں ہمارے ساتھ ہیں جو کبھی ہم سے جدا نہیں ہوسکتیں ۔اللہ تبارک وتعالی ٰ سے دعاہے کہ اللہ تعالیٰ خالدصاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین
اعجازرحمانی صاحب مقبول نعت گو شاعر تھے ۔آپ کی لکھی ہوئی نعتیں پاکستان کے مقبول نعت خواں حضرات نے پڑھیں اوریہ نعتیں مقبول ہوئیں۔مدحت ان کی کیوں نہ کریں ہم ،مدحت کا حق دار بھی ہے ۔مقبول نعت تھی اور بھی بہت سی نعتیں مقبول ہوئیں ۔آپ بڑے صاف گو اور کھرے انسان تھے ۔آپ سے دو دہائی قبل آپ کی نئی کراچی والی رہا ئش گا ہ پر ہوئی، جہاں تقریبا ً ایک گھنٹے آپ کی رفاقت میں رہا۔ آپ نے مجھے ایک” کتاب جذبوں کی زبان“ بھی تحفے میں دی ۔اپ صاحب کتاب تھے اورآپ کی کئی کتب شائع ہوئیں،جن میں خوشبو کا سفر،سلامتی کا سفر،لہو کا آبشار،جذبوں کی زبان،آخری روشنی (نعتیہ مجموعہ)،پہلی کرن، آخری روشنی،اعجاز ِ مصطفیٰ،کاغذ کے سفینے،افکار کی خوشبو،غبار انا،لمحوں کی زنجیر (غزلوں کا مجموعہ)،چراغ مدحت شامل تھیں ۔آپ بھی سید خالد شاہ کے ساتھ تقریب میں شریک تھے جو سماجی رہنما رحمت بھائی کی دعوت پر تشریف لائے ۔اعجاز رحمانی نے رحمت بھائی کیلئے ایک نظم کہی جس سے انہیں بے پنا داد ملی۔اس تقریب میں ہم نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے، اہم سے ایک غلطی ہو ئی جس پر ہم آج بھی نادم ہیں ،جب ہم نے اعجاز رحمانی کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی تو ان کے نام کے ساتھ معروف نعت خواں کہہ گئے ،حالانکہ ہمیں نعت گو شاعر کہنا چاہیے تھا ۔یہ ہماری غلطی تھی جو ان کی نشاندہی پر سامنے آئی ،اسٹیج پر آکر اعجاز رحمانی صاحب ہم پر خوب برہم ہوئے اور فرمایا کہ ہرکوئی مجھے نعت خواں بنا دیتا ہے ،حالانکہ میں نعت گو شاعر ہوں ۔خیر ہم نے اس پران سے تہہ دل سے
معذرت چاہی اور کہا کہ ہم سے یہ قصدا ً نہیں سہواً ہوا ہے ۔
اعجاز رحمانی صاحب سادہ لوح انسان تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی میں خوب محنت کی ۔ان کی بہت سی خوبیوں کو میں نہیں جانتا ۔بہت سے لوگوں کے علم میں ان کی اور بھی خوبیاں ہوں گی ۔خیر رحمت بھائی کا اور ان کا تعلق بہت پرانا اور گہر ا تعلق تھا ۔اعجاز رحمانی رحمت بھائی کے ہم علاقہ بھی تھے صرف سیکٹر کا فرق تھا ۔
اعجاز رحمانی درویش صفت انسان تھے ۔میرے ان کیلئے لکھے گئے الفاظ شاید ان کی خوبیاں بیان نہ کرسکیں ۔آپ 12فروری 1936میں علی گڑھ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور کراچی میں 26اکتوبر 2019کو 83برس کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔آپ کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔




































