
منصور شہزاد کراچی
کیا قومی لیڈرایسے ہوتے ہیں؟ جو قوم کو ڈراتے ہیں،دھمکاتے ہیں،وژن دینے کے بجائے ڈی مورالائز کرتے ہیں۔مسائل کا
حل دینے کے بجائے لوگوں کےحوصلےپست کرتے ہیں۔ یہ کس کے ایجنڈےکو آگے بڑھا رہےہیں؟ قوم کو شعور وآ گہی سے دور رکھنے کےلیے کیا یہ علمی درسگاہوں کو ٹارگٹ نہیں کر رہے؟علمی درسگاہوں میں کیا ہوتاہے؟ جس سےیہ اتنے خوفزدہ ہیں جہاں بچوں کو بھیجنے کے بجاۓ بھینسیں اور گدھے باندھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
شراب خانوں سے لیکر شاپنگ مالز تک کھولے جا سکتے ہیں لیکن ان درسگاہوں میں ایسا کونسا وائرس ہے جس سے یہ بہادر لیڈرز خوف ذدہ ہیں؟ کیا کسی ایسے وائرس کاخطرہ تو نہیں جس سے ان کی حکمرانی پر سوال اٹھتے ہوں۔
ایک سیدھا سا سوال ہےکہ یہ علمی درسگاہیں بچوں میں کیا چیز پیداکرتی ہیں؟حق و باطل کی پہچان ! کیا یہ اتناخطر ناک وائرس ہے کہ جس سےحکمرانوں کی مسند یں خطرے میں آجاتی ہیں۔
سندھ کےسرکاری اسکولوں کاحال ہمارے سامنے ہے اور جو بقیہ نجی اسکول کراچی کے متوسط علاقوں میں واقع ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث بیشتر اسکول بند ہو گئےہیں۔اسکولوں کے لیے عمارت کا کرایہ ، اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرنا ناممکن ہوگیاہے۔
جب اسکول ہی نہیں کھل ر ہے تو والدین کی طرف سے فیسوں کے معاملے میں بھی عدم دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر ان متوسط علاقوں میں بچوں کا مستقبل تاریکی کی جانب جارہا ہےاور ہمارے بچے اسکول بند ہونے سے نفسیاتی دباٶ ؤ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولز میں جوسرگرمیاں بچوں کو میسر تھیں وہ اب ان سے محروم ہو گئے ہیں۔
گھروں میں قید بچوں کی صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہورہےہیں۔ وہ یکسانیت کا شکار ہورہے ہیں ۔ان میں مایوسی کے اثرات پیدا ہورہے، محنت اور لگن سے کام کرنےوالوں کو بے وقوف سمجھ رہےہیں۔ ہمارےمستقبل کے معماروں کے لیے ہمارے پاس کیا پلان ہے ؟ تین ماہ ہو چکے ہیں۔ ہماری قومی یا صوبائی حکمت عملی کہیں نظر نہیں آرہی ۔ برطانیہ میں جب اسکول کورونا کی وجہ سے بند ہوئے تو وہاں کے حکمران اپنے طلبہ سے شرمندہ ہوئے، چین میں حفاظتی اقدامات کےساتھ اسکول کھول دیے گئے یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں بلکہ چھپی ہوئی بات یہ ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم سے وابستہ ہے۔دنیا میں ہمیشہ انہیں قوموں نے ترقی کی ہے جس نے تعلیم کو ترجیح دی ہے۔ نجی اسکولوں کی موجودہ بحرانی کیفیت میں ہمارے وزیر تعلیم ان کوبلاسود قرضوں کے لیے کہہ رہے ہیں کہ ”سندھ حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ متوسط نجی اسکولوں کی مالی معانت کرسکے اور موصوف فرما رہے ہیں کہ اگر ہمیں پانچ سال بھی اسکول بند کرنے پڑیں تو ہم کریں گے۔ بچوں کے معاملے میں ہم رسک نہیں لےسکتے ” یہ ہمارے قومی رہنما کاتعلیم کے معاملے میں قوم کا دیا گیا ایک وژن ہے
جناب واقعی آپ نے اس کا عملی مظاہرہ کیا۔آپ نے اپنے سرکاری اسکولوں کا جو حال کیا ہے اس پرآپ نے کون سارسک نہیں لیا۔سندھ کے بچوں کی انہیں اتنی فکر ہے کہ سندھ میں کوئی بچہ نہ اب بھوکا ہےاور نہ ہی کتے کےکاٹنےسے جاں بحق ہو رہاہے۔ کسی مفکرنےکیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو بربادکرنا ہے تو اس کا تعلیمی نظام تباہ کردو
آتی نہیں صدائیں اس کی میری قفس میں
ہوتی میری رہائی اےکاش میرے بس میں




































