
ابن عالم
ملک میں کورونا کی وجہ سے صورتحال عجیب وغریب ہے ۔ہنگا می صورتحال میں جہاں ملک کی حکومتوں کی توجہ وبا
سے نمٹے اور عوام کو محفوظ رکھنے کی جانب لگی ہو ئی ہے ،وہاں اس نے تعلیم کیلئے بھی کئی اعلانات کیے ہیں ،جن میں لاک ڈاو¿ن کے باعث اسکولز 15جولائی تک بند رکھنے ۔آن لائن کلاسز کے اجرااوربارہویں کلاس تک بلا امتحان بچوں کو اگلی کلاسوں میں ترقی ،اسکولوں کو دوماہ کی فیسوں میں 20فیصد کمی سمیت دیگر کئی اقدامات کیے ہیں ،لیکن اسکولز کایہ مطالبہ اب شدید ہوگیاہے کہ اسکولز کو ایس اوپیز کے تحت کھولا جائے ،بعض اسکولز تو اس بات کے حامی ہیں کہ اسکولزکو مختلف سیشنز میں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ ایک ہی کلاس کے بچوں کی تعداد کو دو یا تین سیشنز میں دودو گھنٹے کی کلاسز لگا کر شروع کیاجائے ۔
سوال یہ ہے کہ دنیا میں کرونا کی وجہ سے غیر معمولی حالات ہیں ۔پاکستان میں کورونا وائرس اس وقت آیا جب دنیا میں شدت سے تھا ،جب وہا ں تھوڑا تھما تو آج کل پاکستان میں اس کا پھیلاو¿ عروج پرہے ۔اب یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ،ملک میں کورونا کیسز کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کی طرف جارہی ہے جبکہ اموات تین ہزار کی حد عبور کر چکے ہیں ۔ایسے میں حکومتیں مزید سخت لاک ڈاو¿ن کی باتیں کررہی ہیں ،جبکہ وزیر اعظم عمران نے تو اسمارٹ لاک ڈاو¿ن کی ہدایات جاری کردی ہیں جبکہ سندھ حکومت مزید 15دن کا سخت اسمارٹ لاک ڈاو¿ن شروع ہو چکا ہے۔
وبا سے نہ صرف دنیا بھر میں بڑے بڑے لوگ اور عوام متاثر ہوئے بلکہ لاکھوں اموات ہوئی ہیں ۔پاکستان میں عوام ابھی تک اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے ،حکومت سندھ نے چند روز پہلے رپورٹ جاری کی تھی کہ کورونا کی وبا سے ایک ہزار بچے متاثر ہیں ،لیکن ایسے میں اسکولز غیر سنجیدگی والے رویے کا اظہار کررہے ہیں۔نجی اسکولز نے گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا اور حکومت سے اسکولز کھولنے کا مطالبہ کیا ورنہ از خود اسکول کھولنے کی دھمکی دی ۔
ڈائریکٹر جنرل پر ائیویٹ انسٹی ٹیوشن سندھ ڈاکٹر منسوب حسین صدیقی نے اسکولز مالکان کے احتجاج کے بعد واضح اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسکولز کھولنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔اس کے باوجود نجی اسکولوں کی دال کسی صورت نہیںگل رہی ۔والدین پریشان ہیں سوچ رہے ہیں کہ اسکول کھلے تو کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کی صورت حال میں کیسے بچوں کو اسکول بھیجیں گے ۔
نجی اسکولزبلاشبہ فروغ تعلیم میں اپنا بھرپورکردار ادا کر رہے ہیں ،لیکن کئی دہائی سے دیکھ رہے ہیں یہ مشن نہیںبلکہ منافع بخش کاروبار بن چکا ہے ۔ہم نے کئی اسکول مالکان ایسے دیکھے ہیں جو کروڑ پتی ہیں ۔کئی نے ایک سے کئی اسکول بنا لیے ،کئی اسکول مالکان کے پاس موٹر سائیکل تک نہیں تھی آج مہنگی گاڑیاں ہیں ۔اگر کوئی اسکول مالک یہ کہے کہ اس نے یہ اسکول سے نہیں کمایا تو اس کی آمدن کی تحقیقات ہو نی چاہیے ۔
ہم اس بات کا بھی بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ تمام اسکولز ایک جیسے نہیں ،کئی بہت مہنگے ،کئی درمیانے اور کچھ اسکولز ہزار،بارہ اورپندرہ سوروپے والے ہیں ۔اپنی اپنی مرضی کی فیسیں وصول کررہے ہیں ۔اس کیلئے کوئی نظام نہیں ہے کہ حکومت یا محکمہ تعلیم اسکول کی عمارت کا کرایہ ،اخراجات،اساتذہ کی فیسیں دیکھ کرتعین کرے کہ اسکول کو والدین سے کتنی فیس وصول کرنی چاہیے اورکیا وہ علاقہ اوروہاں کے لوگ اتنی فیس دینے کی استطاعت رکھتے ہیں یا نہیں ۔کوئی نظام نہیں ،والدین کو اسکول مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔
اسکولز ساراسال کماتے ہیں اور فیس کے ساتھ سالانہ فیس ،چھوٹی کلاسز کیلئے اسٹیشنری فیس ودیگر وصولیاں کرتے ہیں ،کتب کی فروخت سے سیزن میں لاکھوں کماتے ہیں اورنہی تو پر ماہ کاپیوں کی فروخت سے ہی ہزاروں ہاتھ لگ جاتے ہیں ۔بعض اسکولز تفریحی دوروں کے نام پر ،بعض اسکولز ہر دوسال بعد یونیفارم تبدیل کرکے پیسہ کماتے ہیں ،جبکہ سلیبس کی فائل میں لگی چند کاپیاں اور پلاسٹک شیٹ 50 روپے کی ہوتی ہے اس کا بوجھ 100سے 120روپے کی صورت میں والدین کی جیبوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔اسکولوں میں کینٹین کے ٹھیکے دے کرکمائی کی جاتی ہے ،بعض اپنی کینٹین بنا لیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی روتے ہیں یہ اسکول والے ۔
ٹیچر کا حال بھی عجیب وغریب ہوتا ہے۔میٹرک ،انٹر ہوتی ہیں بیچاری۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا3سے 5ہزار تک تنخوا ملتی ہے۔ڈھائی ہزارفیس والے اسکول میں ٹیچر ز کی تنخوا ہ 10ہزار تک یا اس سے تھوڑی اوپر بھی ہوتی ہے جو ان خواتین کی قابلیت ،تعلیم اہلیت سے بھی کم ہوتی ہے ۔پیشتر چھوٹے اسکولوں کاطریقہ تدریس بھی کوئی متاثر کن نہیں ہوتا۔نہ ہی اسکول کے اساتذہ کی کوئی تربیتی نشستیں ہوتیں کہ انہیں بچوں کو کس طرح پڑھا نا ہے،بس کاروبار ہے جو چل رہا ہے ،کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کرسکتا کہ اسکول کاروباری ادارے ہیں، کوئی مشنری نہیں ،جہاں نسل نو کی خدمت ہی کوفرض عین سمجھا جارہا ہو ۔
اسکولز کی عمارتیں اللہ اللہ، 120گز کی عمارتوں میں بنے اسکول،اس پر کئی منزل ،کلاس کی حالت ،معیاری پینے کا پانی ہے یا نہیں ،صفائی کا نظام ہے یا نہیں کوئی ہے چیک کرنے والا نہیں ۔کوئی کوالٹی کنٹرول کا نظام ،سب ہی معاملات ہیں جو اسکولز کے ہاتھ میں ہیں ۔70سال سے یہ اسکولز کما رہے ہیں ۔کورونا کی وبا کے 4ماہ نہیں کمائیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی ۔کیا یہ لوگ ملک وقوم کی خاطر 4ماہ جیب سے قربانی نہیں دے سکتے ،حالانکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ چارماہ کی فیسیں معاف کریں اور اپنی جیبوں پر وزن ڈالیں ۔سندھ حکومت نے لاک ڈاو¿ن کے دوران والدین کی مجبوریوں کا احساس کرتے ہوئے جب نجی تعلیمی اداروں کو جون جولائی کی فیسوں میں 20فیصد کمی کا کہا تو ان اسکول مالکا ن کو موشن لگ گئے اور عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹادیا ۔بے شمار محنت کش لاک ڈاو¿ن میں بے روزگار ہوگئے ،وہ بچوں کی 4ماہ کی فیسیں کیسے دیں ۔کہاں سے لائیں۔کیا اپنے بچوں کو بیچ دیں ؟
اخبارات میں خبریں آرہی ہیں کہ اسکولوں نے فیسیں ادا نہ کرنے والے طلبہ وطالبات کو اسکول سے نام خارج کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ بعض اسکولوں کی جانب سے آن لائن کلاسز کی مدمیں چارجز لینے کے بھی الزامات سامنے آرہے ہیں ۔بہت سے اسکولز نے 4ماہ کی فیسیں وصول کرکے اگلی کلاسز میں ترقی کا رزلٹ دے کر والدین کو نئی کتب وکاپیوں کا پر چہ بھی تھما دیا ہے ۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ آج والدین اپنے بچوں کا جس قدر درد کرسکتے ہیں کوئی اورنہیں کرسکتا ، والدین ہی ہیں جو ان کی صحت کے بارے میںکیئر فل ہو سکتے ہیں ۔پاکستان میں کورونا کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ،اگر اسکول کھل بھی گئے تو وہ بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے ۔
سندھ کے عوام حکومت سندھ کے اسکولز بند رکھنے کے فیصلے کی تائید و حمایت کرتے ہیں ۔اسکول مالکا ن کو بھی چاہیے کہ بے جا احتجاج کرکے وہ خود کو اس صورتحال سے الگ ثابت نہ کریں ۔ان کے اس مزاحمت والے رویے سے خود غرضی ظاہر ہورہی ہے ۔کورونا کا شکار ہو کر یہ بچے ہی نہیں رہیں گے تو اسکولوں میں آپ کس کو پڑھا ئیں گے۔آپ کی دلچسپی صرف پیسہ کمانے میں ہے ۔آپ کو اللہ کا واسطہ مشکل وقت میں تو حکومت اور والدین کا ساتھ دیجئے۔




































