
عابد حسین
یاسین راہموں...ملیر کھوکھراپار ڈی ون ایریا کا ایک متحرک محب وطن نوجوان اور موٹی ویشنل لیکچرر ہےمجھے اس کی صلاحیت اور
اہلیت دیکھنے کا موقع کچھ عرصے قبل ایک تقریب میں ملا...اسی تقریب میں محمد فہیم بھی مدعو تھے جو خود بھی موٹی ویشنل لیکچر دیتے ہیں.
یاسین راہموں اور محمد فہیم بہت غریب گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں..
یاسین راہموں کے والد ٹاٹ کی بوریوں میں پیوند لگاکر اسے فروخت کرکے گزر بسر کرتے ہیں..ان ہی حالات میں یاسین راہموں نے اعلی تعلیم حاصل کی اور اپنا اور علاقے کے نوجوان طلبہ و طالبات کا مستقبل بنانے کی فکر کرتے رہتے ہیں..
دیکھنا یہ ہے کہ بوریوں میں پیوند لگاکر مزدوری کرنے والے خاندان کو بیٹے کی کامیابی کی اجرت کب ملے گی...اور محکمہ سماجی بہبود کی کوئی اسامی کب اس کے لیے خالی ہوگی...؟
..اب تک کسی حکومت نے ان متحرک نوجوانوں کی سرپرستی نہیں کی..ممکن ہے ان کا تعارف اہم حکومتی اور مخلص حلقوں تک نہ پہنچا ہو..اس تعارفی تحریر کو شیئر کرنے سے ممکن ہے ان نوجونوں کو سرپرستی مل جائے...وزیر تعلیم سعید غنی صاحب اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں...یہ نوجوان محکمہ سماجی بہبود کی کوششوں کو بہت آگے لے جاسکتا ہے...سندھی اور کچھی زبان پر بھی عبور ہے اس لیے اندرون سندھ بھی لیکچر دے سکتا ہے...دیس کی بھاشا مقامی نوجوانوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے....
ذرا نم ہو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی..
آج کل کراچی میں ہر طرف بارش ہے..مٹی نم ہے اور اسے زرخیز بنانے کا بہترین موقع ہے...
لاک ڈاون کے دوران یہ دونوں نوجوان شاید نوجوانوں کو متحرک کرنے والے پروگرام منعقد نہ کرسکے ہوں اس لیے صوبائی محکمہ برائے امور نوجوانان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یاسین راہموں..محمد فہیم اور دیگر نوجوانوں کی مصروفیت کا اہتمام کرے...آن لائن موٹی ویشنل پروگرام منعقد کرائے یا پی ٹی وی پر انہیں موقع دیاجائے تاکہ ہر علاقے میں قاسم علی شاہ جیسے افراد پروان چڑھیں جو نئی نسل کی بہت بہتر آبیاری کررہے ہیں..




































