
ڈاکٹر طارق شہزاد تبسم،شجاع آباد
آپ سب کو معلوم ہے کہ دنیا کے نقشے پر پاکستان ہی وہ واحد مملکت ہے جو اسلام کے نام پر ، اسلام کی خاطر
معرضِ وجود میں آئی ۔ پاکستان کے آئین میں اس مملکت کا نام جمہوریہ اسلامیہ ہے ۔ جب یہ جمہوریہ اسلامیہ ہے تو یہاں کے رہنے والوں کا یہ فرض اوّلین ہے کہ یہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلامی معاشرہ تشکیل و تعمیر کرنے کیلئے کوشاں رہیں ۔ پاکستان کو ایک مثالی اسلامی مملکت بنائیں لیکن پاکستان کو مثالی اسلامی مملکت بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہاں افراد میں اخلاقی انقلاب لایا جائے ۔ وہی اخلاقی انقلاب جو عہدِ رسالت میں لایا گیا تھا ۔ جس سے دنیا کی بد اطوار اور بدقماشی قوم اخلاق کی انتہائی بلندیوں تک جا پہنچی ۔ وہ خوش آئند انقلاب کہ جس سے رہزن افراد دنیا کے رہبر بنے ۔ ایسا انقلاب ممکن ہے پہلے بھی آچکا ہو اب بھی آسکتا ہے ۔ یہ کام آہستہ آہستہ تعلیم وتربیت اور اخلاقی اصطلاح کے ذریعے ہو سکتا ہے ۔
آج اگر ہم دنیا پر نظر ڈالیں تو 70کروڑ مسلمان دنیا کے ہر حصّے میں پھیلے ہوئے نظرا ٓئیں گے ۔ 70 کروڑ کی کوئی تھوڑی تعداد نہیں لیکن جب ہم مسلمانوں کا دنیا میں مقام اور حیثیت دیکھیں تو ہمار ا شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے ۔ جو قوم دنیا کی امامت و قیادت کیلئے پیدا کی گئی تھی آج کل خود کس قدر زبوں حال ہے اور اس کی زبوں حالی کا تمام تر سبب اسلام سے عملی روگردانی ہے ۔ ہماری یہ حالت ہے کہ باپ دادا سے مسلمان کا نام دوسرے ترکے اور ورثے کے ساتھ ہمیں ملتا چلا آرہا ہے اور ہم بڑے فخر اور استحقاق کے ساتھ اس نام کو استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہم ن ے اس دین کو نہ تو حق سمجھ کر قبول کیا ہے نہ باطل کو باطل سمجھتے ہوئے ترک کیا ہے ۔ ہماری اب یہ حالت ہے کہ اخلاق بالکل بگڑ چکے ہیں ۔ قوم رسم ورواج کی بیڑیوں میں جڑی ہوئی ہے ۔ جہالت کا یہ عالم ہے کہ مغرب کی غلامی سے ابھی تک نہیں نکل پائے ۔ ہم جن کو دنیاکیلئے بہترین نمونہ بننا تھا ۔ اُلٹا لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا باعث بن رہے ہیں ۔ تقسیم ملک سے پہلے انگلینڈ بلکہ دنیا کا مشہور مفکر اور فلسفی برناڈ شا ایک دفعہ ہندوستان آیا دوران گفتگو اس سے پوچھا گیا کہ آپ نے دنیا کے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا ہے ان کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے ؟ برناڈ شا نے کہ مجھے دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام سب سے زیادہ پسند آیا ۔ اس مذہب میں یہ صلاحیت ہے کہ حیوان کو انسان اور انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچنے کا قرینہ سکھاتا ہے ۔ اس پر تعجب سے پوچھا گیا کہ جب آپ اسلام سے متاثر ہیں تو پھر اب تک خود اسلام قبول کیوں نہیں کیا ؟ تو شانے اس بات کا جواب دیا وہ نہ صرف ایک زندہ حقیقت ہے بلکہ ہم مسلمانوں کیلئے اس میں بہت بڑا سبق ہے ۔ شانے کہا کہ جب میں نے اسلامی عقائد اور اسلام کا پیش کردہ دستور ِ حیات پڑھا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ دنیا میں مادی اور اخلاقی ترقی اور اُخروی نجات کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں مگر مسلمانوں کی موجودہ حالت ، ان کی فرقہ بندیاں ، اسلامی دستور ِ حیات سے ان کی بے اعتنائی اور عملی بے راہ روی نے مجھے مسلمان ہونے سے روک دیا ۔
دیکھیے ! اسلام کے متعلق یہ سائے کسی عام آدمی کی سنیں بلکہ دورِ جدید کے ایک بہت بڑے مفکر کی ہے ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسلمان قوم صرف مغرب کی نقالی کرکے ترقی کے معراج کو نہیں پہنچ سکتے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کو ایسا کونسا عمل اختیار کرنا چاہیے کہ ان کی پستی دور ہو اور وہ دُنیا کی معزز قوموں میں شمار ہونے لگیں ۔
خداوند عالم نے ہمارے لیے دنیا میں عزت زندگی بسر کرنے کیلئے ایک مسلسل قانون دیا ہے ۔ جس میں بچپن سے لے کر آخر زندگی تک مختلف مدارج کے لحاظ سے یہ ضروری حکم موجود ہے ، مگر بد نصیبی سے ہم اس سے عموماً نا واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا کوئی کام قرینے اور ڈھنگ سے انجام نہیں پاتا۔
تاریخ گواہ ہے ۔۔۔کہ اس قانون ِ الٰہی پر ہمارے اسلاف نے جب بھی عمل کیا تو عظمت وسربلندی اور دولت وعزت میں کوئی ان کا ہم پلہ اور ہم سر نہ رہا ، لیکن جب بھی انہوں نے اس قانونِ قدرت سے باہر قدم رکھنا شروع کیا تو ہر لحاظ سے فقرو ذلت میں گھِر کر رہ گئے ۔ ہسپانیہ سے ہمارا نام ونشاں مٹ گیا ۔ یورپ سے صدیوں کی حکومت کرنے کے بعد بڑی بے توقیری سے نکالے گئے مغلوں سے حکومت چھینی ۔
تجربہ بتا رہا ہے کہ شریعت الٰہیہ پر عمل کیے بغیر قوم منجدھارے سے نہیں نکل سکتی ۔ نہ ہماری تسکین سعادت مند اولادبن سکتی ہیں ، نہ ہمارے بزرگ فرض شناس والدین نہ اچھی ذمہ داریاں ، میاں بیوی ، نہ صنفِ مزاح حاکم ، نہ دیانت دار تاجر ، نہ محنتی افسر ، نہ بہادر سپاہی اور نہ مخلص لیڈ ر اس کے بغیر ہم میں ہمت آسکتی ہے نہ جرات ، مختصراً ۔۔یہ کہ ہم ہدایت رسانی کے بغیر نہ تو گھر میں سکون سے رہ سکتے ہیں نہ باہر عزت اور وقار سے مولانا حسانی اس حقیقت کے معترف تھے ۔ فرماتے ہیں !
عمل حسن کا ہے اس کلام میں پر ۔۔۔۔ وہ سرسبز آج روئے زمین پر
تغوق ہے ان کو کہیں یہیں پر ۔۔۔۔۔ مدار آدمیت کا ہے اب انہیں پر
شریعت کے پیماں جو ہم نے توڑے ۔۔۔۔وہ لے جا کے سب اہل مغرب نے جوڑے
ہمیں اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کے اور ہمارے لیے دنیا میں عزت اور حفاظت کا اورآخرت میں نجات کا واحد اور آخری راستہ ، اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم باری برحق پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات پر چلیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جوع دلوں کو کھینچتی ہیں ، جو دشمنوں کو دوست بناتی ہیں ، جو پَتھر کو موم بناتی ہیں ۔ ہمارے اندر سچی ہمدردی اور خلوص پیدا ہو، بے لوث خدمت کا جذبہ پید ا ہو ، ہماری اخلاقی سطح اتنی بلند ہو کہ دولت کے پرستار نہ رہیں ۔ ہم ! پیسے پر جان دینے اور لینے والے نہ بنیں ، ہم ان صفات کا ملہ کو پالیں جس کے حصول کے بعد یہ عالم ہو کہ !
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے ؟
علامہ اقبال کا بھی تو یہی خیال تھا کہ
”تیر ی خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں کہ چار سو بدل جائے “




































