
بشر منیر
(حریم ادب کراچی)
اٹھلاتی،بل کھاتی،سمندر کی موجیں ۔۔۔بڑھتیں،سنبھلتیں پھر بپھر کرابھرتیں یوں لگتا سب کچھ سمیٹ کر لے جائیں گی مگرلہریں بناتی ساحل پر کھڑے لوگوں
کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتیں ۔نہ تو تھکتیں اور نہ ہی تسلسل میں ذرا فرق آنے دیتیں۔ سمندر اپنی پوری ہیبت اور وسعت کے ساتھ خالق کی کبریائ کا اعلان کر رہا تھا۔
ہم قدرے بلندی پر بنے ہٹ کے ٹیرس پر بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بچےبڑے شوق سے لہروں کے ساتھ الجھ رہے تھے اور ان کے ابو اور بھائ بچوں کی حفاظت بھی کر رہے تھے اور لہروں کا مزہ بھی لے رہے تھے۔
ہمارا یہ ہٹ صاف ستھرا اور آرامدہ تھا۔ کچھ فاصلے پر کچھ اور ہٹس بھی بنے ہوئے تھے۔ ہمیں ابھی سمندر کی دید سے محظوظ ہوتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ہمارے ساتھ والے ہٹ سے ایک ہنگامہ سا شروع ہو گیا۔ تھوڑی دیر تو جوان لڑکے لڑکیاں تالیاں پیٹتے اور گانے گاتے رہے پھر یکدم ڈیک پر دھماکے دار موسیقی فطرت کےحسن پر تازیانے برسانے لگی۔مڑ کے دیکھا تو الحفیظ۔۔الامان۔ چائے بھی کڑوی کڑوی لگنے لگی۔ تیز موسیقی پر ان سب نے رقص کرنا شروع کر دیا۔ ایک دیوانگی کا عالم تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔لڑکوں نے ایک دائرہ بنا کر لڑکیوں کو درمیان میں کر دیا ساتھ ہی ماحول پرایک ہیجانی کیفیت طاری ہونے لگی۔لڑکیوں نےرسی نما دوپٹے اتار پھینکے ۔ جینز کے ساتھ ٹاپس اور ٹی شرٹس میں ملبوس لڑکیاں بے طرح چیخ چیخ کر ہنس رہی تھیں کیونکہ ان کے گرد موجود لڑکے گھیرا تنگ کرتے اوروہ گھیرا توڑنے کی کوشش کرتیں ۔اس ہنگامے میں سمندر کا شور بھی جیسے سہم گیا تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری نظر بار بار ان کی طرف اٹھ رہی تھی۔باوجودتلاش کے کوئ امی،خالہ،انٹی جیسی چیز نظر نہ آرہی تھی۔لگتا تھا سب نوجوانوں نےگھر والوں کو بتائے بغیر ہی یہ ہوشربا پکنک ترتیب دے لی تھی۔ دور طالب علمی میں ریسرچ پڑھی تھی کہ جب ایسی تیز اوربلند اواز کی موسیقی سنی جائے تو جسم میں ارتعاش پیدا ھوتا ھے جوایک حد تک دماغ کوبھی کنٹرول کرنے لگتا ہے۔۔۔۔ پتہ نہیں ان دیوانوں کے پاس دماغ ہے بھی یا نہیں۔۔ ۔میری سوچ کا دائرہ پھیل رہاتھا۔ اگر کسی کو تیز میوزک سننا ھے،چیخ چیخ کر ناچنا ھے ،مختصر لباس پہننا ھے جو بھی کرنا ہے تو خود کر لے۔زبردستی لوگوں کو وہ سب سنانا دکھانا جو وہ دیکھنا اور سننا نہیں چاہتے یہ تو دوسروں کی ازادی میں مداخلت ہے۔۔۔ سراسر بد تمیزی۔ ان کے ہٹ کے برابر میں ایک ٹوٹا پھوٹا ساہٹ تھا۔ دل چاہا کاش ۔۔۔۔۔یہ ڈسکودیوانے وہاں براجمان ہو جاتے۔تو ہم بھی سمندر سے باتیں کرتے۔ ابھی تو سمندر بس سن رہا تھا ۔۔۔۔سمندر دیکھ رہا تھا۔۔۔اور ویڈیو بن رہیں تھیں۔
کچھ دیر میں ہمارے مرد اور بچےسمندر کا مزہ لے کر پلٹ ائے ۔ مرد تو مل کر نماز باجماعت کرانے لگے اور ہم خواتین کھانے کا انتظام کرنے لگے۔نماز با جماعت کی بھی کیا شان ہے کہ اسے دیکھ کر ان متوالوں نے بھی تھوڑی دیر کے لئے ہنگامہ ارائ میں وقفہ کر دیااور کچھ کھانے پینے میں مصروف ہو گئے۔
ساحل سمندر ہو،دھوپ ملی ٹھنڈی ہوا اورکھانے کے بعد چائے نہ پی جائے یہ تو ھو ہی نہیں سکتا۔ کچھ دیر میں سب نے چائے پی کر دوبارہ سمندر کا رخ کیا ۔اس سب لین دین میں میری چائےتو ٹھنڈی ہو گئ تھی ۔ اپنے بڑے مگ میں تھرماس سے گرم چائے انڈیلی ۔اتنے میں برابر میں نوجوانوں کی ٹولی اب مزید تازہ دم ہو چکی تھی اور ایک دوسرے پر کولڈ ڈرنک کی بوتلیں پھینک کر نہ جانے کون سی خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔اک شیطانی اغوا تھا کہ دم ہی نہ لیتا تھا ۔اس اچانک شور سے ڈر کر میرا پوتا رونے لگا۔ بہلانے سے چپ نہ ہوا تو میں نے اس کے چچا کی گود میں اس کو پکڑایا۔ چائے کا مگ ہاتھ میں لیا اور ہم سمندر کے ساتھ ساتھ چلنے لگے کہ اسکے ابو تک اسے پہنچا دیں۔وہ جوان بچہ مضبوط قدموں سے اگے چل رہا تھا۔ ذرا سی دیر میں میں نے محسوس کیا کہ میں تو بیٹے سےبڑی پیچھے رہ گئ ہوں ۔برابر والے ہٹ سےذرا آگے بڑھی تو ایک چیخ سنائ دی۔ چونک کر دیکھا کہ ایک لڑکا لڑکی کو گھسیٹ رہاتھا۔ وہ پوری کوشش کر رہاتھا کہ اسے ویران ہٹ کی طرف لے جائے یہ دونوں انہیں ڈسکو دیوانوں میں سےتھے۔ سمندر کا شور ۔۔ڈیک کا شور۔۔۔ایسے میں ہٹ کے پیچھے سے آتی چیخوں کا شور بھلا کون سنتا۔ لڑکی کا منہ میری طرف تھااور لڑکے کی پیٹھ میری طرف تھی۔مجھے دیکھ کر وہ ہمت پا کراس کی گرفت سے نکلنے کے لئے زور لگانے لگی۔ میرا یٹا تو کافی اگے نکل چکا تھا ۔ بیٹیوں والوں کو ہر بیٹی کی پکار اپنی اپنی ہی تو لگتی ہے ۔ بے ساختہ میں اس کی طرف بڑھی ۔لڑکی کے بار بار دیکھنے سے وہ لڑکا بھی پیچھے مڑا اور یہ ہی لمحہ تھا کہ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا مگ اسکے سر پر دے مارا۔ اسی وقت لڑکی نے اسکے ہاتھ پر دانت گاڑ دئے۔ لڑکے نے غصے سے میری طرف دیکھا ،اسکی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔اس لمحے خوف کی ایک لہر میرے اندر دوڑ گئ۔ میں تیزی سے پلٹی۔ میرا بیٹا واپس آ رہا تھا اور میرا دوسرا بیٹا اور شوہر بھی مجھے دیکھ کر اسی طرف ارہے تھے۔ میں جلدی سے بڑھ کراپنے بچوں کے قریب ا گئ۔سب کو دیکھ کر اس لڑکے نے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ مجھے اس لمحےاپنے بےحد محفوظ ہونے کا احساس ہوایہ میرے سائبان تھے۔میں اپنے محافظوں کےجلو میں واپس ارہی تھی اور وہ بھی واپس جا رہی تھی۔۔۔مگرکہاں؟؟ اسی شیطانی ٹولے کے پاس جہاں اس کا نہ کوئی بھائی تھا نہ باپ مگر اسے واپسی کا سفر انہیں کے ساتھ کرنا تھا ۔ ان لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا جواپنی چھتریاں جلا کرجھلستی دھوپ میں نکل اتے ہیں۔ شایدوہ پھر ہوس کی آگ میں جل جاتے ہوں گے۔ہوس کی وہ آگ جب دل میں دہکتی ہےتو سمندر جتنا پانی بھی اسے نہیں بجھا سکتا۔۔۔




































