
اسماء معظم( کراچی)
ٹنگ۔۔۔۔۔۔۔ ٹونگ۔۔۔۔۔۔۔۔دروازے کی بیل بجی۔
بیل کی آوازسن کر پوچھا کون۔۔۔۔۔۔۔؟
میں ہوں شازیہ ۔۔۔۔۔۔ ثمینہ دروازہ کھولو۔ شازیہ نے کہا
ارے شازیہ تم ۔۔۔۔ آٶ آٶ۔ ثمینہ نے کہا۔جو رات کا کھانا پکانے کی تیاری کر رہی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے سے سلام دعا کی۔ اس کے بعد شازیہ نےکہا ثمینہ کل جمعہ کے دن ناٸلہ کے گھر شام 4 بجے سورہ المزمل کا ختم ہے تم ضرور آنا ۔۔۔
ناٸلہ نے کہا تھا میں تمہیں بھی کہ دوں میں یہی کہنےآئی تھی اور ہاں دیکھو تم
سورہ المزمل پر درس بھی دے دینا ہم لوگ سورہ المزمل پڑھتے تو ہیں لیکن اس
کا مطلب جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہمیں پتہ نہیں چلتا ک اس میں کیا باتیں بتائی ہیں ہمارےرب نے۔تم درس دو گی تو سب کو ترجمے و تشریح سے اس کا مطلب بھی پتا چل جاۓ گا اور غوروفکر کا موقع بھی ملے گا۔
ٹھیک ہےمیں ضرور درس دے دوں گی انشآللہ۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ نےکہا۔
اچھا رکو شازیہ چائے تو پیتی جاٶ ۔ ثمینہ نے انتہائی محبت سےکہا۔
چاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔؟تمہیں تو پتہ ہے نعمان شام کی چاۓ ضرور پیتے ہیں اور وہ اس وقت گھر آگئےھوں گے میں پھر آؤں گی۔
اچھا تو اگلی دفعہ چاۓ ضرور ۔۔۔۔۔ ثمینہ نے زوردے کرکہا۔
ارے صرف چاۓ ہی نہیں بلکہ واۓ بھی۔ یہ کہہ کردونوں زور سے ہنسیں۔
شازیہ اور ثمینہ اپنے اپارٹمینٹ کی بہت گہری سہیلیاں تھیں۔ جب شازیہ اس اپارٹمینٹ میں شفٹ ہوٸ تو صرف ثمینہ ہی اس اپارٹمیٹ میں تھی باقی تمام فلیٹ خالی تھے یہی وجہ تھی کہ ان دونوں میں خوب گھری دوستی ھو گٸ۔
اور کیوں نہ ھوتی گہری دوستی ثمینہ نے شازیہ کے آنے پراس کا خیال بھی تو بہت رکھا تھا۔چاۓ پانی کا پوچھا دو دن کھا نا پکا کر بھیجا ماسی لگوائی اور روانہ اس سے پوچھنے آتی کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں، یہی وجہ تھی ک شازیہ ثمینہ پر فریفتہ ھو گٸ ۔
جمعہ کا دن بالاآخر آن پہچا ثمینہ تیار ہو کر ٹھیک 4 بجے ناٸلہ کے گھر پہنچ گئی۔
وہاں شازیہ پہلے سے موجود تھی۔ ناٸلہ نے اپنی سہیلیوں کا استقبال انتہائی گرم جوشی سے کیا۔ ثمینہ نے عبایا اتارا اور ایک نظر کمرے میں دوڑاٸ دیکھا تمام خواتین خوش رنگ لباس میں ہیں۔ سب کے ہاتھ میں سورہ المزمل ہے وہ سور المزمل پڑھتی جاتی ہیں اور پلیٹ میں آٹے کی بنی چھوٹی چھوٹی گولیاں تھیں۔ جب ایک دفعہ سورہ المزمل کوئی خاتون پڑھ لیتی تو اس پلیٹ میں سےایک گولی اٹھا کر دوسری پلیٹ میں گنتی کے لۓ ڈالتی جاتی۔ ثمینہ یہ ساری کروائی دیکھ رہی تھی اور دل میں سوچتی رہی کہ یہ کیا قصہ ہے؟ لیکن کچھ نہ بولی کیونکہ وہ بے تکا بولنے والوں میں سے نہ تھی ۔تھوڑی دیر میں ناٸلہ قرآن لے آئی ۔ثمینہ نے درس شروع کرنے سے پہلے خواتین کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا آپ میں سے کوٸ سورہ المزمل کے معنی و مطلب جانتا ہے؟کوئی سر ہلا نہ کوٸ ہاتھ اٹھا ۔ثمینہ نے ٹھنڈی سانس لی اور قرآن کریم کھول لیا ۔اور سورہ المزمل کا درس دیا۔جو کچھ کتاب اللہ نےسورہ المزمل میں کہا تھا اپنی تیاری اور صلاحیت کے مطابق بیان کر دیا۔ بہت سی خواتین کے لیے آٹے کی بنی گولیوں پر سورہ المزمل پڑھنے والی واردات پرانی تھی اور اس بے چاری سورہ کے مضامین اور انداز بیان نیاتھا۔ چنانچہ جب ثمینہ نے اپنے مختصر اور مدلل بیان کے بعد سوالات کی دعوت دی تو وہ جو” زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد“ بنی بیٹھی تھیں ، یکے بعد دیگرے اپنے اپنے سوالات پوچھنے لگیں ۔
ثمینہ نےپوچھا ”آپ لوگ یہ کیا کررہی تھیں؟
ہم 313 دفعہ سورہ المزمل ختم کر رہےتھے یہ تیرہ تیزی کا مہینہ ہے ناں۔۔۔۔۔۔ صفرکامہینہ جو مردوں پر بھاری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ان میں سے ایک خاتون نے کہا۔
”اورر یہ گولیاں کیسی ۔۔۔۔۔۔۔؟ثمینہ نے گولیوں کےبارے میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا
یہ گولیاں آٹے کی بنی ہوئی ہیں ،جب ھم 313 سورہ المزمل پڑھ لیتے ہیں تو اتنی ہی تعداد میں یہ آٹے کی گولیاں سمندر میں بہا دیتے ہیں“
سمندر میں بہا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں؟ثمینہ بولی۔
وہ اس لئے کہ یہ گولیاں مچھلیاں کھا ٸیں اور ہمارے لئے دعا کریں اور یہ بھاری مہینہ ہلکا ہو۔
یہ سن کر ثمینہ کا اپنا سرپیٹنے کو دل چاہا کہ ہماری قوم کس ڈگرپر چل رہی ہے ۔اتنا پڑھ لکھ کر ہم جاہل کےجاہل ہی ہیں اور یہ سوچتے ہوئے اس نے کہا ” بہنو یہ صفر کا مہینہ جس کے لۓ کہا جا رہا ہے مردوں پر بھاری ہوتا ہے ،کمزور عقیدے کی ہمارے دین اسلام میں کوئی گنجاٸش نہیں ہے ۔ہمارے ذہن میں صفرسے متعلق جو باتیں ہیں وہ غلط ہیں۔آپ تمام بہنیں ان کو اپنے اپنے ذہنوں سے نکال دیں۔ آپ کو میری باتیں عجیب سی لگ رہی بوں گی کہ آ پ سب پختہ ذہن کی ہوچکی ہیں لیکن میرا بھی فرض ہے کہ آپ کو اس بارے میں صحیح رہنمائی دوں تاکہ اللہ تعالی کے پاس جاٶں تو سرخرو ہو سکوں۔
تو میری پیاری بہنو !یہ مچھلیاں سبب نہیں ہیں،اصل میں تو سبب ہمارے ہاتھ پیر ہیں،ان کو استعمال میں لاٸیں ،اپنے پنے مردوں کو ملازمت پر بھیجیں ،ان کو معاش کے لئے جدوجہد کا کہیں ۔ اصل چیز تو کوشش ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کی کوشش کا پھل ضرور دیتا ہے اور یہی حقیقی بات ہے ۔آپ کی باتیں بالکل فرضی ہیں۔پورا قرآن اورحدیث پڑھ لیں یہ باتیں ہمیں کہیں نہیں ملتیں۔کیا خیال ہے آپ سب کا،میں ٹھیک کہ رہی ہوں ناں؟ تمام خواتین نے ثمینہ کی پر,زور تاٸید کی۔
اور پھر درس کے اختتام پر ناٸلہ نے ایک لمبا دسترخوان بچھایا جس میں انواع و اقسام کی ڈشیں دیکھ کرثمینہ حیران رہ گٸ کہ یہ مہینہ مردوں پر بھاری ہے؟ اور یہ دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸیں۔۔




































