
احمد علی جوہر
چندروزقبل شب 8:15 بجے گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے پولیس اسٹیشن جانا پڑا۔ وہاں استقبالیہ کمرے میں چاراہلکار موجود تھے۔ایک اہلکار
کے پاس ایک خاتون رپورٹ درج کرا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ میرا کام جلد ہو جائے گا، سورس استعمال کر نے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ۔۔۔۔
لیکن میں نے دیگر اہلکاروں سے بات کی کہ رپورٹ درج کرانی ہے تو انہوں نے انتظار کی بینچ پر بیٹھنے کا کہا کہ مصروف اہلکار فارغ ہوگا تو آپ کی رپورٹ درج کرے گا۔
میں بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ اہلکار چند منٹ میں فری ہوگیا۔ میں نے کہا کہ سر رپورٹ درج کرانی ہے تو کہنے لگا کہ آپ رش کے ٹائم آئے ہو انتظارکرو۔ میرے اس کمرے میں پہنچنے کے 10منٹ بعد ایک اور شخص رپورٹ درج کرانے آیا تو وہ بھی بیٹھ گیا۔ وہ اہلکار دیگر دفتری کولیگ کے ساتھ فحش گوئی کر رہا تھا۔ تقریباً آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد اس نے مجھے بلایا۔ میں نے درخواست اسے پیش کی تو اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور میرے بعد آنے کو بلاکر اس کی رپورٹ درج کرنے لگا۔ میں نے تحمل سے بینچ پر انتظار کیا۔ تقریبا پون گھنٹے بعد وہ اہلکار پھرکہنے لگا کہ آپ رش والے ٹائم پر آئےہوانتظار کرو۔ اب میرے صبر کا لبریز ہو رہا تھا۔ میں نےبلند آواز سے کہا کہ بھائی کتنا انتظار کرنا ہوگا ،پون گھنٹہ گزر چکا ہے، ایک گھنٹہ، دو گھنٹے یا 3 گھنٹے؟۔ وہ اہلکار مجھ سے پوچھنے لگا کہ کتنے بھائی ہو؟ کونسا نمبر ہے، کہاں رہتے ہو۔ پھر اپنے کولیگ سے کہنے لگا کہ اس کی جب رپورٹ درج ہوجائے تو تھانے کی سیر کرائیں گے۔۔۔ چند منٹ بعد ایک دوسرا اہلکار اس کی جگہ بیٹھ گیا اور وہ بھی اسی طرح کی سروس دے رہا تھا۔
میں نے کمرے سے نکل کر اپنےایک دوست جن کی تھانے میں بات چیت ہے، فون کرکے صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او سے وہ ابھی بات کرتے ہیں اور کال بیک کرتے ہیں۔ 5 منٹ بعد انہوں نے ایس ایچ او کا نمبر بھیجا اور کال کرکے کہا کہ فون کرکے میرے ریفرینس دے کر بات کرلیں۔ میں نے ایس ایچ او کو فون کیااور کمرے میں گیا، اس اہلکار سے ایس ایچ او کی بات کرائی۔ وہ اہلکار فون سن کر میری رپورٹ فورا درج کرنے لگا۔ مجھے غصہ بھری آنکھیں دکھا کر اس دوران کہنے لگا کہ آپ کو میں نے کہا نہیں تھا کہ چند منٹ انتظار کریں۔۔۔
میں نے کوئی جواب دیے بغیرآنکھوں کےاشارے سے "کیری اون" کہا۔ جیسےہی اس نے رپورٹ کا پیپر دیا، اس سے پہلےکہ وہ مجھ سے چائے پانی کا تقاضہ کرتا میں فورا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
آج مجھے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے لیے متعلقہ ادارے ناظم آباد جانا تھا۔ میں نے گیارہ بجے کا اپوئنٹمنٹ گزشتہ دن لے لیا تھا۔ میں11:05 پر پہنچا۔ کائونٹر پر ٹوکن دکھایا تو اس نے ایک پرچی دے کر برابر والی کھڑکی جانےکو کہا۔ وہاں سے اندر ہال کا ٹوکن ملا۔ اندر ہال میں اپنے مطلوبہ کائونٹر پر پہنچا تو وہاں موجود اہلکار نے شناختی کارڈ کی کاپی مانگی۔ میں جلدی میں کاپی رکھنا بھول گیا تھا۔ وہاں سے باہر نکلا تو فوٹو کاپی کی دکان کا اشارہ نظر آیا۔
فوٹو کاپی کراکرواپس اسی کاؤنٹر پہنچا۔ اسن نے کاپی کے ساتھ ایکسپائرڈ لائسنس طلب کیا،میں نے دیا۔ اس نے موبائل نمبر پوچھ کر ایک نیا ٹوکن دیا جو کہ فیس کا تھا۔ رقم دیکھی 2313روپے تھی۔ میں نے ایک ویبسائٹ پر 1800 کے لگ بھگ فیس دیکھی تھی۔ میں نے پریشان ہوکر وائلیٹ چیک کیا تو شکر 2500 روپے نکل آئے۔ ٹوکن پر نادرا اور دیگر مد ملاکر رقم درج تھی۔فیس جمع کروائی تو اس نے تصویر کھنچوانے کا ٹوکن دیا۔ جلد ہی تصویر والے افسر صاحب نے میرا نام پکارا۔ وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا، تصویر کھینچنے کے بعد مجھے اپنے ایل سی ڈی پر تصویر دکھانے لگا کہ صحیح ہے؟ یا دوسری لوں۔ اوکے کے بعد اس نے میڈیکل کا ٹوکن دیا۔
اب اصل "مرحلہ" تھا جس میں فیل کا اندیشہ تھا۔ پچھلے رینول میں مجھے افسر نے آنکھوں کے ٹیسٹ میں فیل کردیا تھا، میں نے ہرا پتا دکھاکر بنوایا تھا۔میڈیکل کے کمرے میں دو اہلکار تھے۔ ایک افسر مجھے اسٹول پر بٹھا کر آنکھوں کا ٹیسٹ لینے لگا۔اس نے سیکنڈ لاسٹ پر لکھے ایلفابیٹس پوچھے تو ڈر لگا کہ اب آخری لائن پر پوچھے گا لیکن اس کی نوبت نہیں آئی۔ دوسرے اہلکار نے طبیعت کا پوچھا اور ٹوکن دیا۔اب آخری کاؤنٹر تھا، اہلکار نے ایکسپائرڈ لائسنس لے کر بڑی پرچی دی جسےدیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ میرا کام ہوگیا۔ لائسنس 10 کے اندر ڈاک کے ذریعے میرے گھر پہنچ جائے گا۔
باہرنکلا تو ایک افسر نے محکمہ کی سروس کا پوچھا کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔ میں نے سروس کی تعریف کی تو اس نے کمینٹ بک کی جانب اشارہ کیا کہ اپنے کمینٹس تحریر کریں۔ کمینٹ بک پر تاثرات لکھے اور باہر نکلا۔ میں نے موبائل پر گھڑی دیکھی تو حیرت ہوئی کہ لائسنس آفس کے تمام مراحل پچیس منٹ میں ہوئے۔
یہ تھے تھانے اورلائسنس آفس کے مشاہدات جو ایک دوسرے سے متضاد تھے۔ بدقسمتی سے تھانہ کلچر ابھی بھی وہی ہے جو ماضی میں تھا۔ شریف آدمی آج بھی تھانہ جانے سے گھبراتا ہے۔
تھانے والوں کا رویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رپورٹ درج کرانے والا خود مجرم ہو۔گھنٹوں خوار کرکے رپورٹ درج کرتے ہیں کہ جیسے وہ احسان کر رہے ہیں۔تھانہ میں رپورٹ درج ہونے میں بشکل5 منٹ لگتے ہیں، لیکن پولیس اہلکار عوام کو گھنٹوں خوار کرکے چائے پانی وصول کرکے درج کرتے ہیں۔ ناظم آباد لائسنس آفس میں سندھ پولیس دوسرے روپ میں نظر آئی جس پر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔




































