
خورشیدہ بیگم /گوجرہ
عیدکا نام سنتے ہی خوشی ومسرت کااحساس ابھر کر سامنےآتا ہے لیکن ہر خوشی کا کوئی مقصد ہوتا ہے،ہر صورت اپنے اندر مفہوم رکھتی ہے پھر عید الفطر کی تقریب کیسے
بے معنی ہو سکتی ہے؟قابل غور بات ہےہم مسلمان ہیں مسرت وشادمانی کی وجہ جانتے ہیں ؟اگرنہیں جانتے تو پیارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے جان لیتے ہیں۔
”اس دن رب العالمین اپنے فرشتوں میں نمازعید کے اجتماعات میں موجود اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے اور فرشتوں سے پوچھتا ہے ان مزدوروں کا کیا بدلہ ھونا چاہیےجنھوں نے اپنی مزدوری ٹھیک پوری طرح ادا کر دی،فرشتے جواب دیتے ہیں اے ہمارے معبود! ان کا بدلہ یہی ہونا چاہیے کہ ان کی مزدوری پوری پوری دی جائے اللہ تعالی فرماتا ہے اے میرے فرشتو!تم گواہ رہو کہ میں ان کے رمضان کے روزوں کی وجہ سے ان سے خوش ہو گیا اور انہیں بخش دیا “
گویاعید الفطر اللہ کی طرف سےانعام و اکرام اور بندوں کے لیے ضیافت کا دن ہے رمضان کے سات سو بیس گھنٹے جن مزدوروں نےاللہ کے لیے مزدوری کی ،اس کے احکام کی پابندی میں نہ صرف حرام کو ترک کیا بلکہ ایک مخصوص وقت کے لیے حلال چیزوں سے بھی اپنے نفس کو روکے رکھا -اپنے رب کی ناراضی سے ڈرے اور تقوی کا راستہ اختیار کیا اپنے شب و روز اطاعت خداوندی میں گزارے،نیکیوں اور اخلاق حسنہ کے سانچے میں ڈھل گئےلیکن روز عید ان کے لیے وعید ہے جنہوں نے روزے تو رکھے،نمازیں بھی بڑھائیں لیکن خشیت الہٰی سے خالی اور رضائے الہی کے حصول کی خواہش کیے بغیر ،حلال سے پرہیزتو کرلیا مگر حرام سے نہ بچےجھوٹ ،غیبت،چغلی ،جھگڑافساد ،بد دیانتی،بدگوئی بدستور روزے میں بھی جاری رہی،آخری عشرہ شروع ہوا تو دوکانوں اور بازاروں کی رونق بڑھ گئی عید کی خریداری میں فرض نمازیں بھی قضا ھوتی ہیں تو ھو جائیں مگر لباس فاخرہ میں کوئی عیب نہ رہ جائے جبکہ امؔاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا نے تو بتایا کہ رمضان کے آخری عشرہ میں پیارے نبی ﷺ کی عبادت و ریاضت اور سخاوت پہلے سے بڑھ جاتی تھی ۔
آج امت مسلمہ کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ ادھر ہلال عید نظر آیا ادھررمضان کی ساری پرہیزگاری غائب ہوئی مساجد میں صرف بزرگ رہ گئے،نوجوان قید رمضان سے آزاد ہوئے اور سڑکوں و چوراہوں کی زینت بن گئے
حالانکہ عید کی رات تو لیلۃ الجائزہ ہے یہ تو ذکرواذکاراور طلب آخرت میں گزارنی چاہیے ۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنےفرمایا جس نے عیدین کی دونوں راتوں میں خالص اجروثواب کی امید پرعبادت کی اس کادل قیامت کے اس (ہولناک)دن سے مردہ نہیں ہو گا جس دن لوگوں کے دل (خوف و دہشت سے) مردہ ہو گئےمگر افسوس اب اکثرمسلمان عید سعید کا حقیقی مقصدبھلا بیٹھے ہیں اس خالص مذہبی تہوار پہ غیر مسلموں کا سا اندازِجشن و شادمانی غالب نظر آتا ہے۔
ذراسوچئے ہمارےبزرگان دین کا بھی یہی اندازِفکروعمل تھا تاریخ گواہ ہےکہ خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کوعید کے دن روتے ہوئے پایا گیا لوگوں نے حیران ہو کے عرض کیا۔
امیرالمومنین! آج تو عید ہے اور آپ رو رہے ہیں،آپ رضی اللّٰہ نے فرمایا!لوگو یہ عید کا دن بھی ہے اور وعید کا بھی۔آج جس کے روزے مقبول ہو گئے اسکے لیے عید کا دن ہے لیکن جسکی عبادات رد ہو گئیں اسکے کے لیے تو آج وعید ہی کا دن ہےاور میں اسی۔ خوف سے رو رہا ہوں۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللّٰہ علیہ عید کے آداب و فضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں،"عید ان لوگوں کی نہیں جو کھانے پینے میں مشغول ہوگئے،بلکہ عید انکی ہے جنہوں نے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کر لیا۔"
میری عزیز بہنوں؛ذرا غور کیجئے عید تو کشمیری،فلسطینی اور شامی مسلمانوں کی بھی ہے،برما،روہنگیا ،بوسنیا، چیچنیا کے مسلم بہن بھائیوں کے لیے بھی عید کا دن آئے گا،جو بے بسی کے عالم میں مسلم دنیا کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں۔پس روز عید ہمیں رب کریم کے حضور ان مظلوموں کی دادرسی کے لیے درخواست کرنا ہے،دل کی گہرائیوں سےڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کےلئے دعا کرنا ہے اور سجدہ شکر بھی بجا لانا ہے ،ہمیں پرامن ماحول میں رمضان المبارک کے بابرکت شب وروز گزار کر عید سعید سے لطف اندوز ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
حرف آخر کے طور پر صرف اتنا عرض کروں گی کہ بلاشبہ عید کےروز خوشی منانا،خوش رہنا اور حسبِ استطاعت اچھے کھانے کھانا ناجائز ومستحسن ہے لیکن اس احساس کے ساتھ کے رمضان المبارک میں اختیار کردہ تقوی و پرہیزگاری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔پھر تو دنیا بھی ہماری اور آخرت بھی۔
: بقول اقبال
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں




































