
مہرالنساء حیدر
بات پہلی بارکی ہویا ہربار کی۔۔۔وہ جب بھی آنکھیں کھولتا ہے۔۔۔تونگاہوں کا رخ آسمان ہوتا ہے۔۔۔کہ جیسےکہہ رہا ہو۔۔۔لیجیے پہنچ
گیا میں !اب کیا حکم ہے...؟سو حکم سنا دیا جاتا ہے..."حی علی الفلاح" وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔لڑکھڑاتے قدم مضبوط ہوتے ہیں۔۔تو نگاہیں آسمان کا رخ چھوڑ کر زمین پر مرکوز ہوتی ہیں۔۔۔اور زمین کے تمام دلنشین مناظر کو احاطۂ بصارت میں لے لیتی ہیں۔۔۔یہ مناظر کس قدر دلدوز ہیں کہ آنکھ کھلنے کے بعد بند ہونے کی خواہش نہیں کرتی۔۔۔ہاں مگر دل کو ابھارتی ہے زیادہ کے حصول پر۔۔۔اور دل کا کہا مانتے ہوئے قدم بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔۔۔قدموں کا چلن تکبرانہ ہو تو ٹھوکر لگتی ہے۔۔!ٹھوکر وہ رکاوٹ جو قدموں سے گھٹنوں تک لے آتی ہے۔تکبر وہ علامت جو نہ رکنے دیتی ہے نہ جھکنے دیتی ہے۔بس سو ٹھوکر بار بار لگتی ہے۔۔۔ بندہ خدا عاجز آجاتا ہے۔۔ "اس طرح بھلا کیسے میں حاصل کر پاؤں گا کامیابی۔۔؟کون سا راستہ ہے جو مجھے منزلِ فلاح تک پہنچائے گا۔۔؟" وہ آسمان کی طرف رخ کر کے پکار اٹھتا ہے۔۔ "صراط مستقیم..!" جواب آتا ہے۔۔۔ "کیسے مل پائے گا ہدایت کا راستہ۔۔۔؟" سوالات جاری ہیں۔۔۔"مانگنے سے۔۔!"جواب بھی موجود ہے۔۔۔"کیا یہ راستہ مجھے منزل مقصود تک پہنچا دے گا۔۔؟" آہ! بندہ شک میں پڑجاتا ہے۔۔۔" یہ وہ راستہ ہے کہ جس پر چلنے والوں نے انعام پایا۔اور اس سے انکار کرنے والے گمراہ تھے۔سو ہلاک ہوئے..!" خدا یقین دلاتا ہے۔۔۔ "کیسے مانگوں صراطِ مستقیم۔۔.؟" بندہ مدعے پر آتا ہے۔۔۔
"تم قیام کرو اور کہو: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۞الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ۞اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۞اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ۞۔۔" رب راہ دکھلاتا ہے۔۔۔
وہ خوش ہو جاتا ہے اور دی ہوئی تجویز پر عمل پیرا ہو جاتا ہے۔۔۔ ہر بار کھڑا ہو کر بڑی دلجمعی کے ساتھ وہ کہتا ہے۔۔۔جو اس کے رب نے اسے سکھایا۔۔۔مگر یہ کیا۔۔؟کہ وہ اسے کسی طلسم کی طرح پڑھتا ہے کہ جیسے کوئی منتر ہو۔جسے پڑھنے کے بعد وہ غائب ہو کر منزل مقصود پر نمودار ہوجائے گا۔۔۔یہ مثال ہے اس جادوگر کی سی کہ جو راستے تلاش کرتا ہے۔۔ ایسے راستے جو کچھ نہیں مگر صرف دھوکا ہیں۔۔!
یہ جگہ جہاں پے در پے خدا کے بندوں نے آنا ہیں۔۔۔
سو ان بندوں میں وہ بندہ خدا بھی تو ہے۔۔۔کہ جو لاعلم ہےفلاح سے۔۔۔منزلِ مقصود سے۔۔۔کہ وہ تو بس تقلید کرنے والا ہے آباء کی۔۔۔سو وہ وہی کرتا ہے۔۔ جو آباء کرتے ہیں اور وہی کہتا ہے۔۔۔جو آباء کہتے ہیں۔۔۔یہ مثال ہے اس شخص کی کہ جو دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔۔۔مگرنہیں جانتا کہ وہ اس در سے چاہتا کیا ہے۔۔؟یا جو ضرب لگاتا ہے مسلسل کسی درخت پر۔۔ اس بات سے انجان۔۔ کہ ضرب لگانے کے بعد وہ درخت کس طرف کو ڈھلکے گا۔۔!
اور ان بندوں میں وہ بندہ خدا بھی موجود ہے۔کہ جو علم رکھتا ہے اس کا جو خدا کہتا ہے۔۔۔اور وہ واقف ہے اس مقصد سے۔۔۔جس کے حصول کا حکم ہے۔۔۔مگر وہ عمل سےعاری ہے۔۔۔کہ شرائط و ضوابط اس کی طبیعت پر گراں ہیں۔۔۔یہ مثال ہے اس مریض کی کہ جس کو علم ہو اپنےمرض کا۔۔ اور بخوبی واقف ہو نسخۂ طبیب سے بھی۔۔۔مگر وہ نظر انداز کرتا ہے دوا کو۔۔ یا اوقات و مقدار میں اپنی مرضی سے ردوبدل کرتا ہو۔۔۔!
آہ۔! بندگانِ خدا۔۔۔کہ جو خواہش رکھتے ہیں فلاح و کامرانی کی۔۔مگر جو علم اور عمل کے درمیان مساوات نہیں کرتے۔۔۔جو یقین اور گمان کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔۔۔کہ جو "اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ" کو نہیں مانتے۔۔۔جو "الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ" کا حق ادا نہیں کرتے۔۔۔جو "مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ" سے خوف نہیں کرتے۔۔۔جو"اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ" کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرتے۔۔۔جو "اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ" سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔۔۔
تو بھلا کیونکر وہ "صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ" میں شمار ہو سکتے ہیں۔۔؟ تو بھلا کیونکر "غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ"میں شامل ہونے س بچ سکتے ہیں۔۔؟ کیونکر ۔۔۔؟؟




































