
صائمہ عابد
میت کوکندھا دینے کے لیے چاروں بیٹے ہی موجود تھے. آج صبح ہی عبدالرشید صاحب فالج کی بیماری سے لڑتے لڑتے انتقال فرما گئے تھے .میں عبدالرشید صاحب کو بچپن ہی سے جانتی تھی وہ ہمارے گھر کے برابر میں ہی رہتے تھے ان کی بیٹی نمرہ میری گہری سہیلی تھی . مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے جب ان کی بیوی کا انتقال ہوا تو وہ صرف ٣٧ سال کے تھے اور ان کی بیوی ان سے چار سال چھوٹی. بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے نہ صرف اپنی معاشی ذمہ داریوں بلکہ گھریلو ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا حتی کے کھانا پکانا ،کپڑوں کی دھلائی تک میں بچیوں کی مدد کی اور بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ روحانی غذا بھی فراہم کی بچوں کو بھرپور دینی ماحول نماز روزہ قرآن احادیث سے ان کا تعلق جوڑنے میں کوئی کسر نہ رکھی کے یوں کہا جائے نبی کریم کی حدیث کے مصداق .
باپ اپنے بچوں کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سے بہترین عطیہ اچھی تعلیم و تربیت ہے. وہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے.کیونکہ وہ اکلوتے بھائی تھے تو ان کی بڑی خواہش تھی کہ ان کے بھائی ہوتے. اکثر اپنے بچوں کو دھمکی دیتے کہ اگر وہ زیادہ تنگ کریں گے یا بات نہیں مانیں گے تو وہ اپنے ماموں ذاد بھائی احمد کےگھر پنجاب چلے جائیں گے بچوں کو چھوڑ کر مگر یہ دھمکی صرف دھمکی ہی رہی
ان کی بہنوں نے ان کی جوانی کو دیکھتے ہوئے ان کی دوسری شادی کرنا چاہیےتو بڑا بیٹا اور بیٹی آڑے آگئے اور جب بعد میں وہ خود بھی شادی شدہ ہوئے تو بہت پچھتائے کہ انہوں نے والد صاحب کے جوانی ضائع کردی یہ اور بات ہے انہوں نے اپنا تعلق مسجد قرآن معاشی سے جوڑ لیا تھا .مگر بعد میں جو مسائل ان کی بیماری کے دوران اولاد کو اٹھانے پڑےوہ بھی ایک کہانی ہے گو کہ گھر میں بہوئیں آ گئی تھی وہ ان کے لئے بہت اچھی خدمت گزار ثابت ہوئی تھی مگر فالج کا پہلا اٹیک ہونے پر معذوری کے موقع پر محسوس ہوا اگر ان کی بیوی ہوتی تو زیادہ ٹھیک دیکھ بھال کر سکتی تھی. ہم سب سہیلیوں کو خود ہمارے طے شدہ پروگرام کے مطابق کسی ایک سہیلی کے ہاں چھوڑ کر آتے اور خود لینے آتے غرض رشید صاحب کا کردار آج کے فادرز ڈے اور حقوق نسواں بل کے منہ پر پر طمانچہ ہے .




































