
نگہت پروین
خبر ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں موسیقی کی کلاس شروع کی جا رہی ہے۔ میوزک ٹیچرزکو ابھی سے بہت سے مراعات سے نوازا جا رہا ہے
اور اس نوکری کے عوض بھاری تنخواہ بھی دی جائےگی۔
ایسی خبر کیا کسی مسلم ملک میں اچھی سمجھی جائےگی ؟یا اس کا اجراء بچوں کےلیےمہلک ثابت نہ ہوگا ؟
مسلمان کاایمان،توحید ،رسالت اور آخرت پرمبنی ہے تو اس موسیقی ان تینوں میں سے کس میں جگا بنتی ہے ؟
اسکول میں قرآن کے پیریڈ قائم کرنے،قرآن سیکھنے کا اہتمام ہونا چاہیے نہ کہ مغرب کا، یہ زہر ہمارے معصوم بچوں کو پلایا جائے گا۔
معاف کیجیے گا اس میوزک سیکھنے سے آپ کے بچے ترقی یافتہ نہیں بلکہ قیامت میں کانوں میں سیسہ پگھلا ہوا دلوانے کے لیے تیار ہوں گے۔
میوزک ہمارا کلچر نہیں ،ہماری تہذیب نہیں ،قرآن اس کو *لھوالحدیث *کہتا ہے یعنی قرآن میں ہدایت اور رحمت ہے اس کے برعکس یہ موسیقی بچوں کو راہ راست سےبھٹکانےکا انتظام ہے۔موسیقی سکھا کربچوں کو دین اسلام سے ہٹا کر حکومت وہی چال چل رہی ہے کہ بس اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرکےاپنا کشکول بھر لیں۔
اور بچے میوزک میں غرق ہوکر زندگی کی سنجیدگی سے دورہوجائیں اور اس عالمی مستی میں ان کو ہوش ہی نہ رہےوہ یہ محسوس ہی نہ کرسکیں کہ انہیں کس تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور گانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مغنیہ۔ٓعورت کا بیچنا ،خریدنا اور ان کی قیمت بھی حرام ہے
اسلامی تعلیمات کی بجائے یہ نیوز کلاسیں کسی قیمتی چیز کو چھوڑ کر تباہ کن چیزوں کو اپنانا ہے۔میوزک فکر اور اخلاق کو تباہ کرنے والی چیز ہے حکومت کو یہ شعور نہیں کہ میوزک شروع کر کے خلق خدا کو راہ راست سے بھٹکا کر کتنا بڑا ظلم کر رہی ہے۔ موسیقی سیکھنے والے،موسیقی سکھانے والے اور اس کی قیمت میں تنخواہ لینےوالےٓاور تنخواہ دینے والے ،اس کی شروعات کرنے والے کے لیے قرآن *عذاب الیم **کی سزا دیتا ہے۔
ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارارحم کیجئے اپنی نسلوں کو رب سے جوڑیے تاکہ اس بے ہنگم موسیقی سے نجات پا کر جہنم کی آگ سے بچ جائیں اور اس کام کے ذمہ داران پورے پاکستانیوں کی اس اپیل پر بہت غورکر کے اپنے فیصلے کو تبدیل کریں۔




































