
عبدالصبورشاکر فاروقی
احمد سے میری پرانی یاد اللہ ہے۔ ہم کئی پراجیکٹس پر اکٹھے کام کر چکے ہیں۔ خاص طور پر ہمیں سوشل امور پر کام کرنا اچھا
لگتا ہے۔ گزشتہ سال قربانی کے موقع پر ہم نے ایک عنوان منتخب کیا اور اس پر جُت گئے۔ عنوان تھا ''کیا ہمیں عیدالاضحیٰ پر دی گئی قربانی کا پورا پورا ثواب ملتا ہے؟'' اس موضوع پر کام مکمل ہوا تو ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی، جب یہ دیکھا کہ لوگ کیسے چھوٹی چھوٹی لاپروائیاں کر کے اپنی ہزاروں بلکہ لاکھوں کی قربانیاں ضائع کر رہے ہیں مثلاً:
ہمارے محلے کی سب سے بڑی قربانی اشرف صاحب کی ہوتی ہے۔ موصوف کروڑپتی ہیں۔ خود محکمہ ایکسائز سے ریٹائرڈ ہیں اور ان کے بیٹے سیکرٹریٹ لاہور میں اعلی عہدے پر ہیں۔ ان کی آبائی زمینیں بھی ہیں۔ وہ ہر سال پانچ قربانیاں کرتے ہیں۔ جن میں تین یا چار عدد بکرے، ایک عدد گائے اور کبھی کبھی اونٹ۔ گزشتہ برس انہوں نے اپنے پانچوں جانوروں کو ہار، سہرے، گھنگرو پہنا، مہندی وغیرہ لگا کر دروازہ دروازہ گھمایا اور باقاعدہ بتایا کہ ایک ایک جانور کتنے کا آیا ہے؟ ان کی بیگم صاحبہ عید سے کئی مہینے بعد تک بہانے بہانے سے بتاتی رہیں کہ ہمارا اس سال قربانی پر پندرہ لاکھ روپے خرچ آیا تھا۔ انہیں ریاکاری اور نمود و نمائش کے نقصانات بارے بتانے کی کوشش کی جاتی یا یہ کہ اس طرح قربانی نہ کر سکنے والوں یا کم پیسوں کی قربانی کرنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو کہتیں ہم کہاں نمائش کر رہے ہیں؟ ہم تو اللہ کی دی ہوئی نعمت کا اظہار کر رہے ہیں۔ آخر یہ بھی تو حدیث پاک سے ثابت ہے۔ اشرف صاحب سے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کے ہاتھوں مجبور ہوں۔
دوسری بڑی قربانی پروفیسر عبدالکریم صاحب کرتے ہیں۔ آپ بھی ماشاء اللہ صاحب ثروت اور صلح کل قسم کے آدمی ہیں۔ ان کے ہاں جو شخص بھی کلمہ پڑھنے کا دعوے دار ہو، وہ مسلمان ہے۔ چاہے وہ ضروریاتِ دین کا انکار ہی کیوں نہ کرتا ہو۔ پچھلے برس انہوں نے اپنے ساتھ ایک قادیانی اور ایک لبرل کو بھی شریک کر لیا۔ قادیانی تو امت مسلمہ کے متفقہ عقائد اور پاکستانی قانون کی رو سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب کہ لبرل جو قربانی کا سرے سے منکر ہو اور قربانی میں محض اس لئے حصہ ڈالتا ہو تاکہ سیر ہو کر گوشت کھا سکے، اسے شریک کرنا کسی بھی صورت درست نہیں۔ جب ایسے آدمی کا حصہ شامل ہو گیا تو قربانی کہاں جائز رہی؟
اسی طرح عید والے دن مغرب کے بعد احمد اور میں گوشت لے کر نکلے تاکہ مستحقین تک پہنچا سکیں۔ دوسری گلی میں موجود بادشاہ خان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس کا چھوٹا بیٹا باہر نکلا۔ میں نے از راہ مذاق پوچھ لیا '' بیٹے! کیا پکایا ہے آج؟ '' جواب سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ انہوں نے آج بھی دال پکائی تھی۔اسی طرح ایک دوسرے گھر والوں نے اوجھڑی پکا رکھی تھی۔ وجہ یہ کہ ان کا بچہ جب گوشت لینے گیا تو صاحب قربانی نے سارا اچھا گوشت چھانٹ کر اپنے فریزر میں رکھ لیا تھا۔ جب کہ ردی گوشت اللہ کے راستے میں تقسیم کر دیا۔ افسوس! ہم قربانی کا مقصد ہی فوت کر دیتے ہیں۔ کیا قربانی اس لیے کی جاتی ہے کہ سارا گوشت گھر رکھ لیا جائے؟ یا جو سفید پوش ہم سے مانگنے نہ آئے، اسے دیا ہی نہ جائے؟ اسی طرح بعض لوگ آپس میں ایک دوسرے کی دعوتوں میں ہی سارا گوشت اڑا جاتے ہیں۔
عید کے دوسرے روز ہم نے لال دین قصاب کو اپنی بائیک پر کھالیں لادے جاتے دیکھا۔ پوچھ لیا کہ یہ کس حساب سے خریدی ہیں؟ کہنے لگا: ''صاحب! خریدی نہیں ہیں؛ کچھ لوگوں نے اجرت میں دی ہیں اور کچھ نے کہا، ہم انہیں کہاں رکھیں گے؟ تمہی لے جاؤ۔'' لال دین کے مطابق کچھ لوگ یہ کھالیں اپنےامام صاحب کو بھی دیتے ہیں۔محض اس لیے کہ انہوں نے ہمیں سارا سال نمازیں پڑھائی ہیں، چلو اجرت کے طور پر پیسے نہ سہی، کھالیں ہی دے دی جائیں۔
ہم ایک بار پھر سر پیٹ کر رہ گئے کہ اس طرح تو ان کی قربانی ضائع ہو گئی۔ اجرت میں کھال لینا جائز ہی نہیں، نہ ہی گوشت لینا درست ہے۔ مطلب لاکھوں کی قربانی کرنے سے پہلے ایک آدھ گھنٹے کے لئے مولوی صاحب سے مسائل نہیں سیکھتے۔ حالانکہ عدالت میں چھوٹا سا بیان دینا ہو تو بار بار وکیل سے رابطہ کرتے اور اچھی طرح قانونی موشگافیاں رٹ کر جاتے ہیں۔ جب بات آخرت کی آتی ہے تو مفت میں مسئلہ بتانے والے مولوی صاحب کے پاس جاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ اس کی اور بدترین مثال صاحب نصاب ہونے کے باوجود اپنی قربانی نہ کرنا بھی ہے۔ کتنے ہی لوگ خود صاحب نصاب ہوتے ہیں یعنی ان پر قربانی واجب ہوتی ہے لیکن اپنے بجائے اپنے والدین یا بڑے بھائی کے نام سے قربانی کرتے ہیں۔
اس طرح اس آدمی کی قربانی تو ہو جاتی ہے جس کی طرف سےنیت کی گئی لیکن اپنے اوپر واجب ہونے کے سبب اپنی قربانی رہ گئی۔ گویا پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی مثال ہو گئی کہ جس پر واجب تھی، اس نے کی نہیں اور جس کی جانب سے واجب ہی نہیں تھی، اس کی جانب سے کر دی۔ یہی حال بعض خواتین کا ہوتا ہے کہ سامان، سونا اور نقدی ملا کر صاحب نصاب ہوتی ہیں لیکن اس لیے قربانی نہیں کرتیں کہ فوری طور پر بکرا خریدنے کی استطاعت نہیں ہے۔ بعض گھرانوں میں الگ الگ افراد پر قربانی واجب ہوتی ہے لیکن سارے لوگ ایک ہی حصے پر اکتفا کرلیتے ہیں گویا فریضہ پورا کرنا مقصد نہیں بلکہ گوشت کھانا مقصود ہو۔
ایک اور چیزجوعید والے دن ہمیں اپنے پڑوس میں صبح صبح دکھائی دی۔ یہ تھی کہ ابھی عید کی نماز پڑھی ہی نہ گئی تھی کہ قربانی شروع ہو گئی۔ ہم نے روکنے کی کوشش کی تو کہا کہ بعد میں قصاب نہیں ملتے اس لیے جلدی کر رہے ہیں۔ ایک بداعتدالی یہ دیکھی گئی کہ قربانی کرنے کے بعد آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ جہاں خالی جگہ نظر آئی، پھینک دیں۔ نتیجتاً وہ دین جو ہمیں ہر معاملے میں صفائی کا حکم دیتا ہے، کے ماننے والے، اسی دین کا ایک فریضہ سرانجام دیتے ہوئے وہ گند ڈالتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ کئی کئی دن تک پورا شہر مردار کی بدبو اور سڑاند سے مہکتا رہتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم عید آنے سے پہلے پہلے اس سے متعلقہ سارے مسائل سیکھ لیں تاکہ ہمارا پیسہ، وقت اورجان ضائع ہونے سے بچ جائے اور ثواب کی بجائے عتاب اور سزا کے مستحق نہ بن جائیں۔




































