
فاطمہ زہرہ
"کتنےدن سے کہہ رہا ہوں مگرکوئی سنتا کہاں ہے بندہ آتے جاتے پانی ہی ڈال دیتا ہےدیکھو کتنے مرجھا گئے ہیں یہ پودے."
شمیم صاحب آدھے گھنٹے سےصحن میں کھڑے پودوں کی صفائی کرنے اوراسے پانی دینے میں مصروف تھے جو کہ اتنی گرمی میں سب کی لاپرواہی کی وجہ سے سڑ سڑ کے خراب ہو گئے تھے.
" فصیح.... بیٹا ادھر آ... یہ پکڑ اور کچرے دان میں پھینک دے۔ " شمیم صاحب نے گندی کھاد سے بھری تھیلی اپنے بیٹے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا.
فصیح جو باہر جا ہی رہا تھا ایک منٹ رکا پھر اپنےوالد کے پاس آیا۔
" واہ... آپ ہماری بات نہ مانیں.. مگر ہم آپ کی ہر بات مان لیں. " فصیح نے تھیلی ہاتھ میں پکڑتے ہوئے طنزاً کہا.
شمیم صاحب سمجھ چکے تھے اس کا اشارہ کس جانب ہےکیونکہ کل سے گھر میں صرف ایک ہی بات پر بحث ہو رہی تھی. فصیح قربانی کے لئے ایک اپنا الگ جانور چاہ رہا تھا جبکہ شمیم صاحب اس بات پر مصر تھے کہ وہ مسجد میں قربانی کیلیئے حصہ ڈالیں گے.
" ٹھیک ہے نہ کرو تم کچھ...میں خود ہی کر لوں گا یہ". شمیم صاحب اب اس سے تھیلی چھیننے لگے تھے.
" نہیں اس کو پھینکنے میں مجھے کوئی قباحت نہیں.. مگر میں تو آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ آپ اکثر ہماری بات نہیں مانتے". فصیح نے اب اپنے والد سے تھیلی لے کر کچرے میں پھینک دی تھی.
" بیٹا جس بات کا تمہیں علم نہ ہو...اس بارے میں بات نہ کیا کرو اور تمہاری اس فضول خواہش کے پیچھے میں اپنی نیکی ضائع نہیں کر سکتا."
" کیا مطلب کے نیکی ضائع ہو رہی ہے... میں نے کوئی گناہ کرنےکا تو نہیں کہا آپ سے .آپ قربانی کر رہے ہیں اور میں بھی یہی کہہ رہا ہوں.. ہاں بس فرق اتنا ہے کہ آپ کو پتا نہیں کس نے مشورہ دے دیا مسجد میں حصہ ڈالنے کا. جبکہ میں چاہ رہا ہوں کہ ہم خود جا کر اچھا سا جانور لے کر آئیں اور خود دیکھ بھال کریں اورپھر ذبح بھی خود کریں گے." فصیح اب باہر جانے کے بجائے پھر اپنی ضد پر آ گیا تھا.
"اچھا... واقعی؟ نہیں بیٹا میں بتاتا ہوں اصل فرق کیا ہے. یہ جو تم بار بار دوسروں کے جانوروں کے بارے میں اطلاع فراہم کرتے رہتے ہو نہ کہ فلاں نے اتنے کا جانور لیا۔ فلاں کی گائے ایسی ہے.. بلا بلا.. اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تم اپنی تفریح کیلیئے یہ سب چاہ رہے ہو. جبکہ میں اپنی حیثیت کے مطابق کرنا چاہ رہا ہوں." شمیم صاحب اب ہاتھ دھو کراندر لاؤنج میں آگئے تھے.
"بس اپنے پاس سے اندازے مت لگائیں۔ میں تو اچھا ہی چاہ رہا ہوں آپکا. مگر آپکو اپنی اولاد پر یقین ہوتا ہی کہاں ہے. "وہ اب منہ بنا کر بات کرنے لگا تھا.
"بیٹا کیوں لڑ رہا ہے باپ سے؟؟کل جب بات ختم ہو گئ تھی پھر دوبارہ وہی بات چھیرنے کی کیا تک ہے بھلا ؟دیکھ کل بھی سمجھایا تھا میں نے آج بھی یہی کہوں گی کہ جب اپنی محنت سے کما کر لاؤ تو اپنی مرضی سے جیسا دل کرے جانور بھی لے آنا ."یہ شمیم صاحب کی شریک حیات تھیں جو چائے کی ٹرے تھامے ابھی لاؤنج میں داخل ہوئی تھیں.
اور آتے ہی بیٹے کو نصیحت شروع کر دی تھی.
"چھوڑو تم اسے اسکا تو ایسے ہی چلتا رہے گا باہر سے جو لوگ اسے پٹیاں پڑھا کر بھیج دیتے ہیں. تم مجھے یہ ریموٹ پکڑواو... زرا خبریں ہی دیکھ لوں. "شمیم صاحب چائے کا کپ تھامے صوفے پہ براجمان اب ٹی وی کی طرف اپنی توجہ مبذول کرچکے تھے.
"ہاں اب تو آپ یہی کہیں گے... "فصیح کا موڈ بری طرح خراب ہوچکا تھا اس لیے باہر جانے کا ارادہ ترک کر کے ایک صوفہ پہ بیٹھا اپنا سیل فون استعمال کرنے لگا.
" ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ کراچی شہر کےاندرونی علاقے میں مقیم ایک بھائی نے دوسرے بھائی کا قتل کر ڈالا. ناظرین لواحقین کا کہنا ہے کہ دونوں کا آپس میں قربانی کے جانور پر پہلے مباحثہ ہوا. جب بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو مقرر کردہ رقم دینے سے انکار کردیا تو چھوٹے بھائی نے بنا دیر کیےبڑے بھائی پر چاقو سےوار کر دیا. ناظرین...."
خبرنامہ میں چلنے والی اس خبرنے ایک دم سے لاؤنج میں خاموشی طاری کر دی تھی. فصیح کے بھی سیل فون پر چلنے والے ہاتھ تھم گئے جبکہ شمیم صاحب ٹی وی کی آواز میوٹ کرچکے تھے اور چائے کا کپ سینٹر ٹیبل پر رکھ کر فصیح سے مخاطب ہوئے.
" دیکھو بیٹا...عبادتیں مذاق نہیں ہوتیں،جس کا جیسا دل چاہے ادا کرلے.اللہ نے جس کو جتنا عطا کیا ہے سب اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چادر پہ پیر پھیلاتے ہیں. بےشک موت برحق ہے اسلیئے وہ انسان قتل ہوا مگر کتنی بے تکی بات پر ایک بھائی دوسرے بھائی کا قاتل بن گیا.بیٹا یہ قربانی جس واقعہ کی مثال ہے اس میں ایک باپ کی بیٹے سے اور بیٹے کی باپ سے الفت دکھائی ہے مگر پہلے اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری نظر آتی ہے کہ بغیر چوں چرا کیے جو حکم ملا اسے پورا کیا.
ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان کی قیمتی شےانکا بیٹا تھا اور آج میرے رب نے احسان کیا ہے کہ ہم سے ہماری قیمتی شے نہیں مانگی اس نے ہم سے اتنی بڑی آزمائش نہیں لی اور ہم اس پر پورا اتر بھی نہیں سکتے تھے.اپنے دل سے قریبی چیز کو راہ حق میں قربان کرنا مطلب اپنی جان قربان کر دینا ہے مگر میرے رب نے ایسا نہیں کیا. اس نے بس ہمیں ہماری انا اور خواہشوں کو قربان کرنے کا حکم دے دیا. بیٹا کسی بھی عبادت میں اخلاص اس کا اہم جزو ہوتا ہے میرے رب نے مجھے جتنا دیا ہے اس کے مطابق جتنا حصہ ڈل سکتا ہے نیکی میں, میں ڈال رہا ہوں. بیجا ضد کرنے کے بجائے اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہارے باپ کا رزق کشادہ کر دے پھر میں اس حساب سے قربانی کروں گا. اور بیٹا بہت سے لوگ تو اس عبادت سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کی استطاعت نہیں ہوتی اور کیا تمہیں نہیں سکھایا گیا کہ دینوی معاملات میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھو۔اوپر والوں کو دیکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مہنگی سے مہنگی قربانی کی جائےاوپر والوں کو دیکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ کی عبادت میں سادگی اورعاجزی ہو کہ آپکی عبادت دوسروں کو معلوم بھی نہ ہو پائے. اس کا تماشہ نہ لگے نہ ہی وہ باعث زحمت ہو کسی کے لیے." شمیم صاحب بہت آرام سے سمجھا رہے تھے پھر تھوڑا توقف سےبولے.
" کیا اب تم میری بات سمجھ گئے فصیح؟"
"جی.. بہت بہتر پہلے ہی سمجھا دیا ہوتا بلاوجہ خواری کر رہا تھا نیا جانور خریدنےکے لئے." وہ اب ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا.
" اب کیا کریں پہلے یہ حادثہ نہیں ہوا تھا".شمیم صاحب کا اشارہ اینکر کی سنانے والی خبر کی طرف تھا .ان کی اس بات پر سب ہنس پڑے.




































