
ریطہ طارق
دل لگی بھی کیاچیز ہے،الخدمت فاؤنڈیشن سے بھرتی ہوئےستارے جگہ جگہ دیکھ کررشک آتا ہے،جن کے پاس
ناقص سامان ہے،نفری کی قلت ہےاوردینے کے لیےاپناجسم وجان۔
پھر راحت فتح علی کی آواز جب راہ سے گزرتی گاڑی سے آئی "تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی،محبت کی راہوں میں آکے تو دیکھو"
ان راہوں کےسحر میں کھوئے ہوئے راہی مدہوش اپنی منزل پرجا بجا سربکف۔۔۔۔الخدمت فاؤنڈیشن اس ملک پر خدا کا انعام ثابت ہوئی ہے ۔
خدا کی محبت خدا کےمتوالوں کا کیسے امتحان لیتی ہے؟؟؟
میں نے اپنی الماری کھول کر دیکھا،کئی جوڑے مختلف برینڈز کےتھے،پھرچیختی عورت کی دل دہلادینے والی آواز کان میں گونجی، جس نےعمر بھر کی جمع پونجی سے جہیز تیار کیا ہوگا، بیٹی کوبیاہنےکے لیے،ایک آن میں سب کچھ میں تباہ ہوگیا۔
کیا بیتی ہوگی ناں۔ کل کی ہی بات ہے،میں سوچ رہی تھی گھرکا فرنیچرکچھ پرانا لگ رہا ہے، نئی خریداری ہونی چاہیے۔ادھرہجرت زدہ بےیارو مددگارپکارتے دیکھے، جنکے پاس رہنے کے لیے انکا گھر پانی میں بہہ جاتا ہے، دل پسیجنے لگا، آج فیملی میں جہازکے ٹکٹ کی بات چھڑی،بچے ناردن ائیریاز گھومنے کا پلان بنارہے ہیں۔
وہ الخدمت کےجاں نثار ہوائی مدد کے منتظر نظر آئے۔خبر دیکھی تو دل بیٹھ گیا،یہ کیسی بات ہے،ایک ہوائی جہازیا ہیلی کاپٹر میسر نہیں ہے کہ ہماری الخدمت فاؤنڈیشن خدمت کرسکے،وہ توپھر بھی ایڑھی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہر مدد کو تیار۔۔
وطن کی مٹی گواہ رہنا#
وہ اپنی کوئل جیسی آوازمیں یہی کہتی تھی،وہی گواہی۔۔۔۔۔مٹی دے گی۔۔۔
سیاہ دل حکمرانوں کے لیے۔۔۔۔
یہ ہماری عقل ہے کہ ہم ان سے مدد مانگیں۔۔۔یہ تو دھکیل کر قیامت خیز چٹیل میدان کے ہونہار مہمان ہیں،ان کو کیا معلوم انسانیت کا ہوتی ہے۔انسانیت کا کلمہ پڑھنے والے انسانیت کی الف اورب نہیں جانتے۔
کیوں پھر ان کی طرف نگاہ ہو؟شعورکی بات کرتےہیں،ووٹ کو دیانت دارلوگوں کو دو۔
ہم نے آج تک اکیسوی صدی کی دہائی پر یہ لازوال آفت حاصل ی تو کیوں؟کیونکہ ہم نے ٹپ ٹاپ سے رہنے والے ہیلی کاپٹروں سےسفر کرنے والے وہ لیڈر چنے جن کےپاس سیلاب زدگان کو دینے کے لیے اپنا ہیلی کاپٹرنہیں ہے۔
ہم نےان کی تقریروں اورفیک وڈیوزکواپنا معبودبنایا اورملک کا نقصان کیا۔
ریاست مدینہ کا دعوے دار ہیلی کاپٹرپرجھول کر چلا جاتا ہے،ساتھ بہانا بھی کہ اطلاع نہ تھی ادھر پانچ لوگ کوہستان میں سیلاب کی زد میں ہیں،وزیراعلی کو مطلع کیا جاتا ہے،مگر بے سود،ہر طرف سے ہمارے امیر محترم سراج الحق صاحب مدد مانگتےہیں،اس حکومت کے پاس سے ایک ہیلی کاپٹر نہیں ملتا۔
وہ نوجوان ڈوب جاتے ہیں،جنہیں ابھی ملک کو تعمیر کرنا تھا،کیا فرق پڑتا ہے،ان کوہساروں سے جنت کے کوہسار چلے جاتے ہیں،ہاں جاتے جاتے رنجیدہ زمین کو بے بسی سے دیکھتے ہوئے جاتے ہیں،جہاں بے یار و مددگار ان کے رشتےسسک رہے ہیں،لیکن ہوبھی کیا سکتا ہے۔
میرے کپڑے، جوتے،کنگن قربان میرا پاکستان۔چلتی گاڑی سے دیکھا،الخدمت فاؤنڈیشن کے ریلیف فنڈ باکس میں ایک بچہ کچرہ سمیٹنے والا 10 روپے ڈال رہا ہے۔اپنا آپ ٹوٹتا محسوس ہوا،جس کے پاس آج کچھ بھی نہیں وہ بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالے گا۔ اس ن کے غنچوں کا خون بھی سفید نہ ہوا،سفید ہوا تو وہ خون جو کبھی خون تھا ہی نہیں۔۔
کامل یقین خدا کی ذات پر ہے،وہ اس ملک کا بوٹا بوٹا سنوارے گا،بس شعور آجائے،ہم اور تم ملک کے وفاداروں کو پہچان لیں۔
اللہ ہم سب کا نگہبان




































