
کلثوم جاوید
جب كهلم کھلا بے حیائی ہونے لگے۔ بے پردگی کو روشن خیالی سمجھا جانےلگے،بے پردگی اوربے حیائی کا پرچارکیا جانے
لگے،اس کے دفاع کے لیےقانون سازیاں ہونے لگیں،برائیوں میں سبقت حاصل کرنےکی کوشش ہونےلگیں۔مخلوط محفلیں اوران میں بے ہنگم میوزک وڈانس، برائی کی دعوت دیتے مرد و خواتین ،خود مائل ہونے والے اوردوسروں کو مائل کرنے والے،پھر ہوس کے مارے لوگوں کی آپس میں دوستیاں ہوں تو پھر اس کے دفاع کیلئے آنکھوں کے پردے کاراگ الاپنے والوں کی روشن خیالی کا انجام نورمقدم اور سارہ کی طرح ہوتا ہے۔ پھر یہ بے باکی ایک قدم اورآگے بڑھتی ہے ،جب مارڈرن آنٹیاں مظاہرے کرتی ہیں کہ انہیں آزادی چاہئے۔
کس سےبھلا عقل پرماتم کرنے کا مقام ہے۔انہیں اپنےہی باپ سےبھائی سےشوہرسےاوربیٹوں سےآزادی چاہئے۔غلامی کرنی ہے اپنے باس کی اپنےبوائےفرینڈ کی۔ انہیں نہیں پسند گھرداری کرنا ،شوہرکو خوش رکھنااس کےلیے تیار ہونا،انہیں تو پسند ہے،دو ٹکے کی چیزوں کےاشتہارمیں اپنی بےحرمتی کروانا،سڑکوں پردھکے کھانا،غیر مردوں کے ساتھ آفیسز میں کام کرنا۔اپنے آفیسرکی جھاڑکھانا ، باس کو خوش کرنے کیلئے اسےچائے پیش کرنااورجانےکون کون سی زلالت کے کام انہوں نے اپنے لیے پسند کرلئے ہیں ۔
اس پ بھی بھی ان این جی اوزکی مارڈرن آنٹیوں کوسکون نہ ملاپھرایک قدم اورآگےبڑھايا اورنہ جانےکب چالاکی اورخاموشی سے ایل بی جی ٹی کا بل پاس کروالیا۔ پھر بل پیش کرنے والوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں ۔ خواجہ سراؤں کی آڑ میں پوری قوم کوعمل قوم لوط کرنےکی اجازت دے رہے ہیں۔ وہ بھول گئے۔۔۔ بلکہ انہوں نے قرآن کو پڑھا ہی نہیں کہ قوم لوط کا انجام ہوا کس طرح ۔۔۔ خوشحال قوم پراللہ نے عذاب کے کوڑے برسائے ہر نافرمان قوم پرعذاب آیا ۔ کسی پرہوا کا، کسی پر پانی کا تو کسی کو زلزله نےآلیا ،کسی پر پتھر برسائےگئے لیکن کیا ہوا کہ اس قوم پراللہ نے پتھروں کی بارش بھی کی زلزلوں سے بستی کو الٹ دیا گیا۔ ان کا نام ونشان بھی ختم کردیا گیا۔ کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ پھر اس جگہ کو اس عذاب زدہ بستی کے کھنڈرات کو سمندر نےڈھانپ لیا۔جی ہاں آج جسے ہم بحرہ مردار یا ڈیڈ سی کے نام سےجانتے ہیں یہ قوم لوط کا مسکن تھا اس پانی میں آج تک زندگی کے کوئی آثارنہیں دنیا میں واحد بحیرہ مردار ہے۔جہاں سمندر میں کسی قسم کی نباتات جاندار شے کا وجود نہیں ہے۔ اللہ کا سب سے زیادہ قہراسی قوم پر نازل ہوا تو کیا ہم ٹرانسجینڈر جیسا ناپاک قانون بنا کر اللہ کےعذاب سے کیسےبچے رہیں گے۔
ہرگز نہیں جب ہم اللہ کے قہر کواس کےعذاب کو دعوت دیں گےتوزمین بھی ہم سےپناہ مانگےگی دنیا کےلیے ہم تماشہ ہوں گےجو رب کائنات کو چھوڑ کر دوسروں کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو میرے رب نےقرآن میں صاف صاف فرمادیا کہ وہ تو تم سےہرگز راضی نہ ہوں گے،"ہاں البتہ الله ضرورناراض ہوجائےگااورجس سے وہ ناراض ہوجائےاسے کہیں عزت نہیں ملتی ۔ نہ گھر کے اندر نہ گھر کے باہر،زمین کے اوپر نہ زمین کے اندر انہیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔
تو پھرایک اور قدم آگےبڑھایا اس قانون کےدفاع میں ایک فلم"جوائےلینڈ "بنا دی گئی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر كانس فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش کروادی گئی۔ اس فلم میں پاکستانی پیسہ لگا نہ کوئی پاکستانی پروڈیوسربلکہ انڈین اورامریكن پرڈیو سر اوراس فلم پر پیسہ فارن فنڈنگ اور مختلف این جی اوز کی اشتراکیت سے لگا۔اس فلم کو دو ایوارڈ ،جیوری ایوارڈ اورکویرپام سے نواز دیا گیا کیوں کہ ہم نے سوچا اللہ رسول کےاحکام کو روندنے والوں کو یہ عالمی ادارے اتنا کیوں چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ آپ سے بغض رکھتے ہیں۔ان کے سینوں میں حسد کی آگ جل رہی ہے۔وه اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں ۔خدارا بچاؤ خود کو اوراپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ۔
قرآن کو پڑھو اس کو سمجھو پھرعمل کروتمہیں خود اپنے اور پرائےکی پہچان ہوجائے گی ۔دوست دشمن کی تمیزآجائے گی۔ دنیا اورآخرت میں عزت بھی مل جائے گی یاد رکھووہاں کی عزت جسےزوال نہیں ۔ وہاں کی کامیابی ہمیشہ کےلیےرہنےوالی ہے۔ دنیا کے لیے ابدی زندگی کا سودا نہ کرو۔ یادرکھو تم نہ تو اللہ کوتھکا سکتےہو۔ نہ ہراسکتے ہو ہاں البتہ تم خود کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا سکتے ہو ۔ اس کی نافرمانی کرکےاس کےاحکامات نہ مان کے۔اگر فلاح وکامرانی چاہتے ہوتو لوٹ آؤ قرآن و سنت کی طرف یہ تہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی سےہمکنار کرے گاایسی کامیابی جسے زوال نہیں ۔
نوٹ :ایڈیٹرکا بلاگر کےخیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)




































