
خورشید بیگم
کوہ فاراں پہ خورشید غار حرا
جب ہوا جلوہ گر دیکھتے دیکھتے
پرتو نور حق سے درخشاں ہوا
نجم بخت بشر دیکھتے دیکھتے
کئی روز سے سوچ رہی تھی کہ نبی رحمت کی کس خوبی پر لکھوں ؟وہ جوسراج منیر ٹھہراتو اس کی تو ساری کرنیں ہی نورانی ہیں ۔ ماہ ربیع الاول میں میری کئی بہنوں نے ان روشن کرنوں سے ہمارے سینےمنور کیے ہیں ۔ ایسےمیں مولانا حالی کا یہ شعر رہنما بن کر میرے سامنے آ گیا ۔
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
بداندیش کے دل میں گھر کرنے والا
دل نے گواہی دی کہ مخالفین اور دشمنوں کی بدسلوکیوں کو آسانی سے بھلایا نہیں جا سکتا ۔ مگر رحمت عالم کا اسوہ حسنہ تو جانی دشمنوں کو معاف کر دینے کی مثالیں رکھتا ہے ۔ بس پھر سیرتِ مطہرہ کے اسی گوشے کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں لگ گئی ۔
مکہ مکرمہ کو فتح ہوئے ابھی ایک دن گزرا تھا۔خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ فضالہ بن عمیر نے آپ کو دیکھا تو نعوذباللہ آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچا تو متوجہ ہوئے اور پوچھا کیا فضالہ ہو؟؟ اس نے جواب دیا جی ہاں فضالہ ہوں ۔رسول بر حق نے پوچھا "کس ارادے سے آئے ہو؟" اس نے جواب دیا "جی کوئی خاص ارادہ نہیں ،بس اللہ اللہ کر رہا ہوں". حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا "فضالہ تم کسی اور ہی ارادے سے آئے ہو" وہ حیرت زدہ رہ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت شفقت سے فرمایا" فضالہ تم اپنے رب سے اپنے لیے معافی مانگو " ۔ پھر آپ نے اس کے سینے پراپنا دایاں ہاتھ رکھ دیا ۔ فضالہ کہتے ہیں کہ میرے دل کو عجیب قسم کا سکون اور سرور حاصل ہوا۔ ابھی چند لمحے پہلے میں جس شخص کو قتل کرنے آیا تھا۔ اب میرے لیے اس سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا ۔ میں کچھ دیر تک اس عظیم ہستی کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا، میرے دل کی روشنی برابر بڑھتی رہی اور میری روح کو ایسی فرحت حاصل ہو رہی تھی جس کو میں بیان نہیں کر سکتا ۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ہجرتِ مدینہ کے دوران پیش آیا ۔ قریشِ مکہ نے رسولِ بر حق کی گرفتاری پر سو اونٹ انعام دینے کا اعلان کیا تھا ۔ انعام کے لالچ میں جو شخص سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعاقب میں دوڑا وہ سراقہ بن مالک تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے ہمراہ رابغ اوراور ساحل بحر کے درمیان میدان میں سے گزر رہے تھے تو سراقہ کی نظر آپ پر پڑی ، اس نے گھوڑا آپ کے تعاقب میں ڈال دیا ۔ دل میں خوش ہوا کہ اب کامیابی یقینی ہے ۔ گھوڑے کو زور دار ایڑ لگائی ۔ قدرت مسکرائی اور دوسرے ہی لمحے اُسکا گھوڑا گھٹنوں کے بل زمین پر آگرا تیزی سے اُٹھا۔ گھوڑے کو اٹھالیا، چند قدم ٹہلایا اور پھر اُس کی پشت پر سوار ہو گیا ۔ محبوب خدا ذکر و فکر میں مشغول اپنے رب سے لو لگائے چلے جارہے تھے سراقہ پر نظر پڑی تو اپنے خدا سے فریاد کی" پروردگار ہمیں اسکے شر سے بچانا" زبان مبارک سے دعائیہ کلمہ پورا ہوا ہی تھا کہ گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ سراقہ دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ سمجھ گیا کہ خدا نے ان کی حفاظت کا خصوصی انتظام فرمایا ہے ۔ اُٹھا اور نہایت عاجزی کے ساتھ جان کی امان طلب کی ۔ نبی مہربان نے امان دے دی تو کہنے لگا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپکے تعاقب میں آنے والے ہر شخص کو راستے سے ہی لوٹاتا رہوں گا۔ وعدہ کر کے پلٹا تو حضور نے فرمایا سراقہ اُسوقت تمھاری شان و شوکت کا کیا حال ہوگا؟ جب تمھارے ہاتھوں میں۔ کسری کے کنگن پہنائے جائیں گے ؟ چند سال ہی گزرے تھے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے اُسے کلمہ پڑھایا۔ لیکن اس دلخراش واقعہ کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان پر نہ لائے ۔
ہجرت نبوی کا تیسرا سال تھا ۔ فریش بدر کےمقتولین کا بدلہ لینے کے لئےبے تاب تھے۔ عمیربن وہب حضور کا جانی دشمن تھا ۔ صفوان بن امیہ نے اسے زبردست انعام دے کر مدینہ بھیجاکہ وہاں جا کر حضرت محمد کو قتل کردے۔ عمیر نے زہر میں تلوار بجھائی اور حضور کے خون سے پیاس بجھانے کے لئے مدینہ منورہ میں داخل ہوا ۔ نبی کے جانثاروں نے اسکے تیور پہچان لئے اور اسکے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرمایا اور نہایت شفقت سے عمیر کو اپنے پاس بٹھایا ، محبت کے ساتھ اُس سے باتیں کیں اور پھر اس پر وہ راز ظاہر فرما دیا جس ارادے سے وہ آیا تھا ۔ رحمت عالم کی زبان سے یہ سن کر وہ سنائے میں آگیا اور سمجھ گیا کہ میری قضا مجھے یہاں لائی تھی ۔ اب یہاں سے بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ رسول مکرم نے اسکی کیفیت بھانپ لی۔ اُسےاطمینان دلایا اور فرمایا "تم آرام سے رہو یا جاؤ ، کوئی تمھیں کچھ نہیں کہے گا "۔ یہ شان کرم دیکھ کر اسکے دل کی دنیا بدل گئی۔ گویا اندھیرے سے روشنی میں آ گیا اور کہا یا رسول اللہ مجھے اپنے جانثاروں میں شامل کر لیجئے۔ اس طرح عمیر دولت ایمان سے مالا مال ہو کرمکہ پہنچے اور وہاں اسلام کی دعوت میں لگ گئے۔
سیرت مطہرہ اس طرح کےعفوودرگزرکےواقعات سے مزین ہے۔ میں نے مثال کے طور پرچند واقعات یاد دہانی کے لئے نقل کئے ہیں۔ رحمت و رافت کی اس سےبڑی مثال کیا ہوگی کہ فاتح مکہ بن گئے- شعب ابی طالب میں محصور کر دینے والے ، آپکو اور آپ کے ساتھیوں کو بے سروسامانی کی حالت میں ہجرت پرمجبورکر دینےوالے جانی دشمنوں پر غلبہ حاصل ہو گیا۔ آپ کا ایک اشارہ سب کو تہہ تیغ کر دینے کے لئے کافی تھا لیکن قربان جائیں شان رحمت کے کہ لا تثریب علیکم الیوم کا مژدہ سنا کر سب کے دل جیت لیے ۔
اس میں ایک سبق ہےان کےلئےجوٓاس نبی برحق پرایمان رکھتےہیں لیکن آپس کی چھوٹی چھوٹی رنجشوں کوسدا بہار کدورتیں بنا لیتے ہیں۔ جبکہ قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق کی قسمیں کھا لیتے ہیں۔ خدا لگتی کہئے۔آپ نے کسی سے بدسلوکی کی ہوگی ، کسی کا حق ماراہوگا۔ کسی سےبدکلامی کی ہوگی لیکن حبیب خدا نےتو دین حق کی خاطر ماریں کھائیں ،ظلم برداشت کیا ۔ پھر ظالموں کومعاف کر دیا، میری تحریر خصوصاً أن عاشقان رسول کے لئے ہے جو صوم وصلوٰۃ کے پابند ہیں۔ میلاد کی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں۔ درس قرآن سنتےہیں ،لیکن معمولی اختلافات کی گرہ دلوں میں باندھ کرخاندانی اور قریبی روابط کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں ۔
نبی رحمت نے تووحدت امت کا درس دیا ۔امتی وحدت خاندان سے محروم ہوتےجار ہے ہیں ۔ یہ کیسی محبت ہے پیارے نبی سےجو پیروی کا درس نہیں دیتی ۔اسی لئے تو آج کے مسلمان کا کردارغیر مسلموں کو متاثر نہیں کرتا جبکہ یہ صحابہ کرام کا مومنانہ رویہ تھا جس کی بنا پر اسلام دنیا کے ہر گوشے تک پہنچا ۔
میری عزیز بہنو ! آئیے آج پھر نبی محترم کی سیرت طیبہ کو اپنا کر اپنے دشمنوں کو دوست بنالیں غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کر لیں۔ بڑا نفع بخش ہے یہ سودا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔جلدی کیجئے اور نجات اخروی کا راستہ اپنا لیجئے ۔ اور ثابت کر دیجیےکہ:
آپ سے حاصل ہوئی ان کو شفا
تھے جو آدم زاد روحانی علیل
ہم کو راہ زیست میں یا مصطفے
آپ کا ہرنقش پا ہے سنگ میل
صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔




































