
بنت اقلیم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! آج میری ملاقات چار سال کے مفتی صاحب اورسات سال کی عالمہ صاحبہ سے ہوئی۔ دونوں اتنی پیاری عربی بول رہے
تھے، کہ شرمندگی ہورہی تھی، کہ ہمیں جواب ہی نہیں دینا آرہا تھا بچوں کو، پھر بچوں سے ہی جواب پوچھ کر دینے کی کوشش کی، تو دونوں خوب ہنسے۔ کہنے لگے پھپھو عربی جنت کی زبان سے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہے۔ ہم سے کوئی عربی میں بات ہی نہیں کرتا گھر، ہمیں سعودی عرب جانا پڑے گا، تاکہ ہم عربی میں بات کرسکیں۔ میں نے کہا پھپھو تو روزہی سعودی عرب جانے کی دعا مانگتی ہیں۔ اپنی پھوپھو کے لیے بھی دعا کیجیے، کہ پھپھو بھی سعودی عرب جاکر عربی سیکھ سکیں، پھر ہم مل کر خوب باتیں کریں گے۔
بچوں کا ذہن کچی سلیٹ کی مانند ہوتا ہے، جس ماحول میں تربیت کی جاتی ہے، ویسے ہی بن جاتےہیں۔ ہمارے معاشرے میں مدارس، عالم و عالمات اور حفاظ کے لیے وہ شوق نہیں پایا جاتا ہے جیسا ہونا چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کو بچپن ہی سے انگریزی سکھانے میں ہلکان ہوتے ہیں اور اردو سے ان کو خود دور کردیتے ہیں، جیسے اردو کوئی بہت بری زبان ہے۔ انگریزی سیکھنا بلکل بھی مشکل نہیں ہے،بچے اسکول جاتے ہیں تو باآسانی سیکھ لیتے ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ عربی بہت خوبصورت زبان ہے۔ ایک اور غلط فہمی میں ہم لوگ مبتلا ہیں، کہ لڑکیوں کو قرآن مجید حفظ نہیں کروانا چاہیے، شادی کے بعد وہ بھول جاتی ہیں تو، گناہ ہوتا ہے۔ ہمارے استاد صاحب کہتے ہیں یہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو دینی تعلیم سے دور رکھنے کے لیے ایک پروپیگینڈا پھیلایا گیا ہے جب کہ یہ بات سچ نہیں ہے، بچیوں کوضرور حفظ کروانا چاہیے۔
الحمدللہ رب العالمین اس وقت دین کا رجحان پہلے کے مقابلے میں کافی بڑھ گیا ہے۔ بڑے اچھےاچھے مدارس کھل گئے ہیں جہاں عصری اور دینی تعلیم دی جاتی ہے اور فیس بھی نہایت مناسب یے۔ بچے بہت اچھے نکلتے ہیں۔ عام مشاہدے میں یہ بات دیکھی گئی ہے، کہ مدارس کے پڑھے ہوئے بچے بہت باادب نکلتے ہیں۔ والدین کے فرمانبردار بھی ہوتے ہیں اور نماز کی بھی پابندی کرتے ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے، کہ ہم اپنے بچوں کو دین کی تعلیم ضرور دلائیں۔ لوگوں یاد رکھو! جنت کا سودا بہت مہنگا ہے، جنت کا سودا بہت مہنگا ہے۔




































