
صبا احمد
اردو ہماری قومی زبان ہماراافخراورپہچان ہے۔آئین کی رو سےاورقائد اعظم رحہ کی پسندیدہ زبان اوربر صغیر کا تشخص ہے ۔ایک یونیورسٹی میں طالبہ
کے چہرے کو سیاہ کیا گیا ۔وہ بھی اس کے یونیورسٹی میں اردو بولنے پر ۔۔۔۔!
یہ بہت المناک خبر ہتھی کےوہ انگریزی کیوں نہیں بولتی۔یہی معیاراب ہماری اونچی سوسائٹی کاہے۔لوگ انگلش میڈیم اسکول میں اولیولزیااے لیولز کرواتے ہیں۔ پڑھنے لکھنے میں زیرومگر انگلش بولنا آتاہے۔اردو ہماری اقدار،روایات،تہذیب،ادبی لوگوں اورگھرانوں کامعیار ہے ۔شعر اور ادب کی منزل ہے۔اردو زبان ہماری پہچان ہے۔
اس کاسخن شیرینی اورتعمیروترقی ہمارامان ہے۔اردو جس کےمعنی" لشکر " کےہےجوعربی فارسی ،ہندی، سنسکرت اردو اورترکی زبانوں کا مرکب ہے ۔
اس کا رسم الخطہ عربی ہے ۔25 فروری کو اردو زبان کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم نے اسے قومی زبان قراردیا ۔ قومی قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں جواپنا علم وفنون ،سائنس اور ٹیکنالوجی ، ثقافت، تجارت، سیاست اورصنعت کے لیے اپنی زبان قومی زبان کو رائج کرتی ہیں ۔یہ آپ کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔تمام ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنی زبان ہی کی وجہ سے ترقی کررہے ہیں ۔ ان کی تعلیم وتربیت تجارت، صنت اور دفاتر اور عدالتی نظام میں استعمال ہونے والی زبان ان کی پہچان ہوتی ہے ۔جاپان، روس ،جرمن ،فرانس اور برطانیہ اور امریکہ اس کی مثال ہیں ۔ہمیں 75 سال ہوگئے ہیں برطانوی راج سےآزاد ہوئےمگر ہم اب بھی انگریزی زبان کےغلام ہیں۔
ہماری تعلیم اوردفتری عدالتی اورتجارتی زبان انگلش ہےجو ابھی تک اپنی جگہ نہیں بناسکی اورنہ ہی ہماری نسل اس میں پروان چڑھ کرسکی ۔ گورنمٹ اداروں میں بھی اور غیر سرکاری اداروں میں ہم آدھا تیتر ادھا بیٹر کے مصداق ہیں ۔
جو قومیں اپنی زبان کو ترقی دیتی ہیں ۔وہ ہی ترقی کرتی ہیں ۔عرب اپنی زبان پر فخر کرتے تھے ۔باقی یعنی عجمی کو امی ان پڑھ اورگونگےبہرے سب سے موثرذریعہ ہے، ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے ،نہیں تو یہ ناپید ہو جائے گی اور ہم اپنا قومی تشخخص بھی کھو دیں گے ۔صحافت اور ہمارا ادب اس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بححیثیت پاکستانی اس کی اشاعت و ترویج پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔




































