
ام سعد
آج جب میرے شوہر نے کہا کہ بہت دن ہوئے پراٹھا نہیں کھایا تم مجھے آج پراٹھا بنا دو، تومیں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ کل ہی تو آپ
نے انڈہ پراٹھے کا ناشتہ کیا تھا ہوٹل سے۔
دراصل پچھلے کچھ دنوں سے ہماری طبعیت ناساز چل رہی تھی،اسی وجہ سے میاں صاحب نے ہمیں ڈسٹرب کرنے کے بجائے باہر سے ناشتہ کیا اور آفس چلے گئے
تو کہنے لگے وہ بھی کوئی پراٹھے ہوتے ہیں۔ میں تو تمہارے ہاتھ کے پراٹھوں کی بات کررہا تھا۔ بہت دن ہوئے تمہارے ہاتھ کے پراٹھے کھائے ہوئے۔
یہ ایک عام روزمرہ کی گفتگو تھی مگر یقین کریں خوشی اور فخرکا عجیب سا ملاجلا احساس تھا، میں نے سوچاکہ "اپنا کھانا خود گرم کرو" والی فیمینسٹ آنٹیاں اس مزے کوکیا جانیں۔۔
ہاں یہ مزہ، یہ لطف اور یہ خوشی تو صرف ہم جیسی خواتین ہی محسوس کر سکتی ہیں۔۔۔ جب صبح آفس کی تیاری کے دوران سامنے رکھی چیزیں بھی مردوں کو نظر نہیں آتیں اور ہر چیز کے لیے وہ ہمیں آواز دیتے ہیں تو اس وقت کی کیفیت کو
"اپنا موزہ خود ڈھونڈو" کا نعرہ لگانے والیاں کیسے محسوس کر سکتی ہیں۔۔
نام نہاد خواتین کے حقوق کی علمبرداران سال میں ایک دن عورتوں کے نام کر کے نجانے کون سا احسان کرتی ہیں مگر۔۔قدرت کے اس نظام میں جو اسلام ہمیں دیتا ہے اس میں تو ہر دن ہم خواتین کا دن ہوتا ہے۔
اس ایک ہفتے کی بیماری نے مجھے یہ سمجھا دیا کہ میرے بغیر یہ دنیا توچل سکتی ہے مگرمیرا گھر اور اس سے جڑے رشتےمیرے بغیر ادھورے اورنامکمل ہیں۔
میرا گھر میری جنت ہے،جہاں سال کاہر دن میرا دن ہے اور میری جیسی تمام خواتین کو ہردن خواتین کے دن کے طور پر مبارک ہو ۔




































