
نادیہ سیف
ایک قرض خواہ اپنےقرض دارسے ایک طے شدہ شرح کےمطابق جو زائد رقم اصل کےعلاوہ وصول کرتا ہے وہ عربی میں ربوااور ہماری زبان
میں سود کہلاتا ہے۔
یہ کون نہیں جانتا کہ سود لینے والوں میں حرص،لالچ اور خودغرضی جب کہ سود دینےوالوں میں نفرت ،غصہ،بغض وحسد جیسےامراض پیدا ہوتے ہیں جس سے ایک ایسا بدبودارمعاشرہ وجود میں آتا ہےکہ انسانی محبت،اخوت اور ہمدردی کی جڑیں کٹ جاتی ہیں۔ ایک گروہ کی بدحالی سےدوسرے گروہ کی خوشحالی کا سامان پیدا کرنا اجتماعی فلاح و بہبود پر کس قدرتباہ کن اثرات ڈالے گا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
ہاں اندازہ لگانے کے لیے اپنے ارد گرد ٹی وی،اخبارات اورسوشل میڈیا پر چلنے والےاشتہارات پر نظر ڈالیےجو نت نئی کہانیوں اورواقعات پر مبنی ہیں جس میں عوام کی مشکلات کا حل مختلف ایپس (ضرورت کیش ،ادھار پیسہ،منی بی،کوئن بی ،مون لون،ایزی لون ،اسمارٹ قرضہ،بروقت لون ڈاون لوڈ کرنا اور اچانک ضرورت پڑنے پر صرف ایک کلک پر اکسایا جا رہا ہے جس میں یہ ایپس تین ہزار سے لے کرایک لاکھ تک کا قرض آسان شرائط ،کم از کم ادائیگی کا جھانسہ دے کر ،یومیہ نو،تیس،اور ایک سو پچاس روپےسود کی وصولی کا کہا جاتا ہےجو نا صرف اعلانیہ سود کا کھلم کھلا پرچارہےبلکہ عوام میں چھوٹے پیمانے پرنیچے تک سود خوری کا یہ زہر ہر جگہ ہر وقت بہم پہنچایا جا رہا ہے۔حتیٰ کہ ٹائر تک پنچر ہوجائے تو آپ ایک کلک پر لون حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہرجگہ فوری دستیابی کے ذریعےعوام خصوصاً نئی نسل کو ایسے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہےکہ آنے والےوقت میں فوری ملنے والی یہ وقتی آسانی زندگی کو انتہائی مشکلات میں پھنسا دے گی۔
افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ زیادہ ترمعصوم اور سادہ غریب عوام ہی اس چنگل میں گرفتار ہوں گے،جب کہ ستم ظریفی یہ کہ حکومتی اداروں نے اس طرف سے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
خدارا ذرا غور کیجیےکہ لون کی یہ قسم انتہائی خطرناک حد تک سنگین نتائج اختیار کرے گی۔ لہٰذا میری گزارش ہےکہ اس سے پہلے نئی نسل کا زیادہ تر حصہ اس دلدل میں گرے،اس بروقت ایپ کےاستعمال کوبروقت روکیے اور اس کے خلاف جہاں ،جیسے ممکن ہو آوازاٹھائیے۔
نوٹ: ایڈیٹر کا بلاگر کےخیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( اداررہ رنگ نو )




































