
راحیلہ خورشید
یہ ان دنوں کی بات ہے جب رشتوں میں ملاوٹ نہیں تھی ،نہ معیارزندگی دیکھا جاتا تھا، صرف خلوص و محبت رشتوں کوجوڑ کررکھتےتھے۔
انوارکی خالہ کی بیٹی کی کل مہندی تھی۔ اس کی شادی ایک ڈاکٹرسے طےہوئی تھی، لیکن شاید لڑکےوالوں کو جلدی تھی اس کی بہن باہرجا رہی تھی،لہٰذا ایک ڈاکٹر کا رشتہ تھوڑی بہت معلومات کے بعد طے ہوگیا۔
آج بارات تھی۔ اس لئےآفس سےجلدی آنے کا سوچا کہ خالو کے کاموں میں ہاتھ بٹاؤں گا آخرآج بارات ہے۔آج صبح آفس جاتے ہوئے ماں نے کہا کہ میں حاجرہ کواپنی طرف سے ٹی وی دوں گی تم لیتےہوئےآنا، ساتھ چل کر دلہن کےگھر دے آئیں گے۔ انوار نے سعادت مندی سے ہاں کہا اور آفس جانے کے لیے اللہ حافظ کہا ۔
گیارہ بجے کےقریب آدھے دن کی چھٹی لی اورمارکیٹ ٹی وی لینے کے لیے روانہ ہوا۔
تقریبا بارہ بجے کے قریب دلہن کی والدہ اپنی بہن یعنی انوارکی والدہ کے پاس روتی ہوئی آئیں۔ بہن بھی گھبرا گئی۔ اللہ پاک سے خیر کی دعا مانگنے لگی ۔ بہن کی حالت خراب ، ایک لفظ منہ سے نہیں نکل رہا تھا ۔ انوار کی ماں نےبہن کو پانی پلایا اور بے قراری سےرونے کی وجہ پوچھی ،تو دلہن کی والدہ نےبتایا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ لڑکا ڈاکٹرنہیں بلکہ کمپاؤنڈرہے۔ ہم نے معلومات صحیح نہیں کروائی ۔ آج کسی ہمدرد نےآکر بتایا جب ہم نےمعلومات کی تو معلوم ہوا کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہم نے رشتہ توڑ دیا۔ وہ پہلےسےشادی شدہ بھی تھا۔ شام کو بارات ہے،شامیانے لگ چکے ،دیگیں آچکیں ، ہم توکسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں ،کسی کو کیامعلوم کہ قصور کس کا زمانہ تو لڑکی کو ہی قصوروارٹھہرائےگا۔ یہ کہہ کر روتے ہوئے دلہن کی ماں بے ہوش ہوگئیں ،بڑی مشکل سے ہوش میں آئیں توانوار کی ماں نے کہا کہ بارات بھی آئے گی ۔ دلہن رخصت بھی ہوگی ۔
انشاءاللہ تمہاری عزت پرکوئی انگلی نہیں اٹھائےگا۔ دلہن کی ماں اپنی بہن کا چہرہ دیکھنےلگی جیسےوہ کوئی انہونی بات کہہ رہی ہیں توانوار کی ماں مسکرا کرکہنے لگیں کہ میرے انوار کو اپنی فرزندی میں لےلو۔ دلہن کے ماں باپ بے یقینی کی کیفیت سے انوارکی ماں کودیکھنے لگے اور دلہن کی ماں تڑپ کراپنی بہن کےگلے لگ گئیں اورخوشی کے آنسو رخسار پرلڑی کی طرح بہنے لگے پھرسجدہ شکر ادا کیا۔
اتنی دیر میں انوار ٹی وی لیکر گھرآگئے لیکن خالہ خالو خو دیکھ کرحیران ضرور ہوئے۔ بارات آنےمیں تھوڑی دیرہےاور یہ یہاں، تو ان کو دیکھ کر سب مسکرانے لگے وہ بھی مسکرا دیے بغیروجہ جانے۔
انوار نے اپنی ماں سے کہا کہ ہم خالہ کے ساتھ ان کے گھر چلتے ہیں ٹی وی دینے توماں نے بڑے پیار سےبیٹے کےماتھے کو چوما اور کہآ کہ اب اس کی ضرورت نہیں یہ ٹی وی اب یہی رہے گا انوار پریشان ہو گیا۔تو ماں نے پوری بات انوارکو بتائی کہ ان سب کی عزت تمہارے ہاتھ ہے۔ اس رشتہ کے لئے ہاں کردو ۔ انوار نے اپنی ماں کے حکم مان کر خالہ کی عزت رکھی اورشام کوانواردولہا بن کرخالہ کے گھر پہنچ گئے اور دلہن رخصت کرکے گھرلےآئیں۔ تھوڑے ہی دنوں بعد انوار کی نوکری کویت کے ایک بینک میں لگ گئی اوریوں انوار اور حاجرہ کویت منتقل ہوگئے اور بہترین زندگی گزارنے لگے۔اسی لئے کہتے ہیں جوڑے آسمان پر بنتے ہیں اور یہاں وقت اور حالات ملا دیتے ہیں۔
اللہ پاک ہر لڑکے اور لڑکی کا نصیب بلند کرے۔ آمین




































