
عظمٰی ابو نصرصدیقی
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے میدان جنگ میں ایک کافرکواخیروقت میں کلمہ پڑھنےکے باوجود قتل کردیا جس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
نے سخت خفگی کا اظہار کیا کہ کیا تونےاس کےدل میں جھانک کر دیکھا تھا کہ اس نےکس وجہ سےکلمہ پڑھاہے؟(نیک نیتی پر شبہ) اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تا حیات اپنے اس عمل پرشرمندہ رہے۔(متفق علیہ)
حیرت سد حیرت اس بات پر کہ جب مخالفین کو کچھ ناسوجھا توانہوں نےنیکیوں پربہتان لگانا شروع کردیا۔مخالفین کےمطابق حافظ نعیم الرحمن نے الخدمت کے فلاحی کاموں کے لیے حاصل شدہ رقم اپنی ذاتی تشہیرپرخرچ کی تو ذراآپ جماعت اسلامی میں شامل ہو کردیکھیں یا کم از کم تعصب کی عینک ہی اتار کردیکھ لیں کہ الخدمت کے مختلف کاموں کی مدمیں لی گئی۔ یہاں ہررقم مکمل حساب اورآڈٹ کے ساتھ ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے،حتیٰ کہ عام افراد تک تمام حساب کتاب چرم قربانی کی مہم کےطبع شدہ کارڈ کےپیچھےدرج ہوتا ہےکہ کسی کوکوئی ابہام نہ رہے۔لوگ الخدمت کے کاموں کو دیکھتے اور بھروسہ کرتے ہیں۔
جماعت اسلامی میں جس طرح شعبہ الخدمت ہے،اسی طرح شعبہ بیت المال بھی ہے۔کرپشن کا الزام لگانے والوں کو پہلےاپنےگریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور پھرجماعت اسلامی کی ویب سائٹس بھی وزٹ کرنے کی ضرورت ہےاور جہاں تک سوشل میڈیا پرتشہیر کی بات ہےتو آپ اپنی تشہیرکے لیےجس طرح تنخواہ دارملازم رکھتے ہیں ،جماعت اسلامی کے کارکنان اپنے مقصد اورامیرکی محبت میں یہ تمام کام بلا معاوضہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔
اس حساب سے توآپ کے لیے حسد کرنا بنتا ہےکہ آپ ایسےکام نہ کرسکےجولوگوں کےدلوں کوجیت سکیں۔ اس لیےآپ کا یہ شکوہ بھی بجا ہےکہ حافظ صاحب نے شہر کے ہرکھمبے اورپارک پر اپنے پوسٹرلگوارکھے ہیں ۔ ظاہرسی بات ہے کہ جو افراد یہ پوسٹر لگاتے ہیں کتنی بارحافظ صاحب کی تصویرکواپنے دلوں سے لگاتے اوراس عزم و حوصلے کو اپنے اندر منتقل کرتےہیں جوحافظ نعیم الرحمن نےسردی و بارش میں اپنے کارکنوں کے ساتھ سڑکوں پردیےدھرنوں میں ان کےاندرجگایا تھا ۔
جناب۔۔۔۔۔۔مقابلہ توان سے کیاجاتا ہےجس میں کہیں کچھ برابری ہواورآپ تواس دلوں کی تسخیرکےمقابلےمیں بلا مقابلہ ہی ہارگئے۔۔۔ میئرکراچی حافظ نعیم الرحمن کا ہونا اہل کراچی کے دلوں کی آواز ہے۔
نوٹ: ایڈیٹرکا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں




































