
حمادیہ صفدر
عافیہ کےتعارف میں پاکستانی مسلمہ اورغیرت مند شہری ہوناشامل ہے،تعلیمی لحاظ سےوہ حافظہ،عالمہ اورایک اچھی ڈاکٹرہیں۔ تعلیمی سلسلےکی
تکمیل کےبعد عافیہ صدیقی ملازمت کی تلاش میں رہیں۔ملازمت نہ ملنے پروہ امریکہ روانہ ہوگئیں اوروہ امریکہ میں کافی عرصہ اپنی ڈاکٹری کےذریعے خدمت اوراللہ کےدین کی تبلیغ کرتی رہیں۔ وہ اپنی ڈاکٹری کےذریعےہی لوگوں تک قرآنی نسائخ کی منتقلی کررہی تھیں۔ اسی کام کوایک سنگین جرم قراردے کرمعصوم عافیہ کوعرصہ درازسے پابند سلاسل رکھا گیاجواب تک جاری ہےاوراس کےساتھ ہی انہیں 86سال قیدبامشقت سنائی گئی اورکسی پاکستانی کواپنی قوم کی عزت وآبروکو رہائی دلانےکا خیال نہ آیااورانتہاء یہاں تک کہ خود اپنی بیٹی کو جوغیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل تھی چندروپوں کےعوض امریکیوں کوبیچ دیاگیا۔ آج تک امریکی ملعون اس صنف نازک معصوم شخصیت پرظلم وستم کےطوفان ڈھارہے ہیں، کوئی اس کی خبرگیری کرنےوالانہیں۔
عافیہ کامعاملہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی مثل بھی ہے۔انہیں بھی اپنوں نےہی پیسوں کےعوض فروخت کیا۔پھرشدیدافسوس اوردکھ کی بات ہےکہ جب سےعافیہ امریکیوں کی قیدمیں ہےاس وقت سے تین شاندارمواقع میسرآئےکہ جب بآسانی عافیہ کی رہائی ممکن تھی لیکن کبھی کسی نےاس معاملےپرغورہی نہیں کیا۔ اس بےگناہ کورہائی دلوانےکواہمیت ہی نہ دی۔
پاکستان میں بک جانا بہت عام ہےاور میرےقائد نےکہا تھا کہ پاکستانی قوم فاتح وکامیاب رہےگی جب تک بکےگی نہیں مگرافسوس صد افسوس کہ! قائدکےاسی فرمان کوغیراہم تصورکیا گیا۔ چندروپوں پراپناایمان بیچ دیناگواراکیاگیا۔ معمولی سےمسئلےمیں پاکستانی بک جانےکافیصلہ کرلیتےہیں۔
عافیہ کورہاکروایاجاسکتا تھا-یہ 27جنوری 2011کاواقعہ ہےجب امریکہ کےایک شخص رایمنڈڈیوس نےلاہورمیں دوپاکستانیوں کوقتل کیااورایک پاکستانی اسی مقام وموقع پرروڈ ایکسیڈنٹ میں جان سےہاتھ دھوبیٹھا تھا،پس ان تین مقتولین کےکیس میں رائمنڈڈیوس کوقید کرلیا گیا۔یہ شخص امریکیوں کےلیےایک غیرمعمولی اہمیت کاحامل تھا۔امریکیوں نےاس وقت اس کی رہائی کامطالبہ کیا۔پاکستانی دعویٰ کرسکتےتھےکہ تم رائمنڈڈیوس کےعوض ہماری آبروکوہمیں لوٹا دومگرافسوس کسی کوعافیہ مظلوم اس وقت یادہی نہ تھی تب پاکستانیوں نےرائمنڈڈیوس کوآزادکیااوربدلےمیں کئی ہزارڈالروصول کیے۔یہ حال ہےپاکستانیوں کی غیرت کا ۔
ایک اورموقع جب عافیہ کوچھڑوایاجا سکتا تھاجب امریکی خاتون آسیہ بی بی جس کواب آسیہ ملعونہ کےنام سےیاد کیا جاتا ہےاس نےمذہب کی توہین میں نازیباالفاظ اپنی زبان بد سےبکےتھے۔اس جرم میں اس ملعونہ کوقیدکرلیا گیا،اس کی سزائےموت کےاعلانات کیےگئےمگر8سال بعدعمران خان کےدورحکومت میں اس ملعونہ کوآزادی دی گئی اورباحفاظت اس کےوطن پہنچایا گیا۔اگراسےسزائےموت نہیں دینا تھی کم ازکم موقع سےفائدہ اٹھاکرمعصوم عافیہ کی آزادی کادعویٰ کیاجاسکتاتھامگروہ معصوم بےجرم ہےاورقیدطویل میں ظلم آزمائی جارہی ہے اوراس وقت کا امریکی صدراوبامااپنی صدارت سےاستعفیٰ دینےلگاتھا اس وقت اس نےعافیہ کی آزادی کااعلان کیا مگرغیرت سےعاری پاکستانی رہنماؤں نےانکارکردیا۔
عافیہ کی قیداورآزمائش فقط عافیہ کی نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کی آزمائش ہے۔ابھی بھی وقت ہےابھی بھی موقع ہے۔اگرپاکستانی اپنےدلوں سےشیطانیت ومنافقت کازنگ اتارکراپنی بہن کی آزادی کےلیےمتحدہوجائیں تووہ گھڑیاں دورنہیں جب عافیہ آزادہوجائےگی۔۔۔اپنی بہن کےپکارےہوئےاشعارسےہی سبق حاصل کرلو۔
اس قید کی کشتی ہوں میں
اور قید ہے منجھدھار
میں ڈوب رہی ہوں کوئی سنتا ہے یہ پکار
قاسم کابیٹا کوئی یا اس کا سا سالار
محمود کی غیرت یا صلاح الدین کا سا سالار
خولہ کی سی جرات بھائی جس کا تھا وہ ضرار
ہے کوئی جو خالد کی طرح رب کی ہو تلوار
سن اے میرے پیارے سن اے میرے پیارے
تیرا درماں ہے رہائی
ہوں گی میں بہن تیری اور تو میرا بھائی
ہوں گی میں اس کی جو سنے گا میری دہائی
اللہ کی بندی کو دلائے گا آزادی
اللہ نے سن لی ہے میرے دل کی منادی
نوٹ : ایڈیٹرکا بلاگرکےخیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو)




































