
لائبہ شفیق
عزیزترمجھے رکھتا ہے وہ رگِ جاں سے
یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے
بابا! ایک ایسی مشفق ہستی کہ جن پرلکھنے کے لیےآج جب قلم اٹھایا تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آغاز کہاں سے کروں۔ میرے ابو جان اپنے نام
کی طرح مشفق اورشفیق ہیں اورصرف اپنی اولاد کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کی شفقت ہرشخص پر دکھائی دیتی ہے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو شجر ِ سایہ دار کی طرح دیکھا ۔ نکھارتے ، سنوارتے اور محبتیں لٹاتے ہوئے، گویا زندگی کا مدار والدین کے گرد ہی گھومتا تھا۔ نہ موبائل، نہ انٹرنیٹ ،نہ ٹیلی ویژن، نہ ہی گھرمیں کوئی چوتھا فرد۔ پہلی اولاد ہونےکےناطے میں بھی مرکز ِ نگاہ ٹھہری کہ ٓآج بھی میرے بچپن کے قصے سنائے جاتے ہیں۔
میں بہت چھوٹی سی تھی جب سے یہ معمول تھا کہ ابوجان کےعشاءکی نماز سے لوٹنےکے قبل ان کے بسترپرلیٹ کر ان کے واپس لوٹنے کا انتظار کرتے۔ ابوجا ن سے روزانہ فیڈر پیتے ہوئے کوئی واقعہ سننامیرا معمول تھا اوربعد میں میری بہن جو مجھ سے تقریباََ ڈیڑھ برس چھوٹی ہےوہ بھی شامل ہوگئی۔ ہم دونوں ابوکے دائیں بائیں لیٹ جاتےاور کبھی ان کے سینے پرسو جاتے۔ ہمارے سونے کے بعد امی ہمیں بستر پر لے جایا کرتیں۔
دن میں دو بارابو کے ساتھ باہرجانا میرے معمول کا حصہ تھا۔ ابوجان کے ساتھ باہرجاتی اوربہت سی چیزیں خرید کر لوٹتی۔ صرف یہی نہیں ابو کے ساتھ مسجد بھی جایا کرتی تھی ۔ امی جان نے بطور خاص سفید کرتے شلوار سلوا رکھےتھے جو اکثر جمعہ کو پہنا دیتی تھیں۔ابو کے دوستوں کے ہاں دعوت پر بھی میں کئی بار ان کے ساتھ موجود ہوتی۔ زندہ دالان لاہور کی باسی ہوں ۔ بالخصوص اندرون شہر میں بچپن گزرا۔ باغ جناح کی سیر، بادشاہی مسجد ، شاہی قلعہ، چمن آئس کریم ہمارے تفریحی مقام رہے۔
قریباََ چار پانچ برس کی ہوئی تو ابوجان کی کتابوں کی شامت آگئی ۔ ابوجان چونکہ مدّرس ہیں لہٰذا کتابوں کا ایک وسیع ذخیرہ ان کے پاس موجود ہے۔ میں نہ صرف کتابیں پڑھا کرتی بلکہ ان کو پھاڑ بھی دیا کرتی تھی جس کی وجہ سےابو منع کیا کرتےکہ اتنی چھوٹی عمرمیں مطالعہ کی کیا ضرورت ہے۔اس کا میں نے یہ حل نکالا کہ جب ابو گھر سے باہر جاتے تو میں چپکے سےکتاب نکال لیتی اوران کے گھر آنے پر چھپا دیا کرتی لیکن الماری کی خراب ترتیب اور کتاب کی حالت اکثر میری گواہ بن جاتی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اخبار کے جس ٹکڑے میں نان یاروٹی آتی میں اسے بھی پڑھ ڈالتی ۔ ہمارے ہاں اخبار آیا کرتا تھا اور وہ وقت جب میں اردو ابھی روانی سے بھی نہیں پڑھ سکتی تھی، بغیر جوتے کے دبے قدموں جاکر اخبار اٹھا لاتی اور پڑھنے کی کوشش کرتی۔
جب میں نے درسِ نظامی کا آغاز کیا تو اس کےساتھ میری عصری تعلیم بھی چل رہی تھی ۔ابوجان نے میری پوری مدد اور رہنمائی کی ۔ امتحانات کے دنوں میں جب مجھے چھوڑنے جارہے ہوتے تو راستے میں اہم نکات بتاتےجاتےاورامتحان میں عموماََ وہی سوال آجاتے۔ یہ میرے لیےبہت اعزاز کی بات ہےکہ میں اپنےابوجان کی شاگردی میں بھی رہی۔
عموماََ بیٹیاں ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں ۔میں اگرچہ دونوں کےقریب ہوں لیکن جہاں والدہ سختی کرتیں یا کسی کام سےمنع کرتیں تو پھر ابوجان کام آتے۔ کوئی بات منوانی ہوتی یا کوئی چیز خریدنی ہوتی ،ابو کا ساتھ ہمیشہ رہا۔ جیولری خریدنی ہوتی یا کتابیں ،ابو کے ساتھ روانہ ہوجاتی اور لے کر لوٹتی۔ والدہ اکثر کہا کرتی ہیں کہ آپ ان کی ہر بات پوری کرکے ان کو بگاڑ دیں گے۔اگر زندگی میں کبھی کوئی تنگی ہوئی تو ان کے لیے مشکل ہوجائے گی لیکن والد صاحب غصہ کرتے کہ ایسی بات ہی کیوں کہتی ہو۔
ابوجان اکثرکہا کرتے ہیں یہ میری بیٹی نہیں ” بیٹا“ ہے۔ میری ہرکامیابی پرچاہےوہ تعلیمی میدان میں ہویاملازمت کے،ابوجان بے انتہا خوش ہوتے ہیں اور بڑے فخر سے سب میں اظہار بھی کرتے ہیں۔
ہم الحمدللہ پانچ بہنیں ہیں لیکن ابوجان کی سب سے محبت ایک جیسی ہے۔ہمارے ددھیال کےخاندان میں لڑکوں کی ایک کثیر تعداد ہونے کی وجہ سے بعض اوقات ابوجان کو احساس بھی دلایا جاتا لیکن ابوجان کی محبت اور شفقت میں کبھی کمی نہ دیکھی اورالحمدللہ، اللہ نے اکلوتے بھائی سے نواز کر یہ کمی بھی پوری کردی۔
آج جب میں اپنے گھر کی ہوچکی ہوں ،میرا اپنےابو جان سے رشتہ اتنا ہی گہرا ہےجتنا کہ بچپن میں تھا ۔ کوئی بھی کام ہو،ضرورت ہویا الجھن ہو ،آج بھی روزِ اوّل کی طرح بے دھڑک میں اپنے ابوجان سے کہہ دیتی ہوں۔اللہ پاک میرے والدین کو صحت تندرستی والی لمبی زندگی دے اور ان کا سایہ ہم پر سدا قائم و دائم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔




































