
لائبہ شفیق
اسلامی سال کےآخری اور حرمت والے مہینے،ماہ ذی الحج کاآغاز ہوچکا ہے۔ آن پہنچیں وہ راتیں جن کی قسم اللہ رب العزت نے اپنی حرمت والی
کتاب میں کھائی ہے۔ ماہ ذی الحج کی پہلی دس راتوں کی عظمت اللہ پاک نے اپنے قرآن میں سورہ فجر میںبیان فرمائی ۔سورہ فجر کا آغاز ہوتا ہے:
والفجر۔ ولیالِِ عشرِ۔
”قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی !“
اکثرمفسرین کے نزدیک اس سے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
ان بابرکت راتوں کی احادیث سےبھی فضیلت ثابت ہے ۔نبیﷺ کا فرمان ہے :
”عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ، حتیٰ کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتناپسندیدہ نہیں ،سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہی ہوجائے۔“(البخاری ، کتاب العیدین ، باب فضل العمل فی ایام التشریق)
ان راتوں کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ کچھ خاص کام انہی خاص ایام کےساتھ مخصوص ہیں ۔ذی الحج کا بابرکت مہینہ جس میں حجاج کرام زبان پر لبیک کا نعرہ لیے دیوانہ وار خانہ خدا کی جانب رواں دواں رہتے ہیں ۔ دنیا و ما فیھا سے بے خبر ، رنگ و نسل ، ذات پات اور قبیلے کی بندشوں سے آزاد،اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہوئے اتحاد اسلامی کا ایک شاندار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔دنیا بھر میں تمام مسلمان اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کی تیاریوں میں نظر آتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں کیونکہ یہ زمانہ حج کے اعمال میں مشغول ہونے کا زمانہ ہے۔ (خازن ، الفجر، تحت الآیتہ: ۱؛۴ ، ۴۷۳)
کمر کس لیجیے ۔ ان دس دنوں میں ہمیں ہر وہ کا م کرنا ہےجو ہمیں اللہ کے قریب کردے۔ فرمان نبویﷺ ہے:
” ( ذی الحج کے) ان دس دنوں میں بہت زیادہ تہلیل ، تکبیر اور تحمید بیان کرو۔“( مسند احمد ۲۸۸۲)
کلمہ طیبہ کا ورد کیجیے ۔ تکبیر اور تسبیحات کا اہتمام کیجیے ۔ بڑائی بلند کیجیے اس رب ذوالجلال کی جو ذات تمام بلندیوں کی مالک ہے۔ اللہ کے ذکر کی ، تسبیحات کی ، تلاوت قرآن کی، صدقہ اور صلہ رحمی کی کثرت کیجیے۔ گناہوں سے توبہ کیجیے کہ وہ رب غفورالرحیم ہے ۔ مغفرت کا مواقع فراہم کررہا ہے۔یوم عرفہ کے روزہ کا اہتمام کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
” یوم عرفہ کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ (مسلم ۷۴۷۲)
قربانی کی طاقت اور وسعت ہو تو قربانی کا اہتمام کیجیے۔سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے کی کوشش کیجیے ۔ فرمان نبوی ﷺ ہے:
” جس شخص کو( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے ، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے۔“ ( ابن ماجہ ۳۲۱۳)
امت مسلمہ مشکلات کا شکار ہے ۔ دعا کیجیے کہ اللہ پاک ہم پر کرم فرمائے اور اس بے سروساماں ملت پر اپنی رحمت خاص نازل فرمائے ۔ آمین۔




































