
ہما عبید
قوت ِ توحید--- ایک مسلمان کے کردار کا خاصہ ہواکرتی تھی کہ جس کی ہیبت سے کفارومشرکین پر لرزہ طاری ہوجایا کرتا تھا۔ آج اس توحید کا مفہوم
واقتضا ہم سے کہیں روٹھ گیا ہے ۔ ہم مسلمان، ایک اللہ کی وحدانیت اس کی بنٓلندی وتعظیم کے احساس سے عاری ، اپنےاس عقیدے کو کمزورسے کمزور کرتے چلے گئےاور آج کفار کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئےہیں۔
بے شعور ہو گئے دنیا سے مسلما ں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
مضع میں تم ہونصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں ! جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
ایمان،صرف دلوں میں کلمہ پڑھنے کی حد تک رہ گیا،نمازیں مصلےتک محدود ہوگئیں۔ انفاق کی سرحدیں زکٰوۃ ادا کرنے تک محصورہوکررہ گئیں اور زندگی کے شعبے مختلف ٹکٹروں میں بٹ گئےجہاں توحید کی جھلک تو کیا اس کا عکس تک نظر نہیں آتا۔ بحث و مباحثوں اورمناظروں نے اپنی جگہ بنا لی اورلوگ منطقی علم کےپیچھے بھاگنا شروع ہو گئےہیں جبکہ سرورِ دوعالمﷺ نے ہمیں اللہ کی ذات و صفات میں منطقی بحثوں سے منع فرمایا تھا۔
صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغہ۔
اللہ کا رنگ اختیارکرو کہ اللہ کے رنگ سے اچھا رنگ کس کاہے۔ توحیدـــ ایک روشنی ہے نورہےــ یہ ہمیں جہالت کے اندھیروں سے نکال کر خدا شناسی کی فکرعطا کرتا ہے۔ـــ یہ ہمیں بد اعمالیوں کی تاریکی سے نکال کر عملِ صالح کی روشن قندیل جلانے کی سوچ دیتا ہے۔ـــیہ عقیدہ مسلمانوں کو اپنے مقامِ بلند " خلیفۃ اللہ فی الارض" کو پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کا یہ عقیدہ ــکمزورہونے کی وجہ سے نہ کردار کی ہیبت ہے اور نہ تلوارکی دہشت اور نہ ہی حکومتِ الہٰیہ کا قیام۔
آج ہمیں اپنےمقصدِ وجود کو سمجھنے کی ضرورت ہے اوراپنا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر تلاشنا ہوگا۔ اپنے فرائضِ منصبی کو ادا کرنے کے لئے ،منطقی بحث ومباحثوں سے نکل کرتوحید ِ خالص کو اپنے کردار اورعمل کا حصہ بنانا ہوگااور پوری کائنات میں اللہ عزو جل کی کبریائی کا نظام قائم کرنا ہوگا کہ یہی حکم خدا وندی ہے اور ہمارے محبوب نبی ﷺ ہمارے سپرد کر گئے تھے۔
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر و تومنون باللہ
۔




































