
ماریہ حسان
وہ مایوس بالکل بھی نہ تھا مگر پریشان ضرور رہنے لگا تھا.۔موجودہ حالات نے اسے خوف زدہ بنا دیا تھا، اس کی مجبوریاں اسے
مایوس کرتی تھیں، وہ سنجیدہ رہنے لگا تھا ،بچپن سے اب تک اس نے ،نا امیدی نہیں دیکھی تھی اور نہ ہی اس کی تربیت ایسی ہوئی تھی وہ تو امیدوں کا دامن تھام کر اپنے خواب پورے کرلیا کرتا تھا۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھے اسے دن ہی کتنے گزرے تھے کہ باپ کی موت نے اسے یقدم ایک زمہ دار شخص بنادیا۔ گھر میں بیمار ماں 3 کنواری بہنیں 2 اس سے عمر میں بڑی بیاہی جانے کے قابل تھیں ابا جان چند قریبی لوگوں میں ان دونوں کی شادی کی بات چلا رہے تھے کہ اچانک ایک تقریب سے واپسی پرابا کو دل کا دورہ پڑا اور چند ہی ہفتوں میں وہ گزر گئے۔ نبیل کو جیسے کچھ سمجھ نہ آیا ہو اسکا زہن اسے قبول کرنے سے انکاری تھا جیسے اس نے کوئ خوفناک خواب دیکھا ہو اپنے باپ کی جدائی میں وہ کھل کر رو بھی نہیں پایا ۔ ہوش تو اسے تب آ یاجب گھر کے سارے کام زمہ داریاں اسکے کاندھوں سے آ لگیں ابھی تو ایم بی کا پہلا سال ہوا تھا اسے لگتا تھا وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پائیگا یونیورسٹی میں بھی اسے بجلی گیس کے بلوں، گھر کے سودا سلف کی فکر رہتی تھی۔ آ ج شام کو یونیورسٹی کے بعد کچھ بچوں کو ہوم ٹیوشن دے کرجب وہ گھر پہنچا تو باجی نے بتایا تمہارا کوئی تحریکی دوست آ یا تھا ،ابا کی وفات کا افسوس کر رہا تھا، تم سے ملنا چاہتا ہے ،رات پھر آ ئے گا گھر پر ہی رہنا۔ عشاء کے بعد دروازے پر دستک ہوئی اس نے دروازہ کھولا تو احمد کو فورا ًہی پہچان لیا۔ والد کے افسوس کے بعد اس نے اپنے آ نے کا مقصد بتایا۔
نبیل میرے بھائی مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم اس وقت کس قرب سے گزر رہے ہو۔ تمہارے حالات اور مسائل کوئی بھی اپنا پرایا بخوبی سمجھ سکتا ہے ۔ انکل کے انتقال پر میں نہیں آ سکا، میں اس شہر میں نہیں تھا مگر جیسے ہی مجھے معلوم ہوا تمہاری بہت فکر ہوئی۔ ہماری دوستی پہلے جیسی تو نہیں مگر ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے ، ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوبصورت وقت گزارا ہے ہم نے۔ مجھے معلوم ہے تمہارے اندر بہت صلاحیتیں ہیں اور تمہاری فیلڈ بھی تمہیں بہت کچھ سکھا رہی ہے۔
تم ہمارا بنو قابل کیمپس جوائن کرلو وہاں آ ئی ٹی کی کلاس دینا ،اس طرح تم یونیورسٹی کے بعد جاب کر سکو گے۔ نبیل کو حیرانی ہوئی اس کا دوست جو کالج کے زمانے میں اس کا بہت اچھا رفیق رہا ہے، اس کو اس کی اتنی فکر تھی اور نبیل اکثر اس کی صحبت سے کٹتا رہتا تھا کہ اس کی سرگرمیاں اس کی پڑھائی میں خلل نہ ڈالیں لیکن احمد میرے پاس تو کوئی ڈگری نہیں ،مجھے بنو قابل والے اپنے کیمپس میں جاب کیوں دیں گے؟ احمد مسکرایا ارے میرے دوست مجھے معلوم ہے تم آ ئی ٹی میں بہت اچھے ہو اور تمہاری فیلڈ تمہیں بہت کچھ سکھا ئے گی ، مجھے یقین ہے تم انٹرویو اور ان کی ریکوائرمنٹس پر پورا اتروگے۔
احمد کا اعتماد اور یقین دیکھ کر نبیل پر امید ہوا اور اس کا انٹرویو بھی اچھا رہا ، یوں وہ اعتماد کے ساتھ کیمپس میں بچوں کو آ ئی ٹی کی تعلیم دینے لگا۔ اسے یقین آ گیا کہ بنو قابل کا پروجیکٹ بہت بہترین اور منظم ہے۔ وہ اس سے جڑ کر اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنے اور اپنے گھر والوں کے بہت سے خواب پورے کرسکتا ہے ۔





































