
مسز تنویررؤف
میرےایک محترم بھائی ڈاکٹر فرید اللہ صدیقی صاحب نےمیری تحریربعنوان"بڑھاپے سےڈرتے کیوں ہیں "پڑھنے کےبعد کہا کہ تنویر! "جوانی پرسب
مرتے کیوں ہیں"پر بھی کچھ لکھو! بس جناب !بھائی کا حکم سرآنکھوں پر۔۔لہٰذا ہم نےاس موضوع پربھی خامہ فرسائی کاارادہ کرلیا تو جناب جوانی نام ہے، چٹکتی کلیوں اورمہکتے پھولوں کا۔ کیا خوبصورت دورہے یہ بھی زندگی کا۔ جب کوئی بچہ شیر خواری کے بعد نونہال بنتاہے پھرمعصوم شرارتوں کے ناقابلِ فراموش دور سے نکل کر نوجوانی کی دہلیز پرقدم رکھتا ہے تواسےخود اپنے وجودمیں کچھ سوندھی سے نرم گرم سی تبدیلی محسوس ہونےلگتی ہے۔
اپنا وجود خود کو ہی پیارا لگنےلگتا ہے،اپنےسراپہ میں کچھ خوشنما فرق محسوس ہوتا ہے۔آئینہ بار باردیکھنا اچھا لگتا ہے۔ چہرےپرپرکشش چمک دمک سی آجاتی ہے۔ چھے نت نئےکپڑے پہننےکا شوق بڑھ جاتاہے۔آئینےمیں بار بارہرزاوئیے سے خود کو دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ صنف مخالف میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔یہ ایک فطری عمل اور نارمل ہونے کی رب تعالیٰ کی طرف سے نوازش و نوید ہے۔
بس جبھی ماں کی نظریں بیٹی کےانداز اوربلا وجہ کی مسکراہٹ دیکھ کر چوکنی ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہےکہ جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ یہی وقت اسکو لگام دینےکا ہے۔ پھول، بارش سرسراتی ٹھنڈی ہوا، فضا کومہمیز کر دیتی ہے اور صنف مخالف اگر اچھا نظرآجائے (چاہے فلمی ہیرو کی تصویر ہی کیوں نہ ہو یاسڑک پردورسے نظر آنے والا روبرو کوئی خوبرو جوان، کوئی بھی ارے بھئی کوئی بھی ہو) انگلش میں اس کیفیت کو "تباہی "کہتے ہیں۔ یعنی سوجھ بوجھ ہی نہیں رہتی ،خواہ مخواہ دل کی دھڑکنیں بےربط ہوکرسوچوں خیالوں میں رنگ بھر دیتی ہیں۔ وہ ملے نہ ملے کوئی مسئلہ نہیں۔پھر کہیں اور کوئی اور جوانی کو اسی لیے دیوانی کہا جاتا ہے کہ اس میں رنگ، خوشبو، نغمہ ، سحر، جوش بناہوش ہوتا ہے۔ہاں جب ہم سفرمل جائے اور وہ چاہنے والا بھی ہو تو چٹکتی جوانی مہکتے پھول بن کرگھر کے ماحول کو اپنے کردار، قابلیت ،وفا شعاری سےقابل تحسین اور پرسکون بنا دیتے ہیں۔ اور یوں نسلوں کی آبیاری ہوتی ہے،اس لئےجناب جوانی پرمرتے ہیں کہ جوانی کا گھوڑا منہ زورہوتا ہے اوراس کی طنابیں بروقت نہ کھینچیں جایئں تو معاشرے میں بگاڑ پیداہونےکا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔




































