
شئیما بلال
ہم سب پانی کےاس بلبلے کی مانند ہیں جس کے ہونے کا احساس سب کو ہوتا ہےلیکن ختم ہونے کا نہیں۔زندگی کا دوسرا نام صبر ہے۔صبر کی آخری حد دل
سے ہر خواہش کی تڑپ کا ختم ہو جانا،جذبات واحساسات کا گلا گھونٹ دینا، ہر چیز الله اور تقدیر کےسپرد کرکے دنیا کی حدود سے آزاد ہو جانا ہے۔
زندگی بہت ہی مشقت کا نام ہے۔کسی بھی حال میں انسان شکر گزاری نہیں اختیار کرتا۔ بہتر سے بہترین کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ قدرت نے ہی انسان کو تبدل کا عادی بنایا ہے۔شب وروز قدرت کے اس کرشمے کی منہ بولتی مثال ہیں۔ کہیں سفیدی اور کہیں سیاہی، رات کا دن میں بدلنا،کہیں سورج کہیں چاند، کہیں نشیب و فراز۔ کئی تبدیلیوں کا سلسلہ ہی زندگی ہے۔انسان تبدیلیوں کا اتنا عادی ہو چکا ہے،وقت کے ساتھ ساتھ رشتے ناطے سب کچھ موجودہ وقت کی نوعیت سے بدل لیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ الله چاہتا تو انسان کو برائی کےجذبات سے عاری کردیتا۔ سب کو ہدایت دینے پر قادرہےتو برائی کی صفت ہی کیوں رکھی گئی۔۔۔۔۔۔؟
اگر سب کو ہی ہدایت مل جاتی تو فرشتے توعبادت کے لیے موجود تھے۔ اگر سب کو ہدایت مل جاتی تو یہ جبر تھا اور الله تو انسان پر نہایت ہی مہربان ہے۔ الله نے انسان کی تخلیق کے وقت مختلف جگہ سےمٹی اٹھائی نیکی، بدی، اچھائی، برائی، لالچ، حرص بہت صفات انسان میں رکھیں۔ تو فرشتوں نے الله سے کہا:
"کیا یہ زمین میں فساد نہیں کرے گا؟"
پھر الله نے کہا:
"آدم کو صرف اختیار ہی نہیں دیا بلکہ علم بھی دیا ہے۔"
علم ہمیں اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔علم ہی ہے جس کی بدولت ہم الله کے احکامات سمجھ کر سیکھ سکتے ہیں۔ زمین میں جو برائیاں ہو رہی ہیں الله کی اجازت سے ہو رہی ہے ۔مرضی سے نہیں ،انسان جیسے چاہے اختیارات استعمال کر سکتا ہے لیکن اگر اپنی مرضی کے خلاف جا کر الله کی اطاعت کرے گا تو الله اس کو انعام یافتہ لوگوں میں شامل کر دیں گے۔اس بات سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ علم کی اہمیت کیا ہے۔ سبحان الله انسان کو کس قدر با اختیار بنایا۔




































