
محموده تفسیر
قوت کاسرچشمہ در اصل ذات الہٰی ہے۔قوت اور طاقت کا استعمال اگر خوف خدا اور تقویٰ کا تابع ہو تو پھروہ انسانیت کیلئے رحمت اور باعث آرام ہےجیسا کہ
اللہ نےحضرت ذوالقرنین کوہر طرح کے اسباب عطا فرمائےمگر انہوں نے انسانیت کی خدمت، بغیر کسی لالچ اور ہوس سے کی۔
خدمت کے عوض سرمایہ نہیں بلکہ انسانی بھلائی اورفلاح و خیر کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس اگر یہی طاقت کا استعمال خوف خدا اور تقویٰ سےعاری ہوتو وہ سرکشی بن کراللہ کے مد مقابل آن کھڑی ہوتی ہے ۔ قرآن اسے طاغوت کہتا ہے۔ یہ فساد فی الارض ہے۔ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ اٹھارویں ، انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب نے اندھا دھند مادی ترقی کی اور اسی ترقی کی بنا پریہ مغرور ہو گئے۔ تجارت کے بہانے کبھی ایشیاء اور کبھی افریقہ میں داخل ہو کر حکمرانی کی اور کبھی حیرت انگیرایجادات کے ذریعہ انسانیت کو اپنےزیر اثر رکھا۔
پہلی جنگ عظیم کے خون سے ابھی ان کی تلواریں رنگین تھیں کہ انہوں نے چند سال بعدجنگ عظیم دوئم دنیا پرمسلط کر دی۔ پھر جاپان پرایٹم بم گرایا اور دنیا پہ اپنی طاقت کا سکہ منوا کر اقوام متحدہ میں داد گیری سے ویٹو کا اختیارحاصل کرلیا۔
انسانی خون کے پیا سےان گوروں کا اگلا ہدف وتینام تھا۔ 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا اور 1948 ء میں اسرائیل کی بنیا درکھ دی گئی ۔1991 ء میں خلیج کی جنگ میں عراقیوں کا قتل عام کیا۔ بعدازاں سعودی عرب میں مستقل فوجی اڈا قائم کیا۔ پھر 20 سال تک افغانستان میں جنگ جاری رکھی اوراب ان فسادیوں کاحالیہ ٹارگٹ فلسطین غزہ ہے۔
یہ ملحد ہیں۔ فسادی اور سرکش ہیں۔اللہ کی یہ زمین پرطاغوت بنے بیٹھےہیں۔یہ مسلم نسل کشی کاہدف رکھتے ہیں۔ انسانی آبادی کے دشمن ہیں۔ خاندانی نظام سے انہیں بیرہے۔اسلحہ اور ہتھیاروں کے علاوہ یہ انسانیت کو ٹرانس جینڈ راور عمل قوم لوط سے بھی ختم کرنا چاہتے ہیں ۔
اے مغرب والو! اے امریکیو! اے اسرایلیو !کیا تم دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہو۔ تم نے 30 سال میں ایک کروڑ مسلمانوں کا خون بہایا۔ افغانستان 20 لاکھ ، عراق 20 لاکھ، شام 20لاکھ ،لبیا 20لاکھ اور(فلسطین ، کشمیر، یمن، بوسنیا، برما) میں لاکھوں افراد امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں لقمہ اجل بنے۔
تاریح گواہ ہے ۔کہ بہت سی متکبر اقوام کو اللہ نے ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک کیا "تلك الايام ندوالها بين الناس " ارشاد ربانی ہے کہ ہم ان ایام کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں کبھی ایک اور کبھی دوسرا۔ یہ عروج وقتی ہے بلاشبہ ظلم کو دوام حاصل نہیں ہوا کرتا ۔ کیونکہ اللہ کا قانون ہے"جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقاً "لہذا ہمیں نہ مایوس ہونا ہے نہ جھکنا ہے بلکہ شہادت حق کا علم اٹھاناہے۔ قرآن صاف کہتاہےان کا فروں کی نقل و حرکت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ دنیا تھوڑا سا سامان حیات ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ آل عمران (197-96) ۔
غزہ کے شہید بلاشبہ اللہ کے غازی ہیں ۔القدس کے محافظ ہیں ۔جنت کے متلاشی ہیں ۔اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہےمگروہ تنہا نہیں ۔ہمارے دل،دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ غزہ میں خون مسلم کی ارزانی پر سارے مسلم ممالک کے حکمران خاموش تماشائی بیٹھے ہیں یہ امریکہ کو سپر پاور مان کر اس کے مرید بنے بیٹھے ہیں اور اس کی نارا ضگی سے ڈرتے ہیں ۔ماضی میں اگرعوام نے اسلام کی علمبردار جماعتوں کو ووٹ دیئے ہو تے۔تو آج ھر مسلمان ملک کے میزائیلوں کا رخ اسرائیل کی طرف ہوتا پھر اسرائیل مسلم کشی کی جرات کیونکر کرتا۔
پیارے لوگو ! اگر تم مسجد اقصی کی حفاظت اور بچاؤ چاہتے ہو تو ان لوگوں کو ووٹ دو۔ جو آج لاکھوں کی تعداد میں اہل غزہ کےلئے سراپا احتجاج ہیں۔
"ور نہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں"




































