
عریشہ اقبال
کوئی دل کو اچھا لگ جائے توخیالوں سے لے کر سوچوں سےسفرکرتا ہواوہ جذبات کا حصہ بن جاتا ہےحتیٰ کہ خوشیاں اورغم اس سے وابستہ ہونے لگتے
ہیں ۔ یادوں کی سرگوشیاں ہرلمحہ چہرے پرمسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں اور پھر آنکھوں کی نمی بھی اپنا تعلق اتنا گہرابنالیتی ہےکہ گویا کوئی قاصد ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی وہ خط نہ لایا جس کےانتظار کی تڑپ نے آپ کے سارے وجود کو بے چین کردیا ہے۔
زرا سوچیں کہ آپ کے دل کی دنیا کس چیزسےآباد ہے ،کون اچھا لگتا ہے اس دل کو !! جو ہر لمحہ آپ کو تڑپائے رکھتا ہو، جس کی یاد آپ کے چہرے پر مسکراہٹ کی وجہ بنتی ہےاور آپ کی آنکھوں میں موجود نمی کب چھلکتی ہے
۔کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کا وجود ایک ایسی اذیت ناک قید میں مقید ہےجو آہستہ آہستہ آپ کےدل کی دنیا کو اجاڑ رہی ہے ۔آپ کی انمول زندگی کو بے مول کررہی ہے ۔
یاد رکھیں! اصل محبت کا مرکز صرف اور صرف رب کی ذات ہے،اس دل پر اس کے تخلیق کار سے زیادہ کسی کا حق نہیں۔ لہٰذا دل کےدروازے پر اللہ کی محبت کا تالا لگا لیجیے اوراپنی زندگی کےہر گزرتے لمحے حتیٰ کہ ہرسانس کو اس کےنام کردیجیے۔ یہ عشق کا دریا پار کرنا بہرحال آسان تو نہیں مگر میرے اورآپ کےرب کی ذات اتنی مہربان ہے۔اس قدر محبت کرنے والی ہے
کہ ہر محبت اس کے اظہار محبت کے مقابل آہی نہیں سکتی، آپ چل کرجائیے وہ دوڑ کرآے گا کیونکہ اس کی محبت پاک ہے۔ایسی شفاف کہ اس کوحاصل کرنے کی آرزو اس خوشبو کی مانند جو آپ کےدل کے جہان کو حتیٰ کہ آپ کے سارے وجود کو معطر کردے گی ،پھر ہر ذرہ مہکنے لگے گا ۔
میری محبت میرا اللّٰہ




































