
شہناز جاوید
میں بیٹھی اپنی سہیلی کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی۔ میری سہیلی کہنے لگی ؛
"میں اپنی بھانجیوں اور بھتیجیوں کے ساتھ بہت اچھی یعنی مخلص ہوں لیکن ان کی دوستی میری دوسری بہنوں کےساتھ زیادہ ہے جو میرے مشاہدہ کے مطابق ان کے ساتھ زیادہ مخلص نہیں ۔ ایسے کیوں ہوتا ہے۔"
میں اس بات کا کیا جواب دیتی میں چپ رہی۔
پھر خود ہی کہنے لگی؛-
" ایسا شاید اس لیے ہے کہ انسان اس کو پسند کرتا ہےجو اس جیسا ہوتا ہے۔ کسی اچھی چیز کو پسند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان میں اس اچھائی کی پہچان،اس کی طلب اور اسکی تڑپ موجود ہو۔"
پھرکہنے لگی؛-
"تم نے سنا ہو گا کہ
کبوتر با کبوتر باز با باز
کند ہم جنس باہم پرواز
یہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔کیا یہی وجہ ہے؟کیایہی وجہ ہےکہ لوگوں کی اکثریت جس طرح خود جھوٹ بولتی ہے، وعدہ خلاف ہے، حلال کےمقابلہ میں حرام کو ترجیح دیتی ہے۔۔۔
ہرالیکشن میں نیک لوگوں کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے بدعنوان اورکرپٹ لوگوں کو ووٹ دیتی ہےجن کےزیرسایہ پھرزینب چھریوں سے کاٹی جاتی ہے,بچے بغیر دودھ پلتے ہیں، بڑے بغیر روز گار جیتے ہیں۔نور مقدم کا سر تن سے جدا کیا جاتا ہے۔
بے بس والدین اپنے جگر گوشوں کے ساتھ اجتماعی خود کشیاں کرتے ہیں۔
ہمارے سونے چاندی کے ذخائر چوری چوری دوسرے ملکوں میں چلےجاتے ہیں۔
بڑے پیمانہ پر برین ڈرین ہوتا ہے۔ہر طرف سود کا راج ہوتا ہے۔ایک اچھی خاصی قوم کو مقروض بنا کر آئی ایم ایف کی قربان گاہ پر پٹرول اور بجلی مہنگی کرکے قربان کیا جاتا ہے۔ہرطرف کچرے کےڈھیر ہوتےہیں کیونکہ صفائی کا عملہ افسروں کے گھروں میں صفائیاں کررہا ہوتا ہے اورڈاکٹر اپنے مریضوں کی کھال کھینچنے میں آزاد ہوتے ہیں۔
بس بس
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































