
عظمیٰ رحمن
جب میں نے پہلی بارسعدیہ کو دیکھا اورگلےلگی تو فورا ہی ایک احساس ہواکتنےخوش نصیب ہوتےہیں ایسے ماں باپ جن کو ایسی اولاد ملے اللہ
کے بعد انسان کی سب سے پہلی محبت اس کےوالدین ہیں۔ والدین وہ ہیں جنہیں پیارسےدیکھنا بھی عبادت ہےاور بابا توجنت کی کنجی ہوتے ہیں ،بابا کی ہرچیز ہی مقدس ہوتی ہے۔ ان کی قمیض سےآتی خوشبو،ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی جوتوں کی آنے والی آہٹ بیٹیوں کوتحفظ کا احساس دلاتی ہے۔ اولاد اس باپ کے رزق حلال کے لیے بہائےگئے ایک قطرے کا بھی حق ادا نہیں کرسکتی ، یہ ایک باپ کی اولاد سےمحبت ہوتی ہے کہ ہمیشہ باپ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اس سےزیادہ ترقی حاصل کرے۔ ماں کی اولاد کےلیےمحبت ظاہر ہوتی ہےمگر ایک باپ کی محبت بھی ،ماں سے کم نہیں ہواکرتی فرق صرف اتنا ہےکہ ایک باپ اولاد کے لیےمحبت کواس طرح ظاہر نہیں کرپاتا جیسےاس کے دل میں ہوا کرتی ہے۔
ایک بیٹی کے لیے اپنے باپ کا پیاراتنا بھی ہوسکتا ہےسوچ کرآنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ دل میں ایک عجیب سی کسک اٹھتی ہے ۔ وہ پیاری جان سے زیادہ عزیز بیٹی اپن بابا کو عمرے کی سعادت کے لیےلےجانا چاہتی تھی۔ روضہ رسول کی زیارت کے منتظرتیاریوں میں مشغول تھے۔ پھراچانک وہی پرانا درد گھٹنے کی تکلیف روز بروز بڑھتی جا رہی تھی ، اب تو ڈاکٹروں نے بھی کہہ دیا تھا اس کا حل صرف آپریشن ہی ہے، اپنے بابا کی اچانک تکلیف نےسب کے دل ہلا کر رکھ دیے.
تمام گھر والوں کی رضامندی سےیہ طے پایا گیا کہ اب آپریشن کروانا ہی بہترہے۔ڈاکٹرز اپنی تجویز پیش کرچکے تھے،پانچ گھنٹے کے طویل آپریشن میں معصوم شہزادی سعدیہ ایسےہی آپریشن تھیٹر کےباہر کھڑی رہی اوردعاؤں میں مصروف رہی جب میں نے اس لڑکی کی یہ کیفیت دیکھی تو فوراً ہی اندازہ ہوا کہ یہ اس لڑکی کی تربیت ہےجو اس کے والدین نے کی ہے۔
ماں بیٹی کی دعائیں رنگ لائیں اورباہر ڈاکٹر نےآکربتایا کہ آپ کے والد صاحب بالکل ٹھیک ہیں ،ماشاءاللہ ۔ آپریشن کامیاب ہوا ہے۔وہ پرسکون ہو گئی اس کے چہرے پر ایک خوف جو طاری تھا وہ اترچکا تھا۔ وہ مطمئن تھی اب بابا پہلے کی طرح فٹ چلیں گے۔
چاردن ہاسپٹل میں رہنےکے بعد وہ گھرآگئے۔ اللہ نے انہیں پھر سے اپنےپاؤں پرسیدھا کھڑا کر دیا تھا،سب بہن بھائی خوش تھے، اچانک ہی اس خوشی کو نظرلگ گئی دوسرے دن جب ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے گئے تو ڈاکٹر نے بتایا انفیکشن ہوا ہے ،ہم انہیں آئی سی او میں رکھیں گے،دو دن ائی سی یو میں رہے،سعدیہ کی حالات بد سے بدتر ہوتی گئی اور کہتی رہی کاش میں یہ آپریشن نہ کرواتی۔ وقت کا کسی کو کیا معلوم اللہ نے جس کا وقت جیسے لکھا ہےاس کو ویسے ہی اپنے خالق حقیقی سے ملنا ہے ۔
سعدیہ کےبابا کی زبان سے بس شکر ہی ادا ہورہےتھےاور بیٹی کو دعا ہی دیتے رہے۔بیٹی ماں باپ کی خدمت ہی سب سےبڑی عبادت ہےجو تم کر رہی ہو وہ پرسکون ہو کر اپنے بابا کی دعائیں سنتی رہی اوراللہ کے حضور سجدہ کرتی رہی ۔اللہ انہیں جلدی صحت یاب کردے تاکہ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کروں سعدیہ کے بابا نے اپنی بیٹی کو بہت ساری دعائیں دیں اوروہ مسکراتی رہی کہ بابا جانی اب ٹھیک ہیں وہ کہتےہیں ناکہ گھر میں ایک بیٹی اور ایک درخت کا ہونا ضروری ہے درخت ہمیشہ دھوپ میں سایہ دیتا ہے اوربیٹی ہمیشہ درد میں ساتھ دیتی ہے، وہ اپنے بابا کو ہنستامسکراتا دیکھ کرخوش ہوتی تھی ۔ ابھی وہ اپنے بابا سے باتوں میں مشغول ہی تھی اچانک سے ان کی دھڑکن بند ہو گئی اوروہ اس فانی دنیا کو چھوڑ گئے ۔پیچھے سب کو روتا سسکتا چھوڑ گئے ۔
وہ اپنے آپ کو کوستی پیٹتی رہی ،سسکتی رہی ،وقت کی مٹھی کھل جائے تواس کی تتلی اڑجاتی ہے،ایک سناٹا رہ جاتا ہے، بس پچھتاوارہ جاتا ہے۔ خواب کی عمریں کم ہوتی ہیں
اور جب آنکھیں کھل جاتی ہیں،ایک اذیت رہ جاتی ہے۔ صرف حقیقت رہ جاتی ہے
یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیاہےوہ جائے گا ضرورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہےنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی آدمی مرجاتا ہے تو اس کے عمل کی مہلت ختم ہوجاتی ہےصرف تین چیزیں ایسی ہیں جو مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچاتی رہتی ہیں ۔
ایک صدقہ جاریہ دوسرااس کا پھیلایا ہواوہ علم جس سےلوگ فائدہ اٹھائیں ،تیسراوہ صحالح اولاد جو اس کے لیےدعائےمغفرت کرتی رہیں۔
اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے سعدیہ آپ میں یہ تمام کوالٹیزموجود ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے وہ آپ کے والد محترم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ، امین ثم امین
لفظ سعدیہ کا مطلب شہزادی، نیک خاتون، مبارک ،پارسا خاتون اور متقی ہے،یہ ایک نام اورکوالٹیزکتنی ساری ہیں،وہ والدین جن کو ایسی اولاد ملےجواپنےماں باپ کی پروا کریں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا ماں باپ کی خدمت واطاعت سے رزق اورعمر میں برکت ہوتی ہے۔ اپنے والدین کا خیال رکھوتمہاری اولاد تمہاراخیال رکھے گی۔
ہم سب ایک لائن میں لگےہوئےہیں جس کا نمبر آگیا ، اس نےجانا ہےنہ جانے ہماری باری کب آجائےاورہماری مہلت عمل ختم ہو جائے۔عالم غیب صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں ۔ ہم انسان ہیں خوش نصیب ہیں، آپ آخری سانسوں میں آپ ان کےقریب تھے،جیسے پھول اورخوشبوان کی زبان ذکرالہٰی سےترتھی دل میں آپ کےلیے ڈھیروں دعائیں تھیں۔ وہ رب سے ملاقات کا وقت تھا توایسے میں اپنے آپ کو کیوں تکلیف دیتی ہیں ، یہ کاش کاش کا لفظ بہت برا ہے۔ نہ جیتا ہے، نہ جینے دیتا ہے، اس کاش سے دوری اچھی ہے، اپنے دل کو برانہ جانو،دل میں خدا ہوتا ہے،دل وہی کرتا ہےجو اچھا ہوتا ہے،اپنے اپ کو اتنا نہ تھکاؤ اب توسکون دو تتلی بن کےجواڑگیا ہے، ہم بھی تتلی بن کرجلدی اڑجائیں گے۔ ان کے ساتھ جنت کے باغ میں بیٹھیں گے۔




































