
شاہدہ اقبال/ لاہور
فلسطین کی حالیہ درد ناک صورتحال ہرآنکھ کاآنسو ہے ! انسانیت کی دھجیاں اڑا دی گئیں، خون مسلم کو ارزاں ترین سمجھا گیا۔۔۔۔ سہمے ہوئے
پھولوں کےخوبصورت چہروں اور جسموں کو لہولہان کردیا گیا۔ ماؤں اورباپوں کی سسکیاں اورچیخیں بارودی فضاؤں میں ضم ہو گئیں اوربانہوں میں جھولتی لاشیں ،اوپرسے بھوک ،سردی اوربے گھری وبے معالجی ۔۔۔ پوری دنیا لرزا دینےکو کافی ہےاورساری دنیا محو تماشا ہے۔ اس سے بھی دردناک اورکرب انگیز بات یہ ہےکہ امت مسلمہ مہربہ لب ہے ! بت بنے ہوئے ہیں فلسطین کےمسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کٹتا دیکھ کربھی ! ہم مسلمان تقریباً ادھی دنیا ہیں اورکفار ان سےڈرتا نہیں۔
گویا مسلمان نہیں خاک کا ڈھیر ہیں ۔یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ مسلمان سمندرکے جھاگ کی طرح ہیں بے حیثیت اور بے مرتبہ ! مسلمانوں کی اس حیثیت کی وجہ خود مسلمان ہی ہیں۔ دراصل انہوں نے خود کو نہیں پہچانا،اپنی حیثیت کونہیں پہچانااور نہ ہی اپنے مقصد کو پہچانا !وہ یہ بھول گئے کہ اس ان کو کس نے بھیجا؟ کیوں بھیجا اور ان کی منزل کیاہے؟ بلکہ وہ دنیا کےاسیر ہو کر رہ گئےاوران کو وھن(دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ) کی بیماری ہوچکی ہے(بحوالہ حدیث نبوی )
مسلمانوں کی حیثیت کی زوال پذیری کی بہت ساری وجوہات ہیں۔سب سے بڑی وجہ تواتفاق ویکجہتی کی کمزوری ہے۔مسلمان ممالک کی صفوں میں اتحاد نہیں ۔ یہ آج کی بہت بڑی ضرورت ہے ۔
دوسرا قرآن وسنت اوردین سے دوری،دیگرمذاہب کے اثرات ،مشرکانہ عقائد ،اور کفارکے طرز زندگی سے متاثر ہونا ۔تیسرا دنیا سے محبت اور عیش پرستی اوراخلاقی انحطاط ۔
شراب، سود اور زنا کاری و بے انصافی کو جائز سمجھنا۔اس کے علاوہ نوجوان نسل کی مدہوشی،میڈیا اور بے کارمشاغل میں اپنے اپ کو ضایع کرنا۔ زندگی کو کھیل تماشہ کے طور پر لینا اور جذبہ جہاد سے جی چرانا۔یہ سب اور ایسے ہی بہت سےعوامل مل کر مسلمانوں کی حیثیت کو دنیا میں ہلکا کر دیا۔
بقول علامہ اقبال
ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے
زندہ قوموں کو اپنے مقصد کی زیادہ فکر ہوتی ہے۔حل بھی یہی ہے کہ امت مسلمہ اپنے مقام سے آشنا ہوخود کو پہچانے، اپنے جسم ، گھر، خاندان ملک اور دنیا میں اسلام کو نافذ کرے۔ اب بھی نہ خود کو پہچانا تو کب پہچانو گے ؟




































