
یاسمین صدیقی
قلم کار معاشرے کا آئنہ ہوتے ہیں، جو کچھ دیکھتے ہیں ، محسوس کرتے ہیں ،اپنے قلم کےذریعے اسی کی عکاسی کرتے ہیں ،سچ لکھتے ہیں اور حقیقت
کی دنیا میںرہتے ہیں ۔ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی نئی تخلیقات کرنا چاہتے ہیں ۔ایسے ہی قلم کاروں کیلئے رنگ نو نئے اور پرانے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا ہے ،جس کے ذریعے سے وہ گاہے بگاہے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتارہتا ہے اور گزشتہ 3سال سے یہ رائٹرز کنونشن کا اہتمام کر رہا ہے ، جس میں بڑی تعداد میں رائٹرز کی ھوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔´گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی رنگ نو ڈاٹ کام اور رنگ نو چینل کے تحت کراچی پر یس کلب میںتقریب کا رائٹرز کنونشن 2024کا اہتمام کیا گیا جس میں بہترین لکھنے والوں اور کل کراچی مقابلہ مضمون نویسی کے پوزیشن ہولڈرز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے ۔
تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ،جس ی سعادت محمد احمد رضا نے حاصل جبکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ وسلم کے لیے گل ہائے عقیدت محمد رضا نے پیش کیے ۔تقریب میں رنگ نو رائٹرز کلب کے مرکزی صدر زین صدیقی نے تمام معزز مہمانوں وقلم کاروں کو خوش آمد ید کہا اور رنگ نو کے رائٹرز کنونشن کے اغراز مقاصد پیش کیے اور بتایا کہ تقریب کا مقصد تمام قلمکاروں اور ساراسال لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔
کنونشن کے مہمان خصوصی سلمان کارپوریشن پرائیوٹ لمیٹڈ کے کنڑی ہیڈ سرفراز احمد خان تھے ۔ تقریب کی صدارت شاعر ادیب ودانشور پروفیسر خیال آفاقی تھے ،کنونشن کے مہمانان میں ڈائریکٹر آرایم ڈی و میڈیا الخدمت ویمن ونگ ٹرسٹ محمد اصغر ،چیئر مین آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن محمد ارشد ،سرپرست اعلی رنگ نو وسابق صدر شعبہ اردوجامعہ اردو پروفیسر سعید حسن قادری ،شاعر ،محقق ،نقاد اور نگران اعلی رنگ نو رانا خالد محمود قیصر،سیاسمین شوکت ،غیور احمد خان اور قرة العین صدیقی نے بھی اظہار خیال کیا۔ تقریب میں سینئر صحافی اے ایچ خانزادہ بھی موجودتھے، موٹیویشنل اسپیکر فرح مصباح نے خواتین قلمکاروں کو خصوصی لیکچر دیا۔
کنٹری ڈائریکٹر سلمان کاپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ سرفراز احمد خان رنگ نوکی کاوشوں کو سراہا اورکامیاب کنونشن پر مبارکبادی ۔ انہوں نے کہا کہ آج عام طور پر بولی جانے والی اردو کو کسی طور اردو نہیں کہا جاسکتا۔ ماضی کی اردو خالص اردو تھی۔ نئی نسل کو ماضی کی خالص اردو سے آشنا کروانا ہوگا۔سرفراز احمد خان نے کہا کہ بچے اب ماں باپ سے گفتگو میں وہ الفاظ استعمال کر رہے ہیں جو ہمارے بچپن میں معیوب سمجھے جاتے تھے۔بچوں کو صحیح اور غلط کے بارے میں بتانا ہوگا۔
صدرتقریب پروفیسر خیال آفاقی نے کہا کہ لکھنے کے لیے مطالعہ نہایت ضروری ہے,جب آپ پڑھیں گے نہیں تو لکھ بھی نہیں سکتے۔مطالعے کے رجحان کو بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آج کتابیں لکھنے والے تو موجود ہیں مگر پڑھنے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ۔ ہرشخص موبائل میں محو ہے ۔اچھا قلم کار بنا ہے تو مطالعے کے رجحان بڑھائیں ،جب آپ کا معالعہ وسیع ہوگا،آپ کو معلومات ہوگی ہی آپ اچھا لکھ سکیں گے ۔
چیئر مین آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن محمد ارشدنے کہا کہ رنگ نو بہت اچھا کام رہا ہے، اہل قلم معاشرے کی اصلاح کا کام کر رہے ہیں ،یہ خوش آئند بات ہے۔ بزرگوں کی اہمیت اور احترام کو اجاگر جائے اور ان کے سائے کو اپنے لیے رحمت سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قلم کار بزرگوں کی اہمیت اور ان سے محبت کو موضوع قلم بنائیں تاکہ معاشرے میں خوش گوار تبدیلی آئے ۔

ڈائریکٹر آرایم ڈی و میڈیا الخدمت ویمن ونگ ٹرسٹ محمد اصغر نے کہا کہ الخدمت ویمن ونگ ٹرسٹ نے فلسطین کے لیے بھرپور امدادی کام کیے جو اب بھی جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ فلسطین کے حوالے قلمی جہاد کر رہے ہیں ۔ حق بات لکھی رہے ہیں اور فلسطین کی حقیقی منظرکشی کررہے ہیں ۔حق بات کہنے اور لکھنے پر آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا ہم اہل قلم کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور الخدمت ویمن ونگ ٹرسٹ کے ان کاموں کو مشاہدہ کریں اور ان کو معاشرے میں اجاگر کریں۔
پروفیسر سعید حسن قادری نے کہا کہ اردو کا فروغ اور ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے،ہمیں اس کو اہمیت دینا ہوگی۔ قلم کار جو کچھ اردو میں لکھ رہے ہیں وہ اردو سے ان کے قلبی اور روحانی تعلق کو ظاہرکرتا ہے۔
رانا خالد محمود قیصر نے کہا کہ ایک تخلیق کار کے لیے لازم ہےکہ وہ نثری یا شعری تخلیق کرے تواس کامثبت پہلوہونا چاہیے۔مثنوی یا قصیدے میں پہلے چار مصرے رب ذولجلال اور رسول کی تعریف میں ہوا کرتے ہیں ،اس کے بعد کسی بادشاہ کی تعریف ہو یا حالات حاضرہ کی بات ،مدح ہو یا بہتان لگانا ہو،ہمیں چاہیے کہ ہم نثری یا شعری تخلیق کررہے ہوںتو اس میں مثبت پہلو کو اجا گر کریں، یہی معاشرے کی اصلاح اورفلاح وبہبود کا بہترین طریقہ ہوگا۔
بانی و چیف ایڈیٹررنگ نو زین صدیقی نے کہا کہ رنگ نو تمام قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے کام کررہا ہے ،اہل قلم معاشرے کا اہم حصہ ہیں جو معاشرے کو سنورانے اور اسے مثالی بنانے کے ساتھ اس کی تعمیر کا کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رنگ نو رائٹرز کی حوصلہ افزائی کا پلیٹ فارم ہے ،یہ ہرسال رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز کی تقریب کا اہتمام کرنا ہے ،ایسی تقریبات سے قلم کاروں کو توانائی ملتی ہے اوران میں مزید اچھالکھنے کی جستجو اور خواہش بیدار ہوتی ہے ، زین صدیقی نے کہا کہ رنگ نو مختلف شعبہ میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے نوجوانوں کی بھی حوصلہ افزائی کررہا ہے اور انہیں ایوارڈ زدے رہا ہے ۔ان شااللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔

ڈائریکٹر رنگ نویاسمین صدیقی نےکہا کہ یہاں رائٹرز کو ایوارڈ دینے کا مقصد ان کی کاوشوں پرانہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے ،معاشرے کی اصلاح اور تعمیر کا م قابل قدر کام ہے۔قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
تقریب مقابلہ مضمون نویسی میں طیبہ سلیم ، شہلا خضراور لائبہ عامر کو اول دوم سوم نزیت ریا ض اورشگفتہ وسیم کو خصوصی ایوارڈ دیئے گئے،افروز عنایت،لطیف النساءور عائشہ بی کوسب سے زیادہ اور عمدہ تحریریں لکھنے جبکہ قدسیہ ملک ، نگہت فرمان ،نگہت پروین ،غزالہ اسلم اور روزینہ خورشید کو سپراسٹار رائٹرزنیلم حمید ،شبانہ حفیظ ،روشانہ جمیل ،کشف زہرہ ،ماہ نورشاہد ،احمد شفیق اور سید غلام مصطفی میں اسٹار رائٹرزکے ایوارڈزدیئے گئے۔عریشہ اقبال کو بہترین ناولٹ پرایوارڈ دیا گیا ۔
کل پاکستان مقابلہ مضمون نویسی میں اول پوزیشن کا ایوارڈ نبیلہ شہزاد،دوم نمرہ امین اورسوم ایوارڈلائبہ شفیق جبکہ خصوصی ایوارڈ ز نگہت سلطانہ ،خرف سلیمان ،مسرت جبیں کو دیئے گئے ۔
تقریب میں چیئر مین آل پاکستان جیولز ایسوسی ایشن کے چیئر مین محمد ارشدکو اپنے شعبے میں بہترین خدمات ، محمد سعاد صدیقی کو بہترین ویڈیو ایڈیٹر ،موٹیویشنل اسپیکرفرح مصباح ،25سال تک یو م آزادی پر آزادی پروگرامات سجانے والی شخصیت غیور احمد خان کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔




































