
اقراء منیر
دس اکتوبر 2021 کو پاکستان کےمعروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان وفات پا گئے۔وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں
اور انہیں "بابائے ایٹم بم" کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر خان نے 1970 کی دہائی میں ایٹمی تحقیق میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کی بدولت پاکستان نے 1998 میں اپنے ایٹمی تجربات کیے۔ ان کی خدمات نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ ملک کی سائنسی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان 1 اپریل 1936 کو بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئےبعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اور بعد میں یورپ میں اپنی تعلیم مکمل کی، جہاں انہوں نے انجینئرنگ اور میٹریلز سائنس میں ڈگریاں حاصل کیں۔
اہم کارنامے
ایٹمی پروگرام کی بنیاد: ڈاکٹر خان نے 1970 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے یورپی ممالک میں تجربات کیے اور پاکستانی ایٹمی پروگرام کے لیے بنیادی ٹیکنالوجی حاصل کی۔
چاغی تجربات: 28 مئی 1998 کو پاکستان نے اپنے ایٹمی تجربات کیے، جس میں ڈاکٹر خان کا کلیدی کردار تھا۔ یہ تجربات پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اہم ثابت ہوئے۔
تحقیقی کام: ڈاکٹر خان نے پاکستان میں ایٹمی اور جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں کئی تحقیقی ادارے قائم کیے، جن میں "خان ریسرچ لیبارٹریز" شامل ہیں۔
پس منظر:
ڈاکٹر خان کی زندگی سادگی اور محنت کا نمونہ تھی۔ انہوں نے اپنی تمام کامیابیاں پاکستان کے لیے وقف کیں اور ہمیشہ اپنی قوم کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھا۔
وفات اور وراثت
ان کی وفات کے بعد ملک میں ان کی خدمات اور کارناموں کا زبردست اعتراف کیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک سائنسدان بلکہ ایک قومی ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی نے نوجوانوں کو سائنسی تحقیق کی طرف راغب کیا اور یہ پیغام دیا کہ محنت اور لگن سے کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام ہمیشہ پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، اور ان کی خدمات کو نسلوں تک یاد کیا جائے گا۔




































