
حبیبہ اسماعیل
اے نگار وطن تو سلامت رہے
مانگ تیری ستاروں سے بھردیں گے ہم
تو سلامت رہے
پام کےدرخت اوربوگن ویلیا کی گھنی بیلوں سےڈھکا وہ چھوٹا ساسادہ پکا گھرپورےعلاقے میں مشہورتھا اوراس ملی نغمے کی آواز اسی گھرسےآرہی تھی۔ یہ گھر شانو خالہ کا تھا۔۔۔ بہت سےلوگوں کی طرح وہ بھی آگ اورخون کی ہولی سے گذرکر بڑے دل خراش حالات میں ہندوستان سےہجرت کر کے ارض پاک آئیں تھیں۔
ان کےشوہر انہیں اوردو بچوں کو بچاتے ہوئے شہید ہو گئےتھے۔بڑے ابترحالات میں وہ اپنے بچوں کولےکرپاکستان جانے والے قافلے کے ساتھ تڑپتی، بلکتی پاکستان پہنچیں تھیں۔پھر کچھ عرصہ مہاجرکیمپ میں گزارکرحکومت کی طرف سےالاٹ کیے گئےاس مکان میں رہنےلگیں تو زندگی میں آہستہ آہستہ ٹھہراؤآنےلگا۔اپنی ملن ساری اورخوش اخلاقی کی وجہ سے کچھ ہی عرصےمیں۔ پورے محلے میں پہچانی جانے لگیں۔
انہوں نےگھر میں بچوں کوسپارہ پڑھانا شروع کردیا۔سلائی مشین حاصل کرکےسلائی شروع کر دی۔اس سےان کی دال روٹی چلنےلگی اور پھرمحلے کے لوگ بھی اکیلی ماں بچوں کا خیال رکھنےلگےکہ سب ہی وہاں شانو خالہ کی طرح ہجرت کر کےآئے تھےاورسب کے دکھ اور ضروریات مشترک تھیں۔
اگست کا مہینہ آتا توشانو خالہ بےقرارہوجاتیں اوراپنی بےقراری بچوں میں بھی منتقل کرتیں۔مرحوم شوہراورعزیزوں کے لئے فاتحہ خوانی اوردعاؤں کا اہتمام کرتیں۔پرجوش ہو کر بچوں کے ساتھ گھر کو جھنڈیوں سےسجاتیں ۔ان کےگھر کی چھت پر پہلی اگست سے ہےسبز ہلالی پرچم لہرانے لگتا۔ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملی وحدت اور جذبہ ایمانی سے سرشار ملی ترانے بڑے شوق سے سنتیں ۔ اپنےبچوں کوپاکستان بننے سے لے کر ہجرت کرنے تک کی کہانی آنسوؤں کے ساتھ سنا کراپنا دل ہلکا کرتیں۔ بچوں کی تربیت ایسے ماحول میں ہونے سے ان میں بھی اپنے ملک اور نظریےسے محبت پروان چڑھتی گئی۔ ان کا بیٹا اب پڑھ لکھ کرانجینیربن چکا تھا۔ بیٹی بھی بی اے کرچکی تھی۔ دونوں کی شادی کرکےاب ناتی پوتوں کی بہاریں دیکھ رہی تھیں۔پاکستان اورنظریہ پاکستان سےمحبت کا جوسبق شانو خالہ نے اپنے بچوں کو دیا تھا، اب وہ اپنی اولادوں میں منتقل کرنےکی کوشش کرتےتھے۔ مگراب ہرسال نئےزمانےنئےاندازسے جشنن آزادی منایا جانے لگا ۔قومی سطح پریوم آزادی سبزپرچموں،جھنڈیوں اور تیزموسیقی پر بے روح ترانوں کا نام بن کررہ گیا۔ بچے اوربڑے پرچم کے ہم رنگ ملبوسات پہنتے، باجے بجاتے،نوجوان بائیکوں پرہلا گلا کرتےبڑی بڑی سرکاری تقریبات ہوتیں جن میں نظریہ پاکستان کا ذکرکم کم ہی ہوتا اور یوں ایک دن کا ہنگامہ کرکےجشن آزادی ختم ہوجاتا۔ بس ان سب بے روح مظاہروں سے وہ ہی لوگ بچے ہوئے تھے جن کے والدین نے شانو خالہ کی طرح اپنے بچوں کی تربیت ایمان داری ملک سے وفاداری اور اپنے پیشے اور صلاحیتوں کو اس ملک کے لیۓ فائدہ مند بنانے کے لیۓ کی تھی۔ یہ لوگ پاکستان کےسچے وفادار ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنے والی قوتوں کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔




































