
نیرنگ خیال/ عریشہ اقبال
الوداع اے ڈھلتے ہوئے سورج
الوداع اے ماہِ دسمبر
یوں ہی چلتے ہوئے کچھ راستوں پر خیال گزرتا ہے
کہیں قدموں کو ثبات ملا اور کہیں ٹہر جانا لازم ہوا
زندگی کی کتاب میں کچھ صفحے خوشی کی سطروں سے بھرے ہیں اور اس کتاب کے کچھ اوراق بظاہر غموں کا عکس لگتے ہیں مگر اپنے اندر سبق آموز حقیقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کہیں محبتوں کے شجر ملے،کہیں عداوتوں کے ستم سہے یہی دھوپ چھاؤں کے مرحلے، مجھے رب کی باتیں بتا گئے اور دل کو بھی سمجھا گئے کہ گزرتے ہوئے شب و روز ہوں یا پھر موسموں کا تبدیل ہونا ۔
کوئی بھی شے میرے رب کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔ یہ سال بھی گزر جائے گا اور لوٹنےکا پیغام دے جائےگا غفلتوں کے بازاروں سے رحمتوں کے سائے کی طرف ،ابلیس کی مکاریوں سے نور لا الہ کی طرف ،نفس عمارہ سے نفس مطمئنہ کی طرف،شبِ ظلمت کے خوف سے طلوعِ سحر کی امید کی طرف ،آئیے عہد کرتے ہیں نفس کی ،لاظتوں سے اپنے وجود کو پاک کریں گے ۔عداوتوں سے محبتوں کو تبدیل کریں گے ۔کینہ پروری سے زنگ آلود دلوں کو توبہ کے آنسوؤں سے دھوئیں گے۔
اس نئے سال ہم رحمان کے بندوں میں شامل ہونے کی کوشش بجا لائیں گے ۔اللّٰہ تعالیٰ مجھے آپ کو اور امت مسلمہ کے تمام لوگوں کو اپنی راہ کے لیے خالص کرلیں اور اپنی رضا کے حصول کی خواہش رکھنے والوں اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل کرلیں آمین یا رب العالمین ۔




































