
سیدہ سمعیہ اعظم
زرا ایک انڑنیشنل برانڈ ہےجن کےکپڑےلاکھوں ڈالرکےہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں اس برانڈکی اشتہاری مہم میں ایک یہودی خاتون ماڈل کو فلسطین
کے جھنڈے کےساتھ کفن میں لپیٹےمجسمے اٹھائے جومسلمانوں کی میت کی طرح لگ رہے تھےدیکھا گیا۔ پورے یورپ اورامریکا میں احتجاجاً ناصرف ان کی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کیا گیا بلکه ان کے خریدے ہوے کپڑے بھی ان کے آؤٹ لیٹ پرلاکراحتجاج کیا کہ انہوں نے فلسطین کےمسلمانوں کا مذاق بنانے کی کوشش کی۔ اس برانڈ نےبعد میں بغیر فلسطین کے عوام سےمعافی مانگ لی۔
پاکستان میں بھی یہودی پروڈکٹ کا بائیکاٹ شروع ہوا تویہ بائیکاٹ بہت زبردست جارہا تھا لیکن کچھ لوگ جن میں ادکاراورمولوی حضرات او اینکر ہیں جنہوں نے اسے معاشی بدحالی اورلوگوں کے بیروزگاری سے تعبیرکیا اور کچھ ان کی باتوں سے شایدعوام بھی سستی ،ایک کے ساتھ ایک فری، ففٹی پرسنٹ ڈسکاؤنٹ یا پھراپنی پسندیدہ چیزکی چاہ کی لالچ نےاس بائیکاٹ پراثر اندازہونا شروع کیا۔ مالزاور دکانداروں نے یہودی برانڈ ہٹادی تھیں ۔ اب ان مالز اور دکانداروں نے یہودیوں کی پراڈکٹ نا صرف سامنےلگا دی ہیں بلکہ لوگوں نے خریدنی بھی شروع کر دی ہیں ۔ یہ افسوس کا مقام ہے ۔
کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہےاورکچھ قربان کرنا پڑتاہے،ہم اچھےمومن بننا چاہتےہیں فلسطین کی حمایت کرنا چاہتے ہیں مگر قربانی نہیں دے سکتے۔ جان اورمال تو دور کی باتیں ہیں ،ہم اپنی پسندیدہ چیزیں بھی نہیں چھوڑسکتےکیا، اگرزارا برانڈ کے کپڑے ہم پاکستانیوں کے
پاس ہوتے تو ہم وہ اتنے قیمتی کپڑے ان کی آوٹ لیٹ پرپھینک کران کومجبور کرسکتے تھے کہ وہ دل پرپتھر رکھ کربے نام ہی معافی مانگ لیتے جب ہم میکڈونلڈ اور کے ایف سی اور دوسری یہودی پروڈکٹ کےبائیکاٹ سےان کے ذریعےہم اسرائیل پر دباؤ ڈال رہے تھےکہ وہ فلسطین میں دہشت گردی بند کردے تب ہم میں سے کچھ بک گئے،ففٹی پریسنٹ ڈسکاؤنٹ پریا پسندیدہ چیزوں کے لیے جو صرف اس دنیا تک محدود ہے۔ فلسطینی توحاصل کررہے ہیں جنت اور شہادت اور پاکستانی حاصل کر رہے ہیں ڈسکاونٹ کا برگر، سرف اورکپڑے۔۔
کہتے ہیں مشکل اورتکلیف میں پتہ چلتا ہےکون اپنا ہےاورکون پرایا۔یہ تو وقت ہےبتانے کا کہ فلسطینی ہمارے اپنے بھائی اوربہن ہیں۔




































