
تنویر روف
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ہم کتنےمعصوم ہیں !کہتے ہیں پاکستان بہت خوش نصیب ہےکیوںکہ یہاں نو جوانوں کی تعداد سب ملکوں سےزیادہ ہے اس لئے پاکستان بہت ترقی کرسکتا ہے۔
کرسکتا ہے۔۔۔۔ ! کرتا تو نہیں
جوانوں کو بےکار کےمشغلوں سے فرصت کہاں۔وہ تو جنک فوڈ میں، پارٹی، موج مستی،جنس تبدیل کرانےاورایسی بے شمارحرکتوں میں پڑاہے۔نئےنئے نشے،فیشن اورٹیٹو بنوانے اوربلا وجہ انگریزی بول چال، نئی جینزکو بھی پھاڑکر پہننے میں فخر محسوس کرنے،لڑکیاں کم آستین والی قیمص یا کندھوں سے کلائی تک کپڑے سےمحروم ملبوسات پہننےاورملک سے باہرجا کر کمانے کی دھن میں لگے ہیں جیسے پردیس میں توشاہی تخت بچھا ہوان کے لیے۔
تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کوفیس سےمطلب، اساتذہ امتحان کےحساب سے،اہم چیزیں بتا کرخوش اورطلباء کو نمبروں سے مطلب۔نہ علم ،نہ کردار،نہ تہذیب۔ گھر میں مہمان آجائیں تو بچے اپنے کمروں میں بند، تجارت زوال کے بعد شروع ہوتی ہے۔ پا کستان کرچکا ترقی ۔۔۔۔۔
جوانوں کی نظرزندگی صرف عیش وعشرت کی طرف ہے۔ ریب جوان طبقہ نشہ آوورچیزوں اورجرائم میں مصروف۔ سب دین سے بے بہرہ۔اس ریوڑ نے کیا ترقی کرنی ہےجن کی صبح دن کے2 بجے ہوتی ہواور دن ،رات میں جاگتا ہوان سے امید چہ معنی؟
ہماری نسل بھی آئے دن ختم ہوتی جا رہی ہے۔ہم نےسمجھدار تعلیم یافتہ اور ہنر مند عمردار لوگوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں کونےمیں ڈال دیا ہے۔کسی جگہ کوئی وقعت نہیں۔
پہلے دادا دادی، نانا نانی بچوں کی تربیت میں اہم کردارکرتے تھےمگر آج ان کی ہر بات بے وقعت لگتی ہے۔ "دادا آپ کو کیا پتہ اب ایسا نہیں ہوتا۔۔ ارے نانی یہ آپ کا زمانہ نہیں ۔۔۔۔۔ وغیرہ سننے کو ملتا ہے۔
بزرگ اچھا کام بھی کریں تو پزیرائی نہیں ملتی۔




































