
ام ابوبکر سحر
سات سال کی عمرسےبچے کافی حد تک اپنا کام خود کرنے کےعادی ہوجاتےہیں لیکن بڑھتی عمراورجسمانی تبدیلیوں کے باعث اس
عمرکے بچے بہت سے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔
اسی دوران بلوغت کاسائیکل چلتا ہے۔ہارمونل چینجز بھی آتے ہیں۔دوستوں اور استاتذہ سے بے پناہ اثر لینےکا معاملہ بھی سات سے بیس سال کے بچوں میں عموما زیادہ پایا جاتا ہے۔ صحت کے اثرات اور میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو بلا سوچے سمجھے جذباتی طور پر اپنانےکا تاثر بھی عمومی طور پر ملتا ہے۔
والدین اور بزرگوں سے بدزبانی اس عمر کےبچوں میں عام پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی ہربات کو صحیح اوربزرگوں کی ہربات سےاختلاف برائے اختلاف کرنے کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں ۔ صحیح اورغلط کی تمیز سکھانے کا کام اگر اس عمر میں ڈنڈے کے زور سے کیا جائے تو وہ ڈنڈا گھوم کروالدین کے سرپرپڑنے کا بھی قوی امکان پایا جاتا ہے(ازراہ مذاق)
اس عمر کےبچوں کے والدین کو یہ بات سمجھنےکی ضرورت ہےکہ آپ کا بچہ اس وقت بہت سی ذہنی اورجسمانی تبدیلیوں سے گزررہا ہےاور آج کل کے دور میں سوشل میڈیا تک ہر بچے کی رسائی ہےتو وہ سوشل میڈیا پر غلط قسم کی دوستیوں میں بھی ملوث ہوسکتا ہے۔ نیزاپنے اسکول اورمحلے میں بھی بری صحبت کےاثرات لے سکتا ہے۔ صحبت کے علاوہ ہر انسان کے اندرآدم کی شخصیت بھی ہے اورشیطانی خصائص بھی۔ا ب اگر اس کو ایسا ماحول مل گیا کہ شیطانی جذبات حاوی ہوگئے تو وہ کسی قسم کے گناہ میں بھی ملوث ہو سکتا ہےاور اگر وہ آدم کی شخصیت کے سانچے میں ڈھل گیا۔ تو وہ گناہ پرتوبہ کرکے زندگی کو دوبارہ سے شروع کر سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اور گھر والےشروع کے سات سال بچوں سے اتنا مضبوط تعلق بنائیں کہ بچے گھر، ماں باپ، بہن بھائی کو اپنا ہمدرد دوست اور مشکل وقت کا ساتھی سمجھیں اور ان سے ہر اچھی اور بری بات مثبت اور منفی، شیطانی اور انسانی خیالات شیئر کرسکیں ۔ وقت پڑنے پرماں باپ سات سے چودہ سال کی عمر کے بچوں کے دوست بنیں اور ضرورت پڑنے پر ڈانٹ اور زبردستی بھی کریں لیکن یہ سب شروع کے سات سال پر منحصر ہےکہ بچہ آپ کو اپنے مسائل بتاتا ہےیا چھپاتا ہے۔ مسائل بتانے پراسے ڈانٹنے یا خاندان کے سامنے بدنام کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مل کر مسائل کا حل تلاش کرہں اور رب تعالیٰ کاشکر ادا کریں کہ مسائل میں آپ کا بچہ آپ کے پاس آیا ہے ۔گھر سے باہر کسی منفی شخص کے منفی عزائم اور ناجائز خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھ گیا۔




































