
سیدہ فاطمہ تحریم
کسی بھی جنگ کو لڑنے سے پہلے اس کی حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی ہے۔ یہ معلوم کیا جاتا ہےکہ ہمارا مقابل دشمن کن ہتھیاروں سے لیس ہے۔
کتنی جنگیں ہیں جو وہ اب تک لڑچکاہے ۔ کتنوں میں وہ اب تک ناکام ہوا ہے ، اور کتنوں میں کامیاب ٹھہرا ہے۔اس کی کامیابی اور ناکامی کی کیا وجوہات رہی ہیں۔ خاص طور پر اس کی طاقت کے ساتھ اس کی کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھا جاتاہے، تاکہ اپنا ہدف وہاں مضبوط رکھا جا سکے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنی کمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی جاسکے۔
لیکن اگر جنگ آپ پر اچانک مسلط کی جائے تو آپ کی دفاعی پوزیشن مظبوط نہ ہونے کی صورت میں آپ کو کافی نقصان اٹھاناپڑتاہے۔ لیکن یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ ، دفاعی پوزیشن ان قوموں کی مضبوط ہوتی ہیں جو بیدارہوتی ہیں ۔ جو آنے والے خطرات سے پہلے ہی واقف ہوتی ہیں ، اور بروقت اس مصیبت کا دفع کرکے قوم کو بڑے نقصان سے بچالیتی ہیںلیکن دوسری جانب ، خوابِ غفلت میں پڑی قومیں اپنے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کےلئے بھی بھاری نقصان کا سبب بنتی ہیں۔
افسوس ، ہمارا حال اس دوسری قسم والی قوم جیسا ہے ۔ ہم اس جنگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں جوہمارے بزرگوں کی دانستگی یا نادانستگی کے سبب ہم پر مسلط ہوگئی ہےاور اب ہم چاہتے ہوئے یانہ چاہتے ہوئے اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔یہ وہ جنگ ہے جیسے ہتھیاروں ، میزائیلوں اور ٹینکوں سے نہیں ۔۔۔ بلکہ شعور اور دانشمندی سے لڑنا اور جیتنا ضروری ہے۔ اور شعور اور دانشمندی کی پہلی سیڑھی ” علم “ ہے۔۔۔
وہ علم جو اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو عطاکیا تھا۔ وہ علم جس نے انہیں تمام مخلوقات میں افضل مقام دلوایا تھا۔۔۔وہ علم جس کی بنا پرفرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا تھا۔۔۔وہی علم جس کا پتہ دینے کےلئے اللہ پاک نے وقتاََ فوقتاََ اپنے نبی اور رسول بھیجے تھے اور پھراس کا اختتام اپنے حبیب حضرت محمدﷺ کی مبارک ذاتِ گرامی پر کیا تھا۔ نبی کریمﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی۔۔۔ جس کی ابتدا ان الفاظ کے ساتھ ہوئی تھی” اقرائ۔۔۔“ یعنی ” پڑھ۔۔“” پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے۔۔۔“
قرآنِ کریم اپنی قسم کی وہ واحد کتاب ہے جس میں نسلِ انسانی کی ضرورت کے مطابق ،کائنات کی ہر شے کا علم موجود ہے۔لیکن اس علم کو تلاشنے کے لئے بصیرت والی آنکھ کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ اس کتاب میں صرف توحید، عقائد ، آخرت ، ملائکہ ، رسول ، عبادات اور اخلاقیات کا ہی علم نہیں ۔۔۔ بلکہ سیاست، معاشرت، قانون، اقتصادیات، اعمرانیات ، بائیو، کیمسٹری، فزکس، ریاضی الغرض ان سے منسلک تمام علوم کا علم موجود ہے۔ اور یہ تمام وہ علوم ہیں ، جو انسان کو اس کے رب کی پہچان کرواتے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس کتاب سے صرف احکامی آیات ہی نکالی ہیں، یاپھر اس کے بعد فضائل اور برکات ہی تک رسائی حاصل کرپائیں ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی ہمارے اس طرزِ عمل کے برعکس قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ۔۔۔” آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ، اور رات دن کے ہیر پھیر میں ، یقیناعقلمندوں کےلئے نشانیاں ہیں۔۔۔جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پرلیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں، اے ہمارے پروردگار !تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا ہے ۔
تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔۔۔“ ( سورةآلِ عمران۔۔۔آیت نمبر ۱۹۰،۱۹۱۔۔)
قرآنِ کریم کی یہ آیت صاف ظاہر کرتی ہے کہ غور و خوض، اور تفکر اور تدبر حکمِ خداوندی ہے۔اس کے بغیر علم وحکمت کے دروازے نہیں کھل سکتے ہیں ۔ اور اگر یہ دروازے نسلِ انسانی پر مقفل ہوجائیں تو تاریخ ِ انسانی کا سفر رک جاتاہے۔ اور نسلِ انسانی تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں نے اپنے سفر کے ابتدائی دور میں اس ہی تفکر اور تدبر کے ذریعے سائنسی علوم میں ناصرف بیش بہا اضافہ کیا تھا بلکہ نسلِ انسانی کو قرآنی احکامات کی روشنی میں تسخیرِ کائنان کی ترغیب بھی دی تھی۔یہی وہ دور تھا جب مسلمانوں نے ساری دنیا پر اپنا سکہ بیٹھایا تھا۔( بلکل اس ہی طرح جس طرح آج یورپ اپنا سکہ ساری دنیا پر بیٹھا چکا ہے۔۔۔)لیکن اسپین کے زوال کے بعد رفتہ رفتہ یہ تمام علوم مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آگیا جب ہم بیڑیاں ڈالی ہوئی غلامی کے ساتھ ساتھ ، ذہنی غلامی کا بھی شکار ہوگئے۔
اس ذہنی غلامی نے آہستہ آہستہ ہمیں یہ باور کروانا شروع کردیا کہ دینی اوردنیاوی دونوں علوم ایک دوسرے سے الگ اور جدا جدا ہیں۔ دینی علوم وہ ہیں جن میں اللہ کی وحدانیت ، رسول کی اطاعت اور شریعت کا علم موجود ہو ۔ اس کے سوا ہر وہ علم جو اس دائرے سے باہی آتا ہو ، غیروں کا علم ہے۔ کیونکہ اس پر حکمرانی غیروں کی ہے۔ اور ہماری ان سے نفرت کا تقاضہ یہ ہے کہ ان سے منسلک ہر چیز کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔یہ وہ باتیں ہیں جو صرف محسوس ہی نہیں کی جاتیں بلکہ برملا اظہار بھی کی جاتی ہیں۔
ان ساری باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم مسلمان دو طرح کے طبقوں میں بٹ گئے۔ ایک طبقہ وہ جو دینی علوم کوحق سمجھتا ہےاوردوسری وہ جو دنیاوی علوم کو ضروری قرار دیتا ہے۔ لیکن بات صرف یہاں تک ختم نہیں ہوجاتی ہے ۔۔۔ بلکہ اس سے بھی کچھ بڑھ کر ان میں سے کچھ لوگ اپنے اپنے نظریات میں شدد پسندی کی جانب راغب ہوتے چلے گئے۔ آہستہ آہستہ اس شدد پسندی کے باعث پہلے طبقہ کا خیال یہ بن گیا کہ دینی علوم کے علاوہ ہر علم باطل ہے ، اور اس کا حصول ایک مسلمان کو راہِ حق سے بھٹکا سکتاہے۔جبکہ اس کے برعکس دوسری طبقہ دنیاوی علوم کو حق جان کر براہِ راست یورپ ہی کو سجدہ کرنے لگا۔۔۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ اس حد تک چلا گیا کہ قرآن ِپاک اور رسولﷺکی سنت ہی کو (نعوذبااللہ) دقیانوس قراردینے لگا۔۔۔یہ سب کچھ صرف اس لئے ہوا کیونکہ ہم نے ہروہ علم جواللہ کی پہچان کروانے کا وسیلہ تھا،اسے اس کے مرکز سے نکال کر منتشرکردیا۔اب ہم خلاﺅں میں ادھر ادھر ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں ، لیکن سطح ہے کہ ہمیں مل کر ہی نہیں دے رہی۔۔۔جس پر ہم اپنے قدم جماسکیں۔ ان ساری باتوں کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے دینی اور دنیاوی دونوں علوم کو ازسرِ نوترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی تو اس سے آگے ہمارا ہرعمل بے کار ثابت ہوگا۔
دوسری اور سب سے اہم بات ، جو میں نے اپنی بات کےآغاز میں کی تھی کہ کوئی بھی جنگ لڑنے سے پہلے اس کی حکمتِ عملی ترتیب دی جاتی ہے، اور اپنے مقابل دشمن کی طاقت اور کمزرویوں کو جانچنا ضروری ہوتا ہے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہاں بھی اعتراف کرناپڑرہاہے کہ ہم اس میدان میں بھی بہت پیچھے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جہاں غیروں نے بے انتہاترقیاں حاصل کی ہیں ،ہم مسلمان اس کا ایک فیصد بھی حاصل نہیں کرپائے ہیں۔ ہم ہر وہ چیز استعمال کررہے ہیں جو ان کی ایجاد کردہ ہیں ۔ آسان لفظوں میں ” ہم ان کی ایجادات پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں۔۔۔“جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہوم گراﺅنڈ ان کا ہونے کے سبب ہر کھیل وہ خود ترتیب دے رہے ہیں۔ اور آسانی سے جیت رہے ہیں۔ اور ہم کھڑے حیرت اور مرعوبیت کا شکار ہوتے ان پر تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا ، جب تک کہ ہم خود ان کے مدمقابل نہیں آجاتے۔ لیکن یہ ہوگا کیسے۔۔۔؟؟قوم میں شعور بیدار کرنے سے ۔۔۔ جو علم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔




































