
انیقہ صلاح الدین
الحمداللہ امت بیدار ہورہی ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان بائیکاٹ مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اوراحتجاج ریکارڈ کروار ہے ہیں۔حال ہی میں آئی بی اے کے طلباء کی جانب سے کوکاکولا
کے خلاف کیا گیا احتجاج شعورکی ایک نئی لہر ہےلیکن ان سب کے باوجود اگر اسلامی ریاستیں ہی صیہونی ایجنڈے پرکام کر رہی ہوں تو نتیجہ 10فیصد بھی نہیں ملتا جس کی مثال اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اورمعصوم فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی ہے۔
امت کے ہرفرد کا یقیناً یہ دل کرتا ہوگاوہ تمام حکمرانان اسلام کو ان کی بےحسی اور بے غیرتی پراسی طرح اک آگ کا گڑھا کھود کر پھینک دیں جس طرح اصحاب الخدود نے اہل ایمان کو ڈالاتھا لیکن وہ ایسا کرنےسے قاصر ہیں کیوں۔۔؟ کیونکہ ایک فرد کے پاس وہ طاقت، اختیاراوراقتدار نہیں، لہٰذا ہمیں جہاں انفرادی طورپراپنی ذمہ داری سےغافل نہیں ہونا ، وہیں اپنےحکمرانوں کا گریبان بھی پکڑناہے۔کیوں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء کرام سے سوال ہوگا ،اس لیے کہ وہ اپنی امت کے لیڈرتھے۔ وہ اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوں گے۔ہمیں صرف اپنے حصے کا کام نہیں کرنا بلکہ حکومت وقت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا ہوگا۔
اس ضمن میں مفتیان کرام اورعلمائے دین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ ان بے غیرت حکمرانوں کے خلاف تحریک چلائیں، جہاد کا فتویٰ اور اس کو فرض کر بھی دیں تو وہ کون سےذرائع ہوں گے جو جذبہ جہاد سےسرشار مسلمانوں کو وہاں لے جائے۔ لہٰذا مفتیان کرام اور علمائے دین بھی ان بے حس حکمرانوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کےخیالات ست متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































